سپورٹس فیسٹیول

11 مارچ 2014

مکرمی ! لاہور میں وزیر اعلیٰ سپورٹس فیسٹیول میں پنجاب بھر سے ہزاروں طلبا و طالبات نے شرکت کی جنہوں نے اپنی اپنی ڈویژن میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خان اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے جنہوں نے نوجوانوں کیلئے ایک اچھی تفریح کا موقع فراہم کیا۔ 56263 نوجوانوں کے ہاتھوں میں قومی پرچم لہرا کرعالمی ریکارڈ قائم کیا جبکہ مزید 28 عالمی ریکارڈ قائم کئے گئے جو ہمارے لئے ایک بہت بڑے اعزاز کی بات ہے جس پر پورا ملک خوشی و مسرت کی کیفیت میں ہے اس یوتھ فیسٹول پر بھی تنقید کی جا سکتی ہے کہ اربوں روپے اس پر لگا دئیے گئے ہیں لیکن نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے اس طرح کے مواقع فراہم کرنا بہت ضروری ہیں۔ سکول کالجز کی سطح سے لے کر تعلیمی بورڈ اور ڈویژن کی سطح پر نئے ٹیلنٹ سامنے آئے ہیں یہ سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ ہمارے نوجوان تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کو بھی جاری رکھتے ہوئے کرکٹ، ہاکی، فٹ بال، بیڈ منٹن سمیت دیگر کھیلوں کیلئے نئے اور اچھے کھلاڑی دستیاب ہو سکیں۔ اس سلسلہ میں ضلعی اور تحصیل سطح پرمزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر موجود ہیں لیکن مجھے ایک ضلع کا نام بتایا جائے جس میں ان کی وجہ سے ایک بھی کھلاڑی پیدا کیا جا سکا ہو اسی طرح ہر تحصیل میں تحصیل سپورٹس آفیسر بھی موجود ہیں لیکن ان کی وجہ سے ایک بھی کھلاڑی نہیں بنایا جا سکا بلکہ لاکھوں روپے کے فنڈز ہڑپ کئے جا رہے ہیں اس کی بجائے پرائیویٹ کلب کھلاڑیوں کی نرسری کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ان کی وجہ سے ہی سپورٹس کا نام قائم ہے۔ ان حالات میں سپورٹس کا محکمہ کیا کر رہا ہے جبکہ ماہانہ کروڑوں روپے ان کی تنخواہوں پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ جناب وزیر اعلیٰ صاحب، گورنر اور وزیر کھیل ضلعی سطح پر سپورٹس کے تمام دفاتر بند کرکے نیک نام کلبز کی سرپرستی کرکے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں اور تمام قومی کھیلوں کو فروغ دے کر ملک کا نام بھی روشن کیا جا سکتا ہے اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیاں جاری رکھنے میں بھی آسانی ہوگی۔(چوہدری عبدالرزاق ۔ 101-W ہاؤسنگ کالونی چیچہ وطنی۔  03326622786)