تھر متاثرین کیلئے ایک ارب روپے امداد کا اعلان‘ گندم کی تقسیم میں کوتاہی‘ سندھ حکومت کارروائی کرے : وزیراعظم

11 مارچ 2014
تھر متاثرین کیلئے ایک ارب روپے امداد کا اعلان‘ گندم کی تقسیم میں کوتاہی‘ سندھ حکومت کارروائی کرے : وزیراعظم

تھر/ مٹھی (بی بی سی+ نیوز ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) وزیرِاعظم ڈاکٹر محمد نواز شریف نے صوبہ سندھ میں قحط سالی کے شکار علاقے تھر کے لیے ایک ارب روپے امداد کا اعلان کرتے ہوئے گندم کی تقسیم میں کوتاہی برتنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق انہوں نے یہ اعلان تھر کے دورے کے دوران مٹھی میں قحط زدہ علاقے کی صورتِ حال کے حوالے سے بریفنگ کے دوارن کیا۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ ایسے حالات دوبارہ رونما ہونے سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ انھوں نے قحط سالی کی وجہ سے اموات پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ علاج کے لیے دوسرے علاقوں میں جانے کے لیے تیار نہیں انھیں موبائل یونٹس کے ذریعے ان کے گھروں میں علاج فراہم کیا جائے۔ نواز شریف نے کہا کہ ان ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے جنھوں نے گندم کا ذخیرہ ہونے کے ہونے کے باوجود اسے قحط زدہ لوگوں میں تقسیم نہیں کیا۔ اس موقع پر سندھ کے وزیرِاعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے متاثرین کو خوراک اور ادویات مہیا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں اس قسم کی صورتِ حال سے بچنے کے لیے حکمتِ عملی تیار کر لی گئی ہے۔ وزیرِاعلیٰ سندھ نے کہا کہ متاثرین میں گندم تقسیم کرنے کے لیے 5 سے 6 افراد پر مشتمل ٹیمیں بنائی گئیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو علاقے میں خاتون ڈاکٹروں کی کمی کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو خواتین ڈاکٹر تھر میں کام کرنا چاہتی ہیں انھیں زیادہ تنخواہ، مراعات، رہائش اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ اس سے پہلے وزیراعظم نواز شریف نے مٹھی کے سول ہسپتال کا دورہ کیا اور متاثرہ بچوں کی بیمار پرسی کی۔ انھوں وہاں ہسپتال کے عملے کو بچوں کے علاج کے لئے ہرممکن اقدامات کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اس موقع پر وزیراعظم کے ہمراہ سندھ کے وزیرِاعلیٰ قائم علی شاہ اور بلاول بھٹو زرداری بھی موجود تھے۔  پی ٹی وی کے مطابق تھرپارکر پہنچنے پر ضلعی افسر نے وزیرِاعظم نواز شریف کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ متاثرین میں خوراک کے 6 ہزار تھیلے اور گندم کی ایک لاکھ پچیس ہزار بوریاں تقسیم کی جا چکی ہیں۔ ضلعی افسر نے بتایا کہ قحط سالی سے مال مویشیوں کو زیادہ نقصان ہوا جس میں زیادہ تر بھیڑیں شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ علاقے میں مال مویشی لوگوں کا بڑا ذریعہ معاش ہے اس لیے مویشیوں کو بھی ویکسین لگائی گئی ہے۔ اس سے پہلے بلاول بھٹو پیر کی صبح مٹھی پہنچے تو ان کی آمد سے پہلے پولیس نے پورے شہر کو ہی حصار میں لے لیا تھا، پبلک ٹرانسپورٹ شہر میں داخل نہیں ہوسکی جبکہ شہر کے بازار بند رہے۔ بلاول بھٹو نے ہسپتال پہنچ کر مریضوں کی عیادت کی، یہ ان کا اس نوعیت کا پہلا عوامی رابطہ تھا۔ بلاول بھٹو نے وزیرِاعظم ڈاکٹر محمد نواز شریف کا استقبال کیا اور دونوں نے دوبارہ ہپستال کا دورہ کیا۔ اس دوران بھی مریضوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، سرکاری میڈیا کے مطابق نوازشریف نے تھر میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر دکانیں بند ہونے اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ کے چیف سیکرٹری کو تمام سرگرمیاں بحال کرنے کا حکم دیا۔ وزیراعظم نے سندھ حکومت کی جانب سے دئیے گئے ظہرانے کی دعوت میں شرکت سے معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی خزانے کی رقم کھانوں پر خرچ کرنے کی بجائے متاثرہ افراد پر خرچ کی جائے۔ وزیراعظم نے تھر کے لوگوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کھانا کھانے سے انکار کر دیا۔ وزیراعظم نے مٹھی میں سکیورٹی کے نام پر کئے جانے والے انتظامات کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ مریضوں کو کسی صورت تکلیف نہیں پہنچنی چاہئے، مٹھی کے تمام ہسپتال کھول دئیے جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت خشک سالی سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کرے گی اور اس سلسلے میں انہوں نے سندھ حکومت کو یقین دلایا کہ وفاق اس بحران پر قابو پانے کے لئے مکمل تعاون کرے گا۔ وزیراعظم کو تھرپارکر میں خشک سالی سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ تھرپارکر کے مکینوں میں گندم کی تقسیم کے معاملے میں غفلت برتنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ انہوں نے لوگوں کو اشیاء خوردنی اور پینے کا صاف پانی فوری فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ تھر میں بہت جلد خوشحالی آئیگی، لوگ  اپنے گھروں میں دوبارہ آباد ہوں گے، یہ صورتحال عارضی ہے جلد ہی حالات  بہتر ہو جائیں گے۔  وہ متاثرین کے  لئے بنائے گئے  فوج کے امدادی اور میڈیکل کیمپ  کے  دورہ کے موقع پر متاثرین سے بات چیت  کر رہے تھے۔ وزیراعظم نے آرمی چیف میڈیکل کیمپ کے دورہ کے موقع پر متاثرین میں امدادی سامان بھی تقسیم کیا جبکہ فوجی میڈیکل کیمپ میں موجود مریضوں کی خیریت بھی دریافت کی۔ وزیراعظم میرپور خاص  سے بلاول بھٹو  زرداری کی گاڑی  میں بیٹھ کر  مٹھی ڈسٹرکٹ  ہیڈ کوارٹر ہسپتال گئے۔  وزیراعلیٰ  سندھ قائم علی شاہ نے کہا کہ  وزیراعظم نواز شریف نے  ہمیشہ سندھی عوام کی مدد کی  اور ان کی مدد اور تعاون  پر سندھ حکومت نواز شریف کی شکر گزار ہے۔ وزیراعظم نوازشریف قحط اور بیماری سے ہونے والی اموات اور ریلیف سرگرمیوں بارے سیکرٹری صحت سندھ اور ڈی سی تھرپارکر کی بریفنگ کے دوران انتہائی فکرمند اور سنجیدہ دکھائی دئیے۔ وزیراعظم بریفنگ کے دوران اہم نکات نوٹ بھی کرتے رہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم سندھ حکومت اور انتظامیہ سے خاصے اکھڑے اکھڑے دکھائی دئیے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ تھر اور چولستان کی آب و ہوا اور موسمی حالات میں کوئی فرق نہیں، دونوں علاقے رسم و رواج، روایات، رہن سہن کی وجہ سے ملتے جلتے ہیں، چولستان میں تو ایسے حالات نہیں، وزیراعلیٰ سندھ ساری صورتحال کا جائزہ لے کر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ صوبائی وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ضلع تھرپارکر میں خوراک کی کمی کی وجہ سے بچوں کی اموات نہیں ہوئیں بلکہ تھر کے 80 فیصد حصے میں شدید قحط سالی کے باعث اموات ہوئی ہیں اور بچوں کی اموات کے حوالے سے اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ اموات کی شرح اس علاقے میں معمول ہے اور پچھلے سال 196 اور اس سال 49 بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔
