کراچی میں ڈاکو راج …… شرح جرائم میں خطرناک اضافہ

11 مارچ 2014

جرائم پیشہ عناصر کیخلاف 6 ماہ  سے جاری ٹارگٹڈ آپریشن  ہنوز مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا۔ 5ستمبر 2013ء کو شروع ہونے والے آپریشن کا مقصد اغوا  برائے تاوان کی وارداتوں ، بھتہ خوری کے واقعات اور ٹارگٹ کلنگ کو روکنا تھا پہلے، دوسرے مراحل سے گزر کر آپریشن اب حتمی اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے لیکن تیسرے مرحلے کا خوف دہشتگرد وں او تخریب کاروں پر طاری نہیں ہوا وہ بدستور وارداتوں  میں مصروف ہیں پولیس ہر مسئلے کا حل ڈبل سواری  پر پابندی تصور کرتی  ہے حالانکہ یہ کوشش ہمیشہ ناکام  رہی ہے اس ہفتے بھی ڈبل سواری پر پابندی  کے باوجود اورنگی ٹائون میں بینک لوٹ لیا گیا چار موٹر سائیکلوں پر سوار 7 ڈاکوئوں  نے واردات کی ان میں سے چھ یقیناً  تین موٹر سائیکلوں پر سوار ہوں گے اور سڑک کنارے  موجود ٹریفک ،  تھانہ  پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی آنکھوں  میں دھول جھونک کر ہی آئے ہوں گے یہ واردات  انہوں نے پانچ منٹ میں مکمل کی اور 45 لاکھ روپے ساتھ  ہی سیکورٹی گارڈ  کا اسلحہ بھی لے گئے اس سے قبل ایک بینک  3منٹ کی ریکارڈ مدت میں لوٹا گیا تھا۔ سال  رواں کے ابتدائی دو ہفتوں میں نصف  درجن سے زائد بینک  کراچی میں لوٹے جا چکے ہیں شہر میں گھر، دفتر، پٹرول پمپ، تجارتی مراکز، کارخانے حتی کہ مونگ پھلی فروش تک محفوظ نہیں۔ کراچی  آپریشن میں 10ہزار سے زائد ملزمان گرفتاری کے باوجود شہر میں امن قائم نہیں ہو رہا۔
کراچی کے گلش اقبال ،  ڈیفنس، کلفٹن، گلستان  جواہر، ناظم آباد، طارق روڈ، نارتھ کراچی، نیو کراچی، گلبرگ  ، فیڈرل بی ایر، کورنگی، اورنگی، ٹائون، سائٹ، کمھیاڑی، مرجان، محمود آباد سمیت متعدد تھانوں کی حدود میں جرائم بڑھتے ہیں۔ شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ مجرموں کی پولیس سرپرستی کرتی ہے ۔  ورنہ پولیس واردات کا مقدمہ درج کرنے سے کیوں کتراتی ہے اے آئی جی شاہد حیات دعوی کرتے  ہیں کہ کراچی  آپریش کے باعث جرائم میں نمایاں کمی آئی ہے۔ سپریم کورٹ میں پیش کراچی کی صورتحال  پر رپورٹ  میں بتایا گیا ہے کہ  ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 94 پولیس اہلکار شہید ہوئے  ہیں اسی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ  سٹریٹ کرائمز میں کمی آئی ہے لیکن دہشت گردی  کے واقعات بھتہ خوری  اور اغوا کی وارداتیں بڑھی ہیں۔ قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ پاکستان میں 26 خفیہ ادارے  ہیں لیکن باہمی رابطوں کا فقدان ہے۔  171  دنوں کے کراچی آپریشن  میں ٹارگٹ کلنگ  56 فیصد اور سٹریٹ  کرائمز 30 فیصد کم ہوئے  ہیں۔
کراچی جیل میں قید 74 خطرناک ملزمان گزشتہ ہفتے اندرون سندھ حیدر آباد ، سکھر اور خیبر  پور کی جیلوں میں منتقل کئے گئے اس ہفتے مزید 74 متذکرہ بالا جیلوں کو بھیجے گئے ہیں ملزمان کا تعلق کالعدم  طالبان، لشکر جھنگوی لیاری گینگ وار، متحدہ اور جنداللہ سے ہے جن میں بڑے نام لشکر جھنگوی  کے اکرم لاہوی، متحدہ کے اجمل پہاڑی اور سہیل کمانڈو و دیگر  شامل ہیں کراچی جیل سے خطرناک قیدیوں کی منتقلی کے باوجود یہاں سخت خفاظتی اقداقات کئے گئے ہیں  یونیورسٹی روڈ کے درمیان کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی  ہے اور حادثات کا بھی خطرہ  ہے دوسری طرف کراچی  جیل میں  نصب چیمبرز کے  قرب و جوار میں موبائل اور وائرلیس فون کی سروس متاثر ہے تیز سکھر، حیدر آباد  اور خیر پور میں بھی جیلوں کی سیکورٹی غیر معمولی حد تک سخت کر