ینگ وکلاء کی حق تلفی پنجاب بار کونسل بیدارہو۔۔۔۔!

11 مارچ 2014
ینگ وکلاء کی حق تلفی پنجاب بار کونسل بیدارہو۔۔۔۔!

مکرمی: پنجاب بھر میں نوجوان وکلاء سنگین مسائل کا شکار ہیں پنجاب کی اکثر ڈسٹرکٹ بار کونسل ان کے ساتھ امتیازی برتائو کررہی ہیں عدل اور انصاف کی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان وکلاء میایوسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں پنجاب بارکونسل اس ضمن میں جاندار کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آئی ہے۔ 2 پنجاب کے اکثر اضلاع میں بالخصوص چمبرز کی تقسیم کے حوالے سے بدترین ناانصافی ہورہی ہے میرٹ کو نظر انداز کرکے پسند اور ناپسند کی پالیسی قانون کا درجہ اختیار کرچکی ہے ڈسٹرکٹ شیخوپورہ بار اس حوالے سے اپنی مثال آپ ہو چکی ہے۔3 سابق صدر ڈسٹرکٹ بار شیخوپورہ سیشن 2012نے نئے چمبرز کی تقسیم میں انسانی تاریخ کی سب سے بڑی بددیانتی کی مثال قائم کی ہے میرٹ پر آنے والے نوجوان وکلاء کے ساتھ نوسربازی کی گئی اور ان کو بہلانے کے لئے صرف چوسنی کا سہارا لیا گیا شیخوپورہ بار کے نوجوان عرصہ دوسال سے خوبصورت انداز میں احتجاج کررہے ہیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی آخر کار شیخوپورہ کے ینگ وکلاء نے انصاف کے لئے اپنا کیس پنجاب بار کونسل کو ارسال کیا کئی بار یاد دھانی کے باوجود کیس ابھی تک زیر التوا ہے انصاف میں تاخیر سب سے بڑی ناانصافی ہے۔ 4چیئرمین پنجاب بار کونسل سے استدعا ہے کہ سابق صدر کی خواہش پربنائی گئی انکوائری کمیٹی فوری ختم کی جائے اور پنجاب بار کونسل اپنی سطح پر غیر جانبدار کمیٹی بنائے جو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دے۔(ضیاء الاسلام سلیمی ایڈووکیٹ، وہاب عالم ایڈووکیٹ)