تڑپتی انسانیت اوربے حس حکومت

11 مارچ 2014

سندھ کا ضلع تھرپارکر پاکستان کا سب سے زیادہ پسماندہ علاقہ ہے۔اس میں پسماندگی کا سامنا کرنے والے باسیوں کا کوئی قصور ہے نہ قدرت نے اس علاقے اور اس کے مکینوں کی قسمت میں پسماندگی لکھ رکھی ہے۔دس لاکھ کی آبادی کے ضلع کا زیادہ رقبہ صحرائی ہے اور کہیں کہیں دلدل بھی ہے۔اس آبادی میں سے شہروں میں صرف دس فیصد لوگ بستے ہیں۔ تھر دنیا کا واحد قابل کاشت صحرا ہے۔یہاں کالے سونے کے بے بہا خزانے موجود ہیں۔ 175ارب ٹن کوئلے کے ذخائر سے ڈاکٹر ثمر مند مبارک کے بقول پاکستان کی ضرورت سے بھی زیادہ پانچ سو سال تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ۔جس پر کام شروع ہوگیا ہے تھر کول ذخائر کا شمار دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے ۔دو تین سال قبل تھر سے سونے کے ذخائر بھی دریافت ہوئے ہیں۔ابتدائی کھدائی سے سونے کے ذخائر کی موجودگی کی تصدیق ہونے کے بعدباقاعدہ تلاش کے لیے نجی کمپنی کو تین سو ایکڑ زمین لیز پر دیدی گئی تھی۔تھرپارکر کی تحصیل ننگر پارکر ہی میں لوہے کے ذخائر کی موجودگی کی بھی اطلاعات ہیں ۔یہ چونکہ سونے کی طرح نقد آور معدن نہیں ہے اس لئے شاید حکومت سندھ اس پر زیادہ کام نہیں کررہی۔سونے کے ذخائر کا کیا بن رہا ہے اس کی حکومت کسی کو خبر نہیں ہونے دے رہی ۔آ ج کی سیاسی اشرافیہ کی دیانت کو زیر بحث لانے کی ضرورت نہیں۔اگر کوئلے کے ذخائر برآمد ہوسکتے ہوتے تو کب کے اونے پونے ہوگئے ہوتے۔ تھوڑی سی توجہ سے تھرپارکر کے وسائل کو دیانتداری سے بروئے کار لاکر مقامی آبادی کی قسمت بدلی جا سکتی ہے ، اس سے پورا پاکستان استفادہ کر سکتا ہے اور صوبہ سندھ کی ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھل سکتے ہیں۔
حکومت نے تھرپارکر کو نظر انداز کیا اور رہی سہی کسر سرکاری کارندوں کی غفلت اور کرپشن نے نکال دی جس کے باعث آ ج صحرائے تھر میں انسانیت تڑپتی اوربلکتی نظر آتی ہے۔یہ علاقہ تین سال سے قحط سالی کا شکار ہے۔حکومت ہر سال متاثرین کی امداد کرتی ہے۔حکومت سندھ نے رواں سال31 جنوری کو خشک سالی سے متاثرہ افراد میں مفت گندم تقسیم کرنے کے لئے 60 ہزار بوریاں تھر پہنچائی تھیں جو محکمہ خوراک کے گوداموں میں پڑی ر ہیں۔ وزیر خوارک سندھ مہتاب ڈہر نے کا کہنا ہے گندم کی 60 ہزار بوریاں فراہم کر دیں متاثرین تک پہنچانا میری ذمہ داری نہیں۔ایک سردیاں اوپر سے فاقے ،جس نے بے بس انسانوں پر ایک قیامت ڈھا دی اس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہوتا گیا ۔چند روز قبل میڈیا کی اس رپورٹ نے دنیا کو ہلا کے رکھ دیا۔یہ رپورٹ تین ماہ کا احاطہ کرتی ہے جس میں کہاگیا ہے کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران علاج کیلئے لائے گئے 129بچے جاں بحق ہوگئے۔ دسمبر 2013میں 42، جنوری 2014 میں 40 بچے، فروری میں 36 اور مارچ کے ابتدائی پانچ دنوں میں 11 بچے دم توڑ گئے۔ ماہر امراض اطفال سول ہسپتال مٹھی ڈاکٹر، صاحب ڈنو جنجی کے مطابق چار سے پانچ روز کے پیدل سفر کے دوران مائوں کو خوراک نہ ملنے سے نومولود بچے جاں بحق ہورہے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا فاقہ کشی سے بچوں کی ہلاکتوں پر دل پسیجا تو انہوں نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے وزیراعلیٰ سندھ قائم شاہ کو تھر کے علاقے مٹھی پہنچنے کا حکم دیا۔ ان کی ترجیحات کا اندازہ کریں! قائم شاہ نے میڈیا میںانکشاف کیا کہ تھرپارکر سے بڑی تعداد میں بیمار بھیڑیں کراچی بھیجی جا رہی ہیں ۔انہوں نے اس جرم کی پاداش میں محکمہ حیوانات کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور ایک ملازم کو معطل کر دیا ۔ ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے اور مقررہ علاقوں میں ڈیوٹی نہ کرنے والی 400 لیڈی ڈاکٹروں کو برطرف کر دیا گیا۔
 میڈیا میں واویلا ہونے پر سندھ حکومت کو حرکت میں آنا پڑا لیکن جس طرح وزیراعلیٰ سندھ نے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی خبر لی اس طرح محکمہ خوراک سے باز پُرس نہیں کی۔ اب حکومت سندھ جاگی تو کئی این جی اورز اور متمول شخصیات بھی دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے آگے آئی ہیں۔ ملک ریاض حسین نے خوراک کے ٹرک بھجوائے اور بیس کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔ بہتر ہے وہ خود اس کی تقسیم کا اہتمام کریں حکام کو زحمت نہ دیں۔ فوج بھی راشن لے کر فاقہ مست خاندانوں کے دروازے تک پہنچ گئی ہے۔
آفاتِ سماوی کو کوئی نہیں روک سکتا ۔ موجودہ جدید دور میں کسی علاقے میں ایک بھی انسان بھوک سے مرجائے تو یہ انسانیت کا قتل ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ تھر میں بھوک سے ہزاروں انسان متاثر ہوئے ان میں سیکڑوں بچے لقمہ اجل بنے ۔حکومت نے متاثرین کی اشک شوئی کیلئے خیرات اٹھالی ہے۔ یہ کوئی مستقل حل نہیں ہے ۔ مستقل حل یہ ہے کہ اس علاقے کے وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور مقامی آبادی کو اس میں حصہ دار بنایا جائے۔ بہترین طریقہ وہاں صنعتیں قائم کرکے لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے ۔مخیر حضرات اور سرمایا کار اگر پسماندہ علاقوں میں جاکر سرمایا کاری کریں تو ان کو لیبر سستی پڑے گی ، منافع ہوگا اور خدمتِ خلق بھی ہوگی۔
پاکستان کے بہت سے علاقوں میں پینے کا صاف تو کیا، محض پانی ہی میسر نہیں۔آلودہ پانی سے جو مسائل پیدا ہو رہے ہیں انہیں عوام میں شعور بیدار کر کے کم کیا جاسکتا ہے۔ آلودہ پانی کی وجہ سے ملک میں بچوں کی اموات کا سب سے بڑا سبب ڈائریا ہے اور بچوں میں غذائی کمی کی ایک بڑی وجہ بھی پانی ہے۔ اس سے کسی بھی وقت وسیع سطح پر بیماریں پھوٹ سکتی ہیں۔اس پر کہرام مچے گا تو پھر حکمران اور درد دل رکھنے والے لوگ سامنے آئیں گے ۔ آخر ایسے بُرے وقت کا انتظار ہی کیوں کیا جائے۔ ابھی سے اپنے اپنے لیول پر پورے ملک کے کونے کونے میں پینے کا صاف پہنچانے کی کوشش کیوں نہ کی جائے۔