کچھ بھی نہ کہا، کہہ بھی گئے …

11 مارچ 2014
کچھ بھی نہ کہا، کہہ بھی گئے …

365 دنوں میں اب ہر دن منایا جانے لگایا ہے کبھی مائوں کا عالمی دن کبھی باپ کا، کبھی معذوروں کا کبھی ٹیچروں کا اور کبھی منچلے محبت کرنے والوں کا ویلنٹائن ڈے تو کبھی آلودگی اور منشیات کا عالمی دن --- لیکن سب سے زیادہ لطف و انبساط مائوں کے عالمی دن پر ہوتا ہے یا ویمن ڈے پر۔ اس سال ’’ویمن ڈے‘‘ منانے کے حوالے سے بڑا جوش و خروش تھا۔ ہر پارٹی اور ہر سماجی تنظیم نے اس کا اہتمام تزک و احتشام سے کیا تھا۔ خواتین کا دن 1911ء سے باقاعدگی سے منایا جا رہا ہے۔ 8 مارچ 1907ء کو نیویارک میں عورتوں نے پہلی بار احتجاج کیا جبکہ 1908ء میں سوئی سازی کی صنعت میں کام کرنے والی عورتوں کو مظاہرے پر زد و کوب کیا۔ 1910ء میں روسی خاتون کلارا ٹیکس نے دن منانے کی تجویز دی اور 1911ء میں یہ دن منایا جانے لگا۔ دن منانے کا ایک فائدہ تو یہ ہُوا کہ عورت اپنے حقوق کیلئے لاعلم نہ رہی، اُسے حقوق کیلئے آواز اٹھانی آ گئی اور بڑی حد تک اس نے اپنے مسائل کا ادراک بھی کر لیا مگر اب بھی خواتین کے بے شمار مسائل جوں کے توں ہیں۔
بہرحال خواتین کے حوالے سے سب سے خوبصورت، جامع اور بھرپور تقریب نظریہ پاکستان میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں بیگم بشریٰ رحمن، بیگم ناصرہ جاوید اقبال، ڈاکٹر عمر فاطمہ، ڈاکٹر عارفہ صبح خان، ڈاکٹر پروین خان، پروفیسر حلیمہ سعدیہ، یاسمین ظفر نے خطاب کیا اور مؤثر لائحہ عمل پیش کیا۔ تمام خواتین نے ’’عورت‘‘ کی کارکردگی اور ہمت افزائی پر بات کی، کس نے عورت کی مظلومیت کا رونا نہیں رویا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر رفیق احمد، شاہد رشید، سیف اللہ چوہدری، عثمان احمد اور ڈاکٹر پروین خان نے نظریہ پاکستان کے پلیٹ فارم کو ’’عمل گاہ‘‘ بنا رکھا ہے اور تعمیر و تحریک پر اُن کی توجہ کا ارتکاز رہتا ہے۔ ایک تقریب چوہدری پرویز الٰہی کی صدارت میں مسلم لیگ ہائوس میں منعقد ہوئی جہاں بڑی تعداد میں خواتین موجود تھیں۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے خواتین سے ہمارے دور کی سہولتیں چھین لی ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ پرویز الٰہی نے بطور وزیر اعلیٰ خواتین کے حقوق کا احترام ہی نہیں بلکہ ان کیلئے خلوص سے عملی اقدامات کر کے عورت کو قومی دھارے میں شامل کر کے دکھایا۔ پرویز الٰہی نے دعوئوں سے زیادہ ’’کارکردگی‘‘ دکھائی۔ حکمران اچھے کام کریں تو منظر سے ہٹنے کے بعد بھی انہیں سراہا جاتا ہے۔
موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے خواتین کے حوالے سے کافی دن خبروں اور اشتہاروں کا سلسلہ جاری کر رکھا تھا یہی وجہ ہے کہ ’’ویمن ڈے کے حوالے سے بہت شور تھا، وزیر اعلیٰ ایک دن پہلے اچانک ترکی چلے گئے چنانچہ پنجاب اسمبلی میں ہونے والے اجلاس کا وقت تین بار تبدیل کیا گیا۔ خواتین پنجاب اسمبلی کے کیفے ٹیریا میں بیٹھی گپیں لگا رہی تھیں۔ ارکان اسمبلی تو صبح نو بجے سے ہی موجود تھیں۔ ارکان اسمبلی کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبہ حیات میں نمایاں کارکردگی کی حامل خواتین کو ’’مہمانوں‘‘ کی حیثیت میں مدعو کیا گیا تھا ان میں راقم بھی شامل تھی۔ ڈاکٹر فرزانہ نذیر سب کو عزت سے بٹھا رہی تھیں لیکن بعض ایم پی ایز خود کو ہی معزز مہمان پوز کرتی رہیں جس سے احساس ہو رہا تھا کہ اسمبلیوں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔ خدا خدا کر کے گھنٹوں انتظار کے بعد وزیر اعلیٰ آئے تمام خواتین اوپر گیلری میں بٹھا دی گئیں لیکن اداکارہ نشو، سنگیتا وغیرہ کو وی وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں خصوصی نشستوں پر بٹھایا گیا تھا۔ حیرت اور افسوس کے ساتھ ہم تمام خواتین جن میں وکیل، پروفیسر، ڈاکٹر، انجینئر، شاعرہ جیسی خواتین کا علم اور منصب سب دھرے کا دھرا رہ گیا اور اندازہ ہو گیا جعلی ڈگریوں پر وجود میں آنے والی اسمبلیوں میں ’’علم و فضل‘‘ پر جہالت کا ہی راج ہو سکتا ہے اس کا اندازہ ایوان اقبال کی خاص الخاص تقریب میں بھی دیکھنے میں آیا۔ ہماری رول ماڈل مادر ملت فاطمہ جناح، رعنا لیاقت علی خان، بیگم وقار النساء نون، بے نظیر بھٹو، فاطمہ ثریا بجیا، بانو قدسیہ، بشریٰ رحمن، پروین شاکر ہیں نہ کہ فلمی دنیا کی اداکارائیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے ویمن ڈے کے حوالے سے جو اشتہاری مہم چلائی اور اہم اعلان کا جو شور مچایا گیا تو اندر سے صرف چوں چوں کا مربہ ہی نکلا۔ یہ وہ تمام اعلانات تھے جو کئی سالوں سے سبھی کرتے آ رہے ہیں۔ کوئی نئی بات یا نیا اعلان نہیں تھا۔ میاں محمود الرشید اور میاں اسلم نے اسمبلی میں حکومت کے اس پیکج کے پرخچے اُڑا کے رکھ دئیے اور اس پیکج کو شعبدہ بازی قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ لے دے کر صرف ڈاکٹروں اور ہیلتھ وزیٹروں کی ترقی کی باتیں کرتے رہتے ہیں نہ کبھی کسی پروفیسر کی بات کی نہ کسی صحافی دانشور عورت کی، نہ کسی انجنیئر یا پائلٹ عورت کی۔
کچھ بھی نہ کہا کہہ بھی گئے
کچھ کہتے کہتے رہ بھی گئے
وزیر اعلیٰ پنجاب نے ن م راشد کی نظم ’’مفت لے لو مفت، یہ سونے کے خواب‘‘ والا مصرعہ گویا گنگنایا ہے۔ پنجاب اس وقت دیگر صوبوں سے زیادہ مالدار صوبہ ہے لیکن یہاں خواتین کو ان کی تعلیم، صلاحیتوں اور کارکردگی کے مطابق نوکریاں نہیں ملتیں۔ وزیر اعلیٰ 8 مارچ کی شام ترکی سے پاکستان واپس آئے تھے اور دو ہفتے پہلے چین کا دورہ کر کے آئے تھے۔ وہ بار بار ترکی اور چائنہ کی خواتین کے حوالے دیتے رہے کہ وہ مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں اور دونوں ممالک میں حیرت انگیز ترقی عورتوں کی وجہ سے آئی ہے۔ وہ بھول گئے کہ انتہائی ناسازگار حالات میں آج سے 68 سال پہلے بلکہ سو سال پہلے بی اماں نے جبکہ بیگم سلمیٰ تصدق حسین، بیگم شاہنواز، لیڈی ہارون، فاطمہ جناح نے پاکستان کی تحریک میں حصہ لیا اور ہزاروں عورتوں نے سخت پردے میں رہ کر اپنے مردوں کا ساتھ دیا، تحریک چلائی، پاکستان بنایا۔ اقوام متحدہ میں مندوب بنیں، پائلٹ، ادیبہ، شاعرہ صحافی، استاد، وکیل، ڈاکٹر بنیں۔ پاکستانی عورت تو شروع دن سے کام کر رہی ہے۔ ترکی، ملائیشیا اور چین نے اپنی عورتوں کو بے پناہ سہولتیں، مراعات اور فنڈز دئیے ہیں انہیں اچھا پُرسکون ماحول، حوصلہ، اعتماد اور یقین دیا ہے۔
ایک تقریب پریس کلب میں خواتین صحافیوں کے کردار کے حوالے سے منعقد ہوئی‘ یہاں بھی سیاسی خواتین کا قبضہ رہا۔ صرف ناصرہ جاوید اقبال، بشری رحمن، حنا جیلانی اور ذکیہ شاہنواز نے صحافی عورت کی بات کی۔ باقی سب ادھر ادھر کی روایتی باتیں کرتی رہیں البتہ صحافت میں نمایاں خدمات انجام دینے پر ہم چند خواتین کو ایوارڈز ضرور دئیے گئے لہٰذا یہ بھی ایک ناکام شو رہا۔