دیورانی‘ جٹھانی کا قتل …… خودکشی قرار دیکر بغیر پوسٹمارٹم تدفین

11 مارچ 2014

 عورت ماںہو بیٹی ہو بہن ہو بیوی ہو ہر روپ میں سراپا محبت ہے بد قسمتی سے مردوں کی بالا دستی کے حامل معاشرے میں عورت کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو نبی کریمؐ نے اسے عطا فرمایا ہے دور حاضر میں مغربی نظریات سے متاثر لوگ عورت کی بالا دستی کا شور تو بہت مچاتے ہیں لیکن درحقیقت  وہ بھی عورت کے نام پر اسکا استحصال کر رہے ہیں ہم مسلمان ہیں اور دین اسلام کے پیروکار ہیں ہمارے مذہب میں جو عورت کو سماجی تحفظ حاصل ہے ۔ اسکی کسی دوسرے مذہب میں مثال ڈھونڈنا مشکل ہے مگر بدقسمتی جہالت اور نا خواندگی کی وجہ سے ہماری عورت جس جبر و استبداد کا شکار ہے اسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے عورت کو تحفظ دینے میں ہماری ریاست جس مجرما نہ غفلت کا مظا ہر ہ کر رہی ہے اس کا اندازہ پاکپتن میں ہونے والے دو خواتین کے قتل کے واقعہ سے با خو بی لگایا جا سکتا ہے  پولیس کی ملی بھگت سے جس طرح دو خواتین کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے اسے جا ن کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔
  صدر سرکل پاکپتن کے تھانہ ملکہ ہانس کے گا ئو ں 77ڈی میں پولیس کو 24 فروری کواطلا ع مو صول ہو ئی کہ گا ئو ں کے زمینداروں نے مشکوک اور قابل اعتراض حالت کی بنا پر اپنی دو خوا تین کو قتل کر دیا ہے قتل ہو نے وا لی خوا تین میں دو بچوں کی ماں پروین بی بی اور اس کی دیوارنی 20سالہ شکیلہ بی بی شا مل ہیں ۔بتا یا جا رہا ہے کہ خوا تین کو زہر دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا یہ افسوس ناک واقعہ چند ہی لمحوں میں علاقے بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا معلوم ہونے پر صدر سرکل پاکپتن کے ڈی ایس پی محمد اکرام خان پولیس نفری کے ہمراہ کاروائی کے لیے موقع پر پہنچ گئے ،قا نو ن کی بالا دستی قائم کر نے کے لئے جا نے وا لے ڈی ایس پی صدر اکرام خاں بااثر زمینداروں کے خلاف دو ہرے قتل کی کاروا ئی کر کے ملز مان کو گرفتار کر نے کی بجا ئے مبینہ طور پر ملزمان سے مفادات حا صل کر کے دہرے قتل کو خودکشیوں میں بدل کر بغیر پوسٹ مارٹم کے دونوں مقتولین کی تدفین کر وادی ، اور پو لیس کے روز نامچہ میں بھی اس تمام تر واقعہ کا کو ئی اندراج نہیں کیا ۔ نوا ئے وقت میں خبر کی اشا عت ہو نے پر پولیس نے تھا نہ کے روز نا مچہ میں رپٹ کا اندراج کر کے ملز مان کے خلاف کوئی مو ثر کاروا ئی عمل میں نہ لا ئی ۔ انسا نی حقوق کی تنظیموں کی مداخلت پر وقوعہ کے چار روز بعد ڈی پی او شا ہنواز سند ھیلہ کی مدا خلت پر پولیس تھا نہ ملکہ ہانس نے علا قہ مجسٹر یٹ سو ل جج مظہر فر ید کی عدالت سے مقتولین کی قبرکشا ئی کے لئے رجو ع کیا ہے۔ 
 اس دکھ بھرے واقعہ کے خلاف پاکپتن کی سو ل سو سا ئٹی ۔ سماجی و سیاسی تنظیموں کے سربراہوںکے اجلاس میںمذمتی قرار داد بھی منظور کی گئی۔ اجلاس کے شر کا ء نے دو خواتین کے سفا کانہ قتل اور ڈی ایس پی صدر اکرام خان کی ملی بھگت سے تدفین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے حسی کی مذمت کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ اس دہرے قتل اور ڈی ایس پی صدر کی طرف سے قاتلوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سے جوڈیشل انکوائری کروا کر ملزمان کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف دو خواتین کے قتل کا مقد مہ درج کیا جا ئے ۔