بیرون ملک بھجوانے کا جھانسہ دیکر لوٹنے والا …… نوسرباز

11 مارچ 2014

وطن عزیز پاکستان میں لاء اینڈ آرڈر پر عملدرآمد اور چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے تمام ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ جس ادارہ کے ذمہ جو کام دیا گیا ہے وہ اس پر عہدہ برا ہونے میں ناکام رہا ہے۔ ہمارے ہاں ہر شخص ہی ادارہ بن چکا ہے۔ قوانین پر عملدرآمد نہ کرنا اور پیروں تلے روندنا وطیرہ بن چکا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کوئی جتنا قوانین کا مذاق اڑاتا ہے اسے اتنی عزت اور اہمیت دی جاتی ہے۔ ناجائز ذرائع استعمال کرتے ہوئے دولت کے ڈھیر لگانے والوں کو محنتی‘ ذہین اور چالاک سمجھا جاتا ہے مگر کوئی بھی ان بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں سے نبرد آزما ہونے کی جرات کر سکتا ہے۔ سادہ لوح افراد بھی کتنے بیچارے ہیں کہ ہر چالاک‘ شاطر شخص ان کو اپنے شکنجے میں جکڑنے کیلئے پر تول رہا ہوتا ہے۔ سادہ لوح افراد کو کئی طرح سے لوٹا جا رہا ہے اور متعلقہ ادارے جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ہم یہاں پر شاطر اور قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والے ان افراد کا تذکرہ کرتے ہیں جو سادہ لوح افراد کو بیرون ممالک بھجوانے کا جھانسہ دے کر ان سے رقم بٹور لیتے ہیں اور رفو چکر ہو جاتے ہیں اور سادہ لوح یہ سوچ کر گھائل ہوتے رہتے ہیں کہ اب جائیں تو کہاں جائیں۔ ایسے شاطر افراد کے خلاف کارروائی کرنا اور سادہ لوح افراد کو ان کے مذموم مقاصد سے بچانا ایف آئی اے کی ذمہ داری ہے مگر سادہ لوح افراد کی ایف آئی اے تک رسائی آسان کام نہیں ہے۔ اگر کوئی بھولا بھٹکا ایف آئی اے تک پہنچ بھی جاتا ہے تو اس کو اتنے چکر لگوائے جاتے ہیں کہ وہ پیسوں کو بھول کر گھر بیٹھ جاتا ہے۔ چند ایک نو سربازوں کے خلاف کارروائی کرکے ایف آئی اے اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کی سعی کرتی ہے۔ بیرون ممالک ملازمت تعلیم اور کئی دوسرے کاموں کیلئے بھجوانے والے نوسربازوں کا نشانہ صرف سادہ لوح افراد ہی نہیں بلکہ بعض اوقات پڑھے لکھے افراد بھی ان کی شاطرانہ چال میں جکڑ جاتے ہیں اور مطلوبہ رقم نوسر بازوں کے حوالے کر دیتے ہیں اور پھر اس ملک کی گلی کوچوں میں گھومتے پھرتے اور انجوائے کرنے کے سپنے دیکھنے میں مگن ہو جاتے ہیں اور جب ان کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ تو دھوکا ہو گیا تو پھر ان کو دن میں رات کے تارے نظر آنے لگتے ہیں۔ اس طرح کے متعدد واقعات روزانہ کے حساب سے رونما ہو رہے ہیں مگر ہم یہاں ایک نوجوان کے واقعہ کا تذکرہ کرتے ہیں جو انجینئر ہو کر بھی نوسرباز کا نشانہ بن گیا اور آج تک رقم واپسی کیلئے دھکے کھا رہا ہے اور کہیں اس کی شنوائی نہیں ہو رہی۔احمد حنیف جو الیکٹریکل انجینئر ہیں آج کل لاہور میںغلام شبیر کی تلاش میں سرگرداں ہیں جو اس سے رقم بٹور کر رفو چکر ہو چکا ہے۔ احمد حنیف کا تعلق ضلع مظفر گڑھ کے علاقہ شاہ جمال سے ہے۔ احمد حنیف کے مطابق ضلع لیہ کے علاقہ کوٹ سلطان موضع مائی بھلی کے رہائشی غلام شبیر ولد محمد حسین لاہور میں بیرون ملک لوگوں کو بیرون ملک بھجوانے کا کاروبار کرتا تھا۔ احمد حنیف نے بتایا کہ وہ الیکٹریکل انجینئرنگ کر چکے تھے مگر کوئی ملازمت ہی نہیں ملتی تھی جس کے بعد انہوں نے بیرون ملک ملازمت کرنے کا سوچا۔ انہیں کسی نے غلام شبیر کا ایڈریس دیا احمد حنیف کا غلام شبیر سے رابطہ ہوا تو اس نے سنہرے خواب دکھانے شروع کر دیئے اور کہا کہ وہ سعودی عرب میں پرکشش پیکج پر ان کو ملازمت دلوائیں گے۔ محمد حنیف نوسرباز کے چکر میں آگئے اور اس سے ملنے لاہور آگئے۔ احمد حنیف نے بتایا کہ جب وہ لاہور آئے تو شبیر ان کو ایک آفس میں نہیں ملتا تھا بلکہ اس کو کبھی کسی اور کبھی کسی دفتر میں آنے کا کہتا جب وہ پوچھتا کہ آپ کے اتنے دفتر ہیں تو شبیر کہتا کہ میرے سب کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ہم لوگوں کو دوسرے ممالک بھجوانے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہتے ہیں۔ احمد حنیف‘ شبیر سے اس نمبر پر بات کرتا تھا 0301-4995424 جو آج بھی کھلا ہے مگر وہ بات نہیں سنتا۔ محمد شبیر نے اس سے ڈیڑھ لاکھ مانگے آدھی رقم پہلے اور باقی کام ہونے کے بعد دینے کا کہا۔ محمد حنیف کے مطابق وہ اس کی باتوں میں آگیا اور سبزہ زار میں واقع ایک دفتر (جو وہ اپنا دفتر ظاہر کرتا تھا) جا کر اس کو مطلوبہ رقم دے دی۔ اس دوران جو شبیر سے بات چیت ہوئی محمد حنیف اس کو ریکارڈ کرتے رہے۔ کچھ اور ثبوت بھی محمد حنیف کے پاس موجود ہیں۔ غلام شبیر نے 2 ماہ میں ویزہ دینے کا کہا مگر اب 2 سال ہو چکے ہیں۔ ایک طرف ملازمت نہیں ہو رہی اور دوسری طرف شبیر نہ تو فون اٹھاتا ہے اور نہ وہ ملتا ہے۔ جس آفس میں پیسے دیئے وہاں گیا تو پتہ چلا وہ دفتر تبدیل کر گیا ہے ۔وہاں موجود لوگوں نے کہا کہ شبیر ایک دفتر میں کام نہیں کرتا وہ مہینے بعد دفتر تبدیل کر دیتا ہے اور بھی بہت سے لوگ جو شبیر کی باتوں میں آکر رقم دے چکے تھے مگر ویزے کہاں ملنے تھے وہ بھی شبیر کے تعاقب میں اس کے آفس آئے ہوئے تھے سب بہت پریشان تھے۔ احمدحنیف نے کہا کہ وہ شبیر کے گھر بھی گئے بعد میں مگر وہاں پتہ چلا کہ وہ عادی نوسرباز ہے کئی لوگ اس کی نوسربازی کا شکار ہو چکے ہیں۔ احمد حنیف نے بتایا کہ وہ ایف آئی اے میں درخواست دینے گیا مگر وہ پراسیس اتنا مشکل تھا کہ پھر وہاں جانے کا سوچا بھی نہیں۔ متعلقہ اداروں خاص طور پر ایف آئی اے کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایسے نوسربازوں سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے خاطر خواہ اقدامات کریں کیونکہ یہ ان کا اولین فرض ہے اور فرض کے متعلق بازپرس اس دنیا میں نہ سہی اگلی دنیا میں ضرور ہونی ہے۔