لاہور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول

11 مارچ 2014

سیف اللہ سپرا
تصاویر: عابد حسین
پاکستان کی فلم و سینما انڈسٹری جو گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے زوال کا شکار ہے کی بحالی کے لئے کوششیں شروع ہو گئی ہیں جہاں اچھی فلمیں بن رہی  ہیں وہاں نئے سینما گھر بھی تعمیر ہو رہے ہیں۔ پچھلے سال کے آخر میں کچھ معیاری پاکستانی فلمیں ریلیز ہوئی ہیں جو بہت کامیاب رہیں جن میں وار، میں ہوں شاہد آفریدی، عشق خدا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ نئی فلمیں بن  رہی ہیں جن سے بہت سی  توقعات وابستہ ہیں اگر اچھی فلم کے ساتھ اچھا سینما بھی ہو جائے تو تفریح  کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے سینما انڈسٹری میں رائل پام گولف اینڈ کنٹری کلب کی انٹری تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ اس کلب کے زیر اہتمام اس وقت سپر سینما شبستان،  سپر سینما پرنس، سپر سینما ووگ ٹاور اور سپر سینما رائل پام  چل رہے ہیں۔
 پاکستان کی فلم و سینما انڈسٹری کی بحالی کے لئے رائل پام گولف اینڈ کنٹری کلب  نے اپنی کوشش صرف جدید سینما گھروں کی تعمیر تک ہی محدود نہیں رکھیں بلکہ یہ کلب ہر وہ کام کر رہاہے جس سے پاکستان کی فلم و سینما  انڈسٹری کو فروغ ملے جس کی ایک تازہ  مثال لاہور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول  کا انعقاد ہے اس فیسٹیول کا انعقاد سپر سینما اورسمٹ انٹرٹینمنٹ نے پنجاب یوتھ فیسