محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کی عدم توجہ‘ لاہور میں 15 ہزار عطائی کام کر رہے ہیں

11 مارچ 2014

لاہور (نیوز رپورٹر) محکمہ صحت پنجاب کے اعلیٰ حکام کی عدم توجہ سے صوبے میں عطائی ڈاکٹروں کی بھرمار سے شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔ اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صرف لاہور شہر میں تقریباً 15 ہزار کے قریب عطائی موجود ہیں جنہوں نے ڈرگ انسپکٹرز کی ملی بھگت سے میڈیکل سٹورز اور کلینک بنائے ہوئے ہیں اور ان میں اکثریت سرکاری ہسپتالوں کے وارڈ اٹنڈنٹس اور بیروں کی ہے۔ بادامی باغ‘ ریلوے سٹیشن‘ شاہدرہ‘ گڑھی شاہو‘ ٹھوکر نیاز بیگ‘ والٹن‘ ہربنس پورہ‘ مصری شاہ‘ اندرون لاہور‘ باٹاپور‘ یتیم خانہ‘  بند روڈ اور دیگر میں دندان ساز‘ جنرل پریکٹیشنر بیٹھے ہیں۔ ہر کلینک پر انہوں نے جعلی سند نامے لٹکا رکھے ہیں اور شہریوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔  دوسری جانب فرسٹ ایڈ جنرل پریکٹشنرز ویلفیئر ایسوسی ایشن پنجاب (جس میں پریکٹشنرز‘ ہومیوپیتھ‘ حکماء  اور ڈسپنسرز  لیڈی ہیلتھ ورکرز) شامل ہیں اور کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پانچ دس سال تجربہ رکھنے والے پریکٹشنرز  کو محدود مدت کا ریفریشر کورس کروا کے پریکٹس کی اجازت دیں۔