”تھَر تھَر کانپتی زندگی!“

11 مارچ 2014

  4 اپریل 1979ءکی صبح سابق صدر و وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کو نواب محمد احمد خان کے قتل کی سازش کے مقدمے میں مجرم گردانتے ہُوئے پھانسی دی گئی تو مُلکی اور غیر مُلکی میڈیا پر اُن کے آخری دو جملے رپورٹ ہُوئے ایک جُملہ انہوں نے پھانسی دینے والے جلّاد تارا مسیح کو مخاطب ہو کر کہا تھا کہ "Finish It" یعنی ”ایک ہی جھٹکے میں اپنا کام مکمل کر لو!“ وجہ یہ تھی کہ پھانسی کے دوران رسّی بھٹو صاحب کے گلے میں بہت چُبھ رہی تھی جِس سے انہیں بہت تکلیف ہو رہی تھی۔ دوسرا جملہ بھٹو صاحب نے خالقِ حقیقی سے مخاطب ہو کر کہا تھا ”یا اللہ! میں بے قصور ہُوں!“ اِس سے قبل ”انقلابِ فرانس“ کے دَوران (ستمبر 1792ءسے اکتوبر 1795ءتک) حکومت کرنے والی "Convention" (انقلابی اسمبلی) کے حُکم سے فرانس کے بادشاہ لوئی شانز دہم (Louis XVI) پر بیرونی مُلکوں کے ساتھ سازش اور فرانس سے غدّاری کا مقدمہ چلا کر 21 جنوری 1797ءکو "Cuillotine" (گلا کاٹ مشین) سے اُس کا سر قلم کرایا گیا تو لُوئی نے وہاں کھڑے ہجوم سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ ”میرے عزیزو! مَیں بے گناہی کی سزا پا رہا ہُوں!“۔
تاریخ میں کئی ایسے حکمران گُزرے ہیں جِن کے ادوار میں لوگوں کو بے گناہی کی سزا دی گئی اور پھر اُن حکمرانوں کو اُن کے کردہ اور ناکردہ گناہوں کی سزا مِلی۔ جو بچ گئے انہیں حشر کے دِن سزا مِل جائے گی۔ بادشاہ‘ فوجی حکمران‘ منتخب صدر یا وزیرِاعظم یا اُس سے چھوٹا اور اُس سے بھی چھوٹا عوام پر مسلّط کِیا جانے والا کوئی بھی حاکم عوام کے جان و مال اور عِزّت کا رکھوالا ہوتا ہے۔ قائدِاعظمؒ کا کردار لاثانی و لافانی ہے۔ بانی پاکستان ہونے کے باعث وہ ”بابائے قوم“ کہلائے۔ وہ مختصر مُدت تک گورنر جنرل کے منصب پر فائز رہے۔ اِس دَوران انہوں نے اپنے شانہ بشانہ قیامِ پاکستان میں جدوجہد کرنے والی اپنی بہن (مادرِ ملّت) محترمہ فاطمہ جناح کو حکومت یا مسلم لیگ میں کوئی عہدہ نہیں دِیا۔ اپنے یا اپنے خاندان کے لئے کوئی زمین‘ پلاٹ اور لائسنس نہیں لِیا بلکہ اپنی ساری جائیداد کا ایک ٹرسٹ بنا کر اُسے قوم کے لئے وقف کر دِیا۔
ذوالفقار علی بھٹو واحد سیاستدان تھے جنہوں نے ”غریبوں کے حق میں انقلاب“ لانے کا وعدہ کِیا لیکن انہوں نے اپنا یہ وعدہ پُورا نہیں کِیا اور نہ ہی اُن کی سیاسی وراثت پر قابض ہونے والی اُن کی بیٹی وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو اور اُن کے بعد”قائدِ عوام“ کے رُوحانی فرزند“ صدر آصف علی زرداری کو یہ تو فِیق ہُوئی۔ پاکستان کی مسلح افواج کا سربراہ جب اقتدار پر قبضہ کرتا ہے تو عام طور پر کوئی وعدہ نہیں کرتا۔ اُسے فقط ریڈیو اور ٹیلی وژن پرمیرے عزیز ہم وطنو!“ کہہ کر سابق حکومت کی خرابیاں بیان کرنا ہوتی ہیں اور بس!۔ میاں نواز شریف تیسری بار وزارت عظمیٰ ”ہنڈھا“ رہے ہیں۔ روایتی انداز میں انہوں نے تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھانے سے پہلے 28 مئی 2013ءکو ”یوم تکبیر“ پر محترم ڈاکٹر مجید نظامی کی سرپرستی اور قیادت میں سرگرمِ عمل دو اداروں ”نظریہ پاکستان ٹرسٹ“ اور ”تحریکِ پاکستان ورکرز ٹرسٹ“ کے اشتراک سے منعقدہ تقریب میں عوام کے حق میں ”معاشی دھماکہ“ کرنے کا وعدہ کِیا تھا۔ آج اُس وعدے کو 9 ماہ اور 12 دِن ہو چُکے ہیں۔ معاشی دھماکہ کب ہو گا؟ شایدمیاں صاحب بھی نہیں جانتے۔
یہ درُست ہے کہ حالات پہلے ہی بہت خراب تھے لیکن اُن کا سُدھار نہیں ہو سکا۔ جنرل پرویز مشرف کے دَور سے خود کُش حملوں یا دہشت گردوں کے ہاتھوں کسی اور طریقے سے مارے جانے والے لوگوںکو وفاقی یا صوبائی حکومت کی طرف سے فی کس 5 لاکھ روپے اور زخمی (اپاہج) ہونے والوں کے لئے 50 ہزار یا 75 ہزار معاوضہ ادا کرکے دریا دِلی کا مظاہرہ کِیا جاتا رہا ہے۔ کسی نیوز چینل پر خود کُشی کرنے والے خاندان یا اُس کی جان لیوا بیماری کی کہانی ٹیلی کاسٹ کی جائے تو وفاقی یا صوبائی حکومتوں کی ”فیاضی کی داستان“ بھی سامنے آجاتی ہے۔ صدر زرداری‘ اُن کے دَور کے دونوں وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی‘ راجا پرویز اشرف اور دوسرے عہدوں پر فائز لوگوں کی لُوٹ کھسوٹ کی کہانیوں کو مسئلہ کشمیر کی طرح ”مُنجمد“ کر دِیا گیا ہے۔ دہشت گرد جیلیں توڑ کر بھاگ جائیں تو کہا جاتا ہے کہ ”ہماری جیلیں تو عام قیدیوں کے لئے بنائی گئی تھیں، دہشت گردوں کے لئے نہیں“۔ پولیس کی نااہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے کہا جاتا ہے کہ ”ہماری پولیس کو تو دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی ٹریننگ ہی نہیں دی گئی“ اور اب پاک فوج کو منع کر دِیا گیا ہے کہ ”جب تک حکومت اور طالبان کے مذاکرات کامیاب نہ ہو جائیں‘ وہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے بند کر دے“۔ مولانا سمیع اُلحق، مولانا فضل الرحمٰن، سیّد منور حسن اور جناب عمران خان کا بھی یہی خیال تھا۔ یہ مذاکرات کب کامیاب ہوں گے؟ کسی کو بھی معلوم نہیں۔
2013ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ سندھ تک سُکڑ گئی ہے اور اب اس سے سندھ کے 23 صوبوں میں سے تعمیر و ترقی کے لحاظ سے سب سے شاندار صوبہ“ کہا جانے والا ضلع تھر پارکر بھی نہیں سنبھالا جا رہا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سرپرست ہیں یا چیئرمین ؟ بلاول بھٹو کا نعرہ ”سندھ کی ثقافت پہ ناز کرو اور پاکستان سے پیار کرو“ پِٹ گیا ہے اور سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سیّد کہلانے کے باوجود قائم علی شاہ تھرپارکر کے دو لاکھ سے زیادہ خاندانوں کو قحط سے نہیں بچا سکے۔ 250 سے زیادہ بھوک سے جان دینے والے بچوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ”وہ بھوک سے نہیں سردی سے مرے ہیں“۔ جیسے کسی روایتی دانشور نے کہا تھا کہ ”بلّی بھِیگنے سے نہیں بلکہ نچوڑنے سے مری ہے“۔ اڑھائی ہزار مریض مختلف ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ وہ جو لوگ کہا کرتے ہیں کہ ”ذوالفقار علی بھٹو‘ اُن کی بیٹی بے نظیر بھٹو اور اُن کے دونوں بیٹوں شاہ نواز بھٹو اور مرتضی ٰ بھٹو کو اِس لئے غیر فِطری موت سے ہمکنار ہونا پڑا کہ غریبوں کی بد دُعاﺅں نے ذوالفقار علی بھٹو کا پِیچھا کیا تھا۔ غریبوں کی بد دُعائیں تو ہر وعدہ فراموش حکمران کا پِیچھا کرتی ہیں۔ اُس کے قبر میں دفن ہونے کے بعد بھی تاریخ قُدرت کے انتقام کا نشانہ بننے والے حکمرانوں سے بھری پڑی ہے۔
قرآن پاک کو ”اسا طِیر اُلاوّلین“ (یعنی پہلے لوگوں کی کہانیاں) بھی کہا گیا ہے بدعُنوان اور بدکردار حکمرانوں کا کیا انجام ہُوا؟۔ نوابوں اور جاگیرداروں کی سی زندگی بسر کرنے والے عُلما بھی یہ کہا نیاں بیان نہیں کرتے تو پھربن ٹھن کر مختلف نیوز چینلوں پر اینکر پرسنز کے حضور پیش ہونے والے سیاستدانوں کے پاس اِن کہانیوں کے لئے وقت نہیں کیونکہ اُنہیں ایک دوسرے کی بے عزتی کر کے دَورِ حاضر کا اعلیٰ ترین ”مزاحیہ اور طنزیہ سیاسی ادب“ تخلیق کرنا ہوتا ہے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک حکمرانوں اور اُن کے خاندانوں کی قیمتی جانوں کی حفاظت کے لئے خطِیر رقوم خرچ کی جاتی ہیں اور عام لوگ اگر بھوک‘ بیماری اور جہالت کی چڑیلوں سے بچ جائیں تو دہشت گردوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ پاکستان کے عام لوگ جِن کی جوان بیٹیاں گھروں میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہیں اور جِن کے تعلیم یافتہ بیٹے بیروز گاری کے باعث جرائم پیشہ اور دہشت گردوں کے ہاتھوں میں کھیلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں وہ کیا کریں؟۔ صِرف تھرپارکر میں ہی نہیں پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں بھی تھَر تھَر کانپتی ہُوئی زندگی!“ آسمانوں کی طرف دیکھ رہی ہے۔ شاید وہاں سے ہی کوئی جواب آجائے!۔