کشمیریوں کی پاکستان سے محبت

11 مارچ 2014


خبر کے مطابق ایشیا کپ کے میچ میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی شکست پر فتح کا جشن منانے والے کشمیری نوجوانوں پر حملہ کر کے وحشیانہ تشدد کیا ہے جس سے طالب علم شہید ہو گیا تھا، جواہر لعل نہرو انسٹی ٹیوٹ میں زیر تعلیم 130 طالب علموں کو بھی پاکستان کا میچ جیتنے کی خوشی منانے پر انتظامیہ نے نہ صرف نکال دیا بلکہ فی طالب علم 5000/- روپے جرمانہ بھی کیا، یہ عمل پورے کشمیر میں پاکستان کی حمایت میں خوشی منانے پر پہلی بار نہیں بلکہ 67 سالوں سے جاری ہے، پرامن کشمیری پاکستان کی محبت میں کھل کر اظہار کرتے ہیں اور اپنے گھروں میں پاکستانی پرچم کو لہراتے ہیں، دوسری طرف مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیر اعلیٰ کے والد فاروق عبداللہ نے کشمیریوں کو مہاچور قرار دیا ہے، ان کے اس ریمارکس پر مقبوضہ کشمیر کی کٹھ پتلی اسمبلی میں زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی، حزب اختلاف کی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے واک آؤٹ کیا اور مطالبہ کیا کہ کشمیری کو مہاچور قرار دینے پر کشمیری قوم سے معافی مانگی جائے۔ فاروق عبداللہ کے والد شیخ عبداللہ نے سواد اعظم جماعت آل جموں کشمیر مسلم کونسل کو چھوڑ کر سیکولر نظریہ اپنایا اور نیشنل کانفرنس بنائی تھی لیکن اس میں کوئی غیر مسلم شامل نہ ہوا تھا جہاں شیخ عبداللہ کے اس اقدام سے تچریک آزادی کشمیر کو نقصان پہنچا وہاں کشمیری 67 سال سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں، اس کا سارا ثواب شیخ عبداللہ کی روح کو مل رہا ہے لیکن سیکولر کا سارا اثر شیخ عبداللہ کے اپنے خاندان پر ہوا ہے، یہ خاندان بھٹک گیا، اب نہ پتہ چلتا ہے یہ لوگ مسلمان ہیں یا ہندو۔ ہندو، سکھ اور عیسائی مذہب سے رشتہ داریاں جوڑنے پر وہ پچھتا رہے ہیں، اب فاروق عبداللہ کو کشمیری مہاچور نظر آ رہے ہیں جن سے ووٹ لے کر وہ قیام پاکستان سے حکومت کر رہے ہیں، اپنے اپنے حصے کا قرض دنیا و آخرت دونوں جگہوں میں دینا پڑتا ہے، جیسے بھارت میں عام انتخابات نزدیک آ رہے ہیں، بھارت کی پاکستان دشمنی اور جنگ کرنے کا ماحول بھی کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت تعلقات خوشگوار ہونا کس کی خواہش نہیں ہے لیکن بھارت کی صرف یہ خواہش ہے کہ کشمیر اسے دے دیا جائے، پاکستان بھارت کی بالادستی قبول کرے۔ بھارت کا اصل مقصد پاکستان کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کر کے پوری دنیا میں بدنام کرنا اور جنگی ماحول پیدا کرنا ہے کیونکہ ان باتوں کے ساتھ امن کی آشا محض ڈرامہ ہے جس میں ہمارے میڈیا کے لوگ بھی شامل ہیں، موجودہ حکومت کو سمجھ لینا چاہئے کہ بھارت جب تک تمام معاملات حل کرنے میں نیک نیت نہیں ہو گا اس سے توقع رکھنا فضول ہے، بیک ڈور ڈپلومیسی اور بار بار بے مقصد مذاکرات سے ہمیں کچھ حاصل نہ ہو گا لیکن بھارت کو دنیا کو دکھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ بھارت ساری دنیا کے سامنے اپنے ترقی، امن اور بڑی جمہوریت کا چہرہ دیکھانا چاہتا ہے لیکن اس کے ماضی سے پاکستان کی دشمنی صاف نظر آ رہی ہے۔ الزام پہ الزام لگا کر، پانی بند کر کے ہمارے حصے کے دریاؤں پر ڈیم بنا کر ہماری زمینوں کو بنجر بنا رہا ہے۔ افسوس ہمیں حکومت پاکستان اور بالخصوص میاں نوازشریف پر ہے جن سے کشمیریوں کی بڑی توقعات تھیں، ہم کیوں بھارت کو ہر قسم کی رعایت دینے کو تیار بیٹھے ہیں، بھارت سے تجارت ہر لحاظ سے خسارہ ہے، ہم بھارت کی اشیا اپنی منڈیوں میں لا کر اپنی انڈسٹری بالکل ختم کر دیں گے بلکہ معاشی لحاظ سے ملک کو تباہ کرنے کی سازش ہے۔ تجارتی، اقتصادی اور دفاعی لحاظ سے ہمارا ملک کمزور ہو گا، افغانستان اور وسطی ایشیا کی ریاستوں تک بھارت کو راستہ دینا ایسا ہی ہے جیسا ایسٹ انڈیا کمپنی نے انڈیا میں داخل ہونے کا راستہ حاصل کیا تھا، اندرون ملک تو ہم بری طرح ناکام ہو چکے ہیں، خارجہ پالیسی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے بھائی سعودی عرب نے بھی بھارت سے دفاعی معاہدہ کر لیا ہے اور ہمارا برادر ملک ایران بھی ہم سے دور ہو رہا ہے، حکومتی وزرا تو دن رات اپنی کامیابی کا اعلان کر رہے ہیں، ہمیں کامیابی کے لئے پاکستان کے استحکام، مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے قائداعظمؒ کے سنہری اصولوں پر عمل کرنا ہو گا، اس بنیاد پر دو قومی نظریہ کے تحت پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔ تب ہی ہم مکار اور ہندو بنیئے کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