دی گئی ہے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کی تعیناتی کے ساتھ ساتھ داخل و خارجی راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر  کے جیلوں پر ممکنہ حملوں سے بچائو کی تدابیر اختیار کی گئی ہے سکھر جیل سے 80ء کی دہائی میں غوث علی شاہ  سندھ کے وزیر اعلیٰ تھے انتہائی خطرناک ملزمان جیل  توڑ کر فرار ہو گئے تھے اکادکا فرار کے  واقعات تو تھانوں ، لاک ایوں، حوالاتوں او چیک  پوسٹوں سے آئے  روز ہوتے ہیں لیکن حساس اور خفیہ اداروں کی وارننگ  کے بعد اب کراچی صوبے کی ان  تمام جیلوں میں جہاں خطرناک ملزمان کو رکھا گیا ہے حفاظتی انتظامات کا حد درجہ سخت کر دئیے گئے ہیں ملزمان  پر مقدمات کی سماعت بھی متعلقہ جیلوں کے اندر ہی ہو گی سکھر جیل میں اعجاز  حیدر اور حیدر آباد جیل میں سید فرید جان سرہندی کو جیل  سپرنٹنڈنٹ مقرر کیا گیا ہے یہاں موبائل فون جیمبرز  کی تنصیب کے ساتھ ساتھ قیدیوں سے ملاقات بھی سختی اور نگرانی کے ساتھ ہوتی البتہ جیل مینوئل پر عمل ہو گا جیلوں  میں 24 گھنٹے ہائی الرٹ کا حکم دیا گیا ہے۔
شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد وہاں سے 14ہزار کے لگ بھگ افراد نے نقل مکانی کی ہے پہلے مرحلے میں نکلنے والے یہ افراد بنوں کے راستے ملک کے مختلف محفوظ مقامات  پر منتقل ہو  رہے ہیں سندھ کے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے  پولیس کو مشتبہ اور مشکوک  افراد کے خلاف کارروائی اور مہمانوں تک کا ریکارڈ  رکھنے کیلئے کہا ہے سکھر،  حیدر آباد  و دیگر شہروں سے اطلاعات ہیں کہ وہاں  شمالی و جنوبی وزیرستان سے قافلے آنے لگے ہیں سوات آپریشن کے بعد کبھی سندھ آنے والے  افراد کی اکثریت یہیں رہ گئی  تھی اور ان میں وہ افراد بھی شامل تھے جو اب بدامنی کے ذمہ دار ہیں اسی ہفتے سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ سندھ میں آباد 68ہزار افغان  پناہ گزینوں کو دسمبر 2015ء تک یعنی مزید 2برس کیلئے  پاکستان میں قیام  کی اجازت دے دی گئی ہے کراچی میں افغان پناہ گزینوں  کی رجسٹریشن کارڈ کے سینٹر کا افتتاح  بھی ہوا ہے لیاری، منگھو پیر، سرجانی، کیماڑی کے بعض علاقے اسلحہ بازار بن چکے ہیں جہاں منشیات و اسلحے کی فروخت اور دیگر سماجی برائیاں عام  ہیں۔
اسی ہفتے  کی ایک  اہم خبر سماجی برائیوں کے حوالے سے خبر بھی ہے کہ صوبائی محتسب کی جاری شدہ رپورٹ میں بتایا گیا  ہے کہ محکمے کو موصول شکایات کے مطابق  صوبے کے 35 سرکاری محکموں کے خلاف 2ہزار 6 سو 48 شکایات موصول ہوئیں جن میں  سے 523 پولیس کے خلاف تھیں  428 میں محکمہ تعلیم اور 343 میں محکمہ ریورنیو کی زیادتیوں  پر انصاف مانگا گیا تھا اسی  طرح لوکل  گورنمنٹ کے خلاف 249 محکمہ آبپاشی و بجلی کے خلاف 147، کراچی  میونسپل کارپوریشن کے خلاف 128، کراچی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف 104 شکایات  ملیں 100 سے  کم شکایات والے محکموں میں ورکس، صحت، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، اے جی سندھ،  ہائوسنگ اینڈ ٹائون پلاننگ کراچی واٹر بورڈ ، محکمہ زکوۃ، محکمہ خوراک، ایکسائز، زراعت  و دیگر محکمے شامل ہیں ان  شکایات میں سے   83ء 70 فیصد ہر صوبائی محتسب اسد اشرف ملک کے مطابق عوام کو ریلیف  دیا گیا ہے۔
کراچی میں ڈاکو راج سے لے کر  سرکاری محکموں میں موجود ناانصافی و ظلم کے نظام تک عام آدمی کو کہیں تحفظ میسئر نہیں اندرون صوبہ بھی لوٹ مار، قتل، اغوا اور ڈکیتی  کی وارداتیں  عام ہیں۔ صوبے کے باشندوں کو تحفظ کب اور کیسے ملے گا؟ یہ سوال اہم ہے لیکن اس کا جواب حکومت سمیت کسی کے پاس نہیں۔