مٹھی+ اسلام آباد (این این آئی+ آن لائن) سندھ حکومت، مقامی انتظامیہ، سرکاری اداروں اور فلاحی اداروں کی جانب سے صحرائے تھر میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن بھوک اور پیاس سے نڈھال عوام کی مشکلات تاحال برقرار ہیں اور ہزاروں دیہات میں اب بھی امدادی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکیں۔ بچے غذائی قلت کا شکار ہوکر نمونیا، بخار، دست و قے، خون و وزن کی کمی اور ہیپا ٹائٹس جیسے موذی امراض کا شکار ہورہے ہیں جبکہ حاملہ خواتین بھی خوراک نہ ملنے کے باعث آئرن کی کمی کا شکار ہیں۔ حیدر آباد میں زیر علاج مزید 6 بچے جاں بحق ہو گئے جس کے بعد جاں بحق بچوں کی تعداد 125 سے تجاوز کر گئی ہے۔ لوگ اپنے مال مویشیوں کے ہمراہ مٹھی اور اسلام نگر کی جانب نقل مکانی کررہے ہیں لیکن ہزاروں افراد اس سفر سے بھی قاصر ہیں اور وہ امداد کے سہارے سانسیں کاٹ رہے ہیں۔ ادھر تھر میں بچوں کی ہلاکت پر حکومت سندھ نے وزیر خوراک سمیت دیگر افسروں کو عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بروقت گندم فراہم نہ کرنے پر محکمہ خوراک کے متعدد افسروں کو بھی ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کو وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے تھر میں امدادی کارروائیوں میں ارباب غلام رحیم اور میڈیا کا نمائندہ شامل کرنے کی پیشکش کردی۔ بریفنگ میں وزیراعلیٰ نے خاص طور پر میڈیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کے نمائندہ کے طور پر ارباب غلام رحیم اور تھر سے تعلق رکھنے والے ایک اخباری نمائندے جو بہت بڑھا چڑھا کر غلط خبریں دے رہا ہے اس کو شامل کرنے کو تیار ہوں۔ دریں اثناء ہنگامی حالت سے نمٹنے کے قومی ادارے نے کہا ہے کہ اگلے تین مہینوں کے دوران خشک سالی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ تھر کے رہائشی ڈاکٹر سونو کھنگرانی کے بقول موجودہ صورتحال واضح کر رہی ہے کہ حکومت ان مسائل سے کتنی لاپرواہ ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈوئچے ویلے سے باتیں کرتے ہوئے ڈاکٹر کھنگرانی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے گزشتہ برس اگست میں ہی خشک سالی کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے باوجود سندھ حکومت نے منصوبہ سازی کی جانب کوئی توجہ نہیں دی۔ این ڈی ایم اے کے ایک اہم افسر بریگیڈیئر مرزا کامران ضیاء نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ان کے ادارے کو بھی اگلے تین ماہ کے حوالے سے خاصی تشویش ہے۔ ریلیف کمشنر حکومت سندھ کی طرف سے جاری ایک نوٹیفکیشن کے تحت تعلقہ اور ضلع عمر کوٹ کی 25 دیہوں کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔ دیہہ ڈن مور، شاخرو، موکھل با، دودھڑ، لپ لو، ھورنگو، کپلور، لال با، کچولی، سونہری ، عمر کوٹ تھر، ویروتھر، کھل رال تھر، کھاؤروتھر، بھرائی تھر، دیت با، جانیہرو تھر، سدوھری تھر، صابھری تھر، تار سمو، سنوئی تھر، نبی سر تھر، راجڑ تھر، راجڑی تھر اور چھوڑی تھر کو آفت زدہ قرار دیا ہے۔ ادھر ڈیپلو تھرپارکر کے قریب پانی بھرنے پر تصادم میں 9 افراد زخمی ہو گئے۔ ایک آزاد ذرائع کے مطابق تھر میں اس وقت مختلف ہسپتالوں میں 2600 سے زائد بچے زیر علاج ہیں جبکہ ایک ہفتہ کے دوران 150 کے قریب بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ دریں اثناء حکومت سندھ نے تھر پارکر کے متاثرین کی امداد کے لئے 65 کروڑ روپے کے فنڈز ہنگامی طور پر جاری کردیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 65 کروڑ روپے میں سے 36کروڑ روپے ریلیف کمشنر کو جاری کئے گئے ہیں۔