اوگرا کیس: سب کام چیئرمین نیب پر چھوڑ سکتے ہیں نہ خزانہ لوٹنے والوں کو معاف کریں گے: جسٹس جواد

11 مارچ 2014
اوگرا کیس: سب کام چیئرمین نیب پر چھوڑ سکتے ہیں نہ خزانہ لوٹنے والوں کو معاف کریں گے: جسٹس جواد

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے اوگرا عملدرآمد کیس کی سماعت آج ملتوی کر دی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے  کہا ہے کہ قومی خزانے کو لوٹنے والوں کو نہیں چھوڑا جاسکتا ،سب کام چیئرمین نیب پر نہیں چھوڑ سکتے، ملک کے تمام ادارے آئین و قانون کے ماتحت ہیں‘ تفتیشی اداروں کی پیشہ وارانہ  بددیانتی پر عدالت ایکشن لینے کا مکمل اختیار حاصل رکھتی  ہے۔ لوگ اربوں روپے لوٹ کر فرار ہو جائیں، نیب ملزمان کو چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ دیتا رہے اور ہم (عدالتیں) خاموش تماشائی بنی رہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ 80 ارب ڈکارنے والے تو قیر صادق کیخلاف کارروائی اور تحقیقات میں تاخیر پر عدالت کیسے نوٹس نہیں لے سکتی‘؟ چیئرمین نیب  صبح کچھ اور شام کو کچھ اور حکم جاری کر سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے دلائل میں موقف اختیار کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی تفتیش میں تاخیر یا بددیانتی پر عدالت کو مداخلت کا مکمل اختیار حاصل ہے اس حوالے سے کئی عدالتی فیصلے موجود ہیں۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے کہا کہ چیئرمین کو بھی تمامتر اختیارات حاصل ہیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ ہم قومی خزانے کو لٹتے ہوئے دیکھتے رہیں اور کوئی ادارہ اگر تحقیقات نہیں کر رہا تو ہم بھی اسی کی طرح خاموشی سے تماشا دیکھتے  رہیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ  چیئرمین نیب جو مرضی کرتا رہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ سپریم کورٹ محض تماشا دیکھ سکتی ہے۔ یہ تو سنگین حالات ہیں۔ اے جی نے کہا کہ ہائی پروفائل مقدمات میں یا سیاسی معاملات میں عدالت کو ایکشن کا اختیار حاصل ہے۔ جسٹس جواد نے کہاکہ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ چیئرمین کا کہا حرف آخر سمجھ لیا جائے۔ چیئرمین کا فیصلہ دن کو اور رات کو اور بھی ہوسکتا ہے۔ ہم نے تو قانون کو دیکھنا ہے کہ وہ چیئرمین کو کس حد تک اختیار دیتا ہے تاہم یہ طے ہے کہ چیئرمین نیب کی کسی بھی غفلت کا جائزہ لینے کا اختیار عدالت کو حاصل ہے۔اے جی نے کہا کہ جب کسی ملزم کیخلاف چارج شیٹ مکمل کرکے پیش کر دی جاتی ہے تو پھر باقی کام عدالت کا ہے کہ وہ ملزم کیخلاف کیا کارروائی کرتی ہے! عدالت کی مانیٹرنگ کا مقصد تحقیقات کو جلدازجلد شفاف طریقے سے مکمل کرنا ہے اور یہ اس وقت تک مانیٹرنگ جاری رہتی ہے جب تک تحقیقات مکمل کرکے عدالت میں پیش نہ کر دی جائیں۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اگر ہمیں نیب حکام بتا دیں کہ  عملدرآمد کے لئے45  ‘ 90  یا پھر90 دن گزرنے کے باوجود تفتیشی تک مقرر نہیں کیا جاتا تو عدالت کیا کرے؟۔ پولیس افسر کیخلاف جاری تحقیقات میں اگر دوسرا پولیس افسر بددیانتی کا مظاہرہ کرتا ہے تو پھر عدالت کو مداخلت کا اختیار ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ دو سو سے تین سو سالہ پرانے انتظامی حوالے کے قوانین ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے۔ پولیس تفتیش میں پیٹی بھائی کو بچانے کی بات کرتی ہے۔ یہ بھی بھائی چارہ کے تحت رقم کھانے والے کو بچانا ہے۔ پولیس اور نیب کی تحققات میں فرق روا رکھنے کیلئے ہمیں تمام معاملات کا جائزہ لینا ہو گا۔