وزیر اعلیٰ مذاکرات کرنے کیلئے ناراض بلوچ رہنماؤں سے رابطے میں ہیں: صوبائی وزیر داخلہ

11 مارچ 2014

کوئٹہ(این این آئی)صوبائی وزیرداخلہ میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ صوبے کو درپیش مسائل کے حل کی خاطر مذاکراتی عمل کو شروع کرنے کیلئے ’’ناراض بلوچ رہنماؤں‘‘ سے رابطے میں ہیں۔صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ باغی بلوچ رہنماؤں سے رابطہ کرنے اور مفاہمت کے لیے مذاکراتی عمل شروع کرنے کیلئے وفاقی حکومت اور بلوچستان اسمبلی نے وزیر اعلیٰ کو اختیار دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کچھ رہنماؤں سے رابطہ بھی کیا تھا اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کررہے تھے ایک سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ کسی بھی قسم کی پیش رفت سے میڈیا کو مطلع کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ صرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔صوبائی وزیر داخلہ نے وفاقی حکومت کے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ وزیراعظم نواز شریف کی سیاسی حکمت عملی تھی کہ سخت تحفظات کے باوجود انہوں نے ملک میں جنگ کی سی صورتحال کے خاتمے کے لیے بات چیت کو ایک موقع دینے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ بلوچ گروپس دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان کے ساتھ مذاکرات میں کوئی نقصان نہیں صوبے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کو ایک موقع دینا چاہئے۔