ممتا کے ہاتھوں دو جگر گوشوں کا قتل …… اخلاقی بے راہروی اور معاشرتی رویوں کا جنازہ

11 مارچ 2014

ہمارا معاشرہ اتنی تیزی سے پستی کی جانب گامزن ہے کہ لوگ اخلاقی و معاشرتی اقدار پامال کرتے ہوئے درندگی کی سب حد یں پار کرنے لگے ہیں۔ اولاد جو ماں باپ کے لئے اللہ رب العزت کی طرف سے سب سے بڑا انعام ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں والدین کی جانب سے چھوٹی چھوٹی بات پر اپنے بچوں‘ لخت جگر کے ٹکڑوں کو بیہمانہ طریقوں سے قتل کرنے کے واقعات آئے روز کا معمول بن چکے ہیں۔ لوگ گھریلو جھگڑوں، بے راہ روی، غربت، بیروزگاری‘ مہنگائی اور معمولی معمولی باتوں پر اپنے بچوں کو قتل کرنے لگے ہیں اور ایسے واقعات میں گزشتہ چند دنوں میں بہت تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ مختلف وجوہات پر ماں باپ کی طرف سے اپنے بچوں کو قتل کرنے کے متعدد ایسے دلخراش واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ جنہیں سوچ کر دل دہل اور کلیجہ پسیج جاتا ہے۔ جوہر ٹائون کے علاقہ میں سنگدل سفاک ماں بسمہ کی جانب سے 2 سالہ معصوم بیٹی مناحل کو پانی کے ٹب میں ڈبو کر جبکہ آٹھ ماہ کے شیر خوار بیٹے محمد یوسف بیٹے کو گلا دبا کر موت کے گھاٹ اتارنے کے واقعہ نے شہرکی فضا کو سوگوار کر دیا ہے۔ دلخراش واقعہ کے مطابق جوہر ٹائون کے علاقہ ای بلاک کے رہائشی سنی خان اور اس کی بیوی سالہ بیٹی بسمہ جن کی شادی 4 سال قبل ہوئی تھی اور وہ دو کمسن بچوں 2 سالہ بیٹی مناحل اور 8 ماہ کے بیٹے محمد یوسف کے والدین تھے۔ وقوع کے روز بسمہ نے بیٹی مناحل کو پانی کے ٹب میں ڈبو کر جبکہ محمد یوسف کو گلا دبا کر قتل کر دیا۔ بچوں کے والد سنی خان کے مطابق اس دوران وہ سو رہا تھا۔ اسے پتا چلا تو وہ دونوں بچوں کو طبی امداد کے لئے جناح ہسپتال لے گیا۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے دونوں بچوں کی موت کی تصدیق کر دی۔ معاملہ مشکوک ہونے پر مقامی پولیس کو اطلاع کی گئی تاکہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کرایا جا سکے‘ لیکن سنی اور اس کا بھائی ابوذر دونوں بچوں کی لاشیں پوسٹ مارٹم کرائے بغیر جوہر ٹائون گھر لے آئے تھے۔ جب پولیس موقع پر جوہر ٹاؤن ان کے گھر پہنچی‘ تو اس وقت تک جائے وقوع پانی سے دھو لیا گیا۔ تھا پولیس نے دونوں بچوں کی نعشیں قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کیلئے مردہ خانہ بھجوا دیں اور میاں بیوی کو حراست میں لیکر تھانے لے گئے۔ جہاں  بسمہ نے اپنے گھنائونے جرم کو قبول کرتے ہوئے دونوں بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا اور پولیس کو ابتدائی بیان دیا کہ اس نے بھوک اور غربت کے ہاتھوں تنگ آکر بچوں کو قتل کر دیا ہے جبکہ اس کا شوہر سنی خان کوئی کام کاج نہیں کرتا ہے۔ بچوں کے والد سنی خان کا کہنا تھا کہ اس کی بیوی نے بچوں کا قتل کیا ہے۔ جس وقت یہ واقعہ ہوا میں سو رہا تھا۔ اچانک شور کی آواز سن کر میں اٹھا اور دیکھا تو میری بیوی نے دونوں بچوں کو قتل کرچکی تھی۔ بسمہ کے والد اکرم نے بتایا کہ اس کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ بسمہ بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہے۔ بسمہ نے ایف اے تک تعلیم حاصل کی تھی۔ چار سال قبل کسی عزیز نے   بیٹی کی شادی سنی خان سے کرائی لیکن سنی کے گھر والوں نے دھوکہ دہی سے کام لیا اور سنی خان کے بارے میں غلط بیانی کی تھی کہ وہ گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتا ہے جبکہ وہ بے روزگار تھا۔ شادی کے موقع پر بیٹی کو جہیز میں پندرہ تولے زیورات اور تمام ضروری گھریلو اشیاء دی تھیں تاکہ بیٹی اپنے سسرال میں خوشی خوشی زندگی بسر کرے ۔ وہ گھریلو کام کاج میں بھی دلچسپی لیتی تھی اوروہ ذہنی مریضہ ہرگز نہیں تھی۔ اگر اسے حالات کا اندازہ ہوتا تو وہ دونوں معصوم بچوں کو اپنے گھر لے آتا‘  لیکن شاید قسمت میںیہی لکھا تھا۔ دوسری جانب سنی خان کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ملزمہ بسمہ کا چال چلن ٹھیک نہیں تھا اس کی حرکات مشکوک تھیں اس کا اسی بات پر اکثر اپنے شوہر سے جھگڑا رہتا تھا۔ پولیس نے سنی خان کے گھر کی تلاشی کے دوران اس کے کمرے سے ایک ڈائری  قبضے میں لے لی ہے، جس میں ملزمہ کے لکھے گئے خطوط ملے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمہ کے لکھے گئے چند خطوط میں اس نے اپنی ایک سہیلی کے نام لکھا تھا کہ  وہ خاوند اور اسکے رشتہ داروں کے طعنوں‘ خاوند کی بے روزگاری اورنشے کا عادی ہونے کی وجہ سے بے حد پریشان ہے،وہ طلاق بھی نہیں لے سکتی کیونکہ اس کے بوڑھے والدین یہ صدمہ برداشتہ نہیں کر سکتے ہیں۔ پولیس نے گھر کے اندر کھڑی لاکھوں روپے مالیت کی دو گاڑیاں بھی قبضے میں لے لیں اورمحلے داروں کے بیانات قلمبند کئے۔ محلے دار وں کا کہنا تھا کہ سنی اور بسمہ کی شادی چار سال قبل بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی۔ یہ کھاتے پیتے لوگ ہیں ۔ جس کے بعد پولیس یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ بسمہ نے غربت‘ بھوک اور خاوند کی بے روزگاری سے تنگ آکر بچوں کو قتل نہیں کیا۔ اس کے محرکات کچھ اور ہیں۔ بسمہ کے ہاتھوں 2 سالہ بیٹی کو ٹب میں ڈبو کر مارنے اور 8 ماہ کے بیٹے کو گلہ دبا کر قتل کرنے کے دلخراش واقعہ کو ورثاء حقائق چھپاتے ہوئے اسے بھوک‘ غربت اور خاوند کی بیروزگاری کا رنگ دے رہے ہیں مگر اس حوالے سے اصل حقائق کچھ اور ہیں۔ ملزم سنی خان اور اس کے گھر والے ایک کنال کے گھر میںآسودگی سے رہ رہے تھے جبکہ ان کے گھر میں دو گاڑیاں بھی کھڑی تھیں۔ پولیس نے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ سنی خان کا تعلق بدنام طبقے سے ہے۔ پہلے یہ لوگ باغ منشی لدھا میں رہتے تھے اور جسم فروشی کا کاروبار کرنے کے حوالے سے بھی بدنام تھے جس کے بعد یہ لوگ جوہر ٹائون آ گئے اور ابھی بھی یہ لوگ اسی بدنام کاروبار سے وابستہ تھے۔ سنی خان تو گھر میں رہتا تھا، پھر ان کے گھر کا خرچہ کہاں سے چلتا تھا اور پیسے کہاں سے آتے تھے جبکہ اس کا باپ بھی مر چکا تھا۔ اصل میں یہ افراد مکروہ دھندہ کرتے تھے۔ بسمہ کے باپ کا بازار حسن میں میڈیکل سٹور ہے۔ اس کے خاوند سنی خان نے اطلاعات کے مطابق اسے بھی غلط دھندے میں لگا دیا۔ اس دوران بسمہ کی بیٹی مناحل پیدا ہوئی تو اس کا خاوند اسے اکثر طعنے دیتا تھا کہ یہ اس کی بیٹی نہیں۔ بیٹے یوسف کی پیدائش کے بعد گھر میں جھگڑے بڑھ گئے جس پر بسمہ نے دلبرداشتہ ہو کر دونوں بچوں کو قتل کر کے یہ مسئلہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا کہ اب اسے خاوند و سسرال کے بچوں کے حوالے سے طعنے نہیں ملیں گے۔ بسمہ کی والدہ نے اپنی بیٹی کا رشتہ دھوکے سے ایک بیروزگار شخص اور غلط گھرانے میں ہو جانے پر ایک سال قبل سر میں گولی مار کر خودکشی کر لی تھی۔ خود بسمہ نے بھی 4 ماہ قبل گھریلو حالات سے تنگ آکر پنکھے سے لٹک کر خودکشی کی  کوشش کی تھی۔  بچوں کو قتل کرنے والی سفاک ماںنے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ اس کا شوہر اور سسرال والے اسے جسم فروشی پر مجبو ر کر تے تھے اور اسی غر ض سے اسے زبردستی دبئی بھیجنا چاہتے تھے۔ اس کا شوہر اور سسرال والے خواتین سے جسم فروشی کا کام کرانے والے گھناؤنے دھندوں میں ملوث ہیں جب کہ شوہر اور سسرالیوں کی جانب سے اسے بھی جسم فروشی کے لئے زبردستی دبئی بھیجنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اس کے دونوں بچوں کو پیدائش سے قبل اسقاط حمل کے ذریعے ضائع کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ ساس کی بہن کہتی تھی ناچو گاؤ، گندا کام کرو ،مجھے دبئی جانے کا مشورہ دیا۔ شوہر سنی کہتا تھا کہ اگر میں نہیں کماتا تو تم کما لو، نوکری کر لو ،گندا کام کر لو ۔میں نے دو بار خودکشی کی کوشش کی، بچے نہ مارتی تو بڑے ہو کر انہیں ناچنے گانے پر لگا دیا جاتا۔ میری والدہ جان گئی تھی کہ بیٹی کو غلط لوگوں میں بیاہ دیا ہے۔ جس پر میری امی نے خودکشی کر لی تھی۔ جوہر ٹاؤن والے گھر میں غلط کام ہوتے ہیں، بندے آکر چلے جاتے ہیں۔ شوہر کے رویئے سے تنگ آکر بسمہ نیند کی گولیاں کھانے کی عادی ہوچکی ہے  حوالات میں بسمہ اپنے بچوں کو یاد کرکے تھوڑی تھوڑی دیر بعد دھاڑیں مار کر رونے لگتی ہے اور اپنے بچوں کی قبروں پر لے جانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ بسمہ کا کہنا ہے کہ بچوں کو مار کر اس نے بہت بڑا ظلم کیا اس سے بہتر تھا کہ شوہر کو مار دیتی۔سنی خان کے بھائی ابوذر سلمان کا کہنا ہے کہ اس کا بھائی بے گناہ ہے کیونکہ جب بسمہ نے بچوں کو ہلاک کیا۔ اس وقت اس نے سنی خان کو نشہ آور گولیاں کھلا کر سلا دیا تھا اور بچوں کو مارنے کے ایک گھنٹہ بعد اس نے سنی خان کو جگا کر بتایا کہ اس نے بچوں کو ختم کردیا ہے۔ ابوذر نے کہا ہمارے ساتھ یہ انتہائی زیادتی ہے کہ ہم بچوں کے وارث ہیں اور ہمیں ان کا منہ تک بھی نہیں دیکھنے دیا گیا۔ اس نے کہا کہ بسمہ کا باپ شاہی محلے کا رہنے والا ہے۔ میرے بھائی نے بسمہ کو طائفہ کے ساتھ دبئی کیا بھجوانا تھا، بسمہ کی خالہ تو خود دبئی میں بیٹھ کر وہاں طائفے چلاتی ہے جبکہ بسمہ کا باپ ایک قحبہ خانے میں کام کرتا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے بسمہ اور اس کے شوہر سنی خان کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ہے۔ماناکہ اس خاندان کا تعلق بدنام پیشہ گھرانے سے ہے مگر دومعصوم بچوں کو ناجائز قرار دے کر انہیں قتل کرنا کیسے جائز ہے؟۔لگتاہے کہ ماں کے ساتھ باپ بھی ذمہ دار ہے ۔دونوں کو سخت سے سخت سزاملنی چاہئے ۔اس واقعہ کو سن کر انسانی کلیجہ دہل کر رہ جاتا ہے۔ مگر تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ایسے لرزہ خیز واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اسلامی و اخلاقی اقدار کو فروغ اور ان پر عملدرآمد کرکے ایسے واقعات کا سدباب کریں۔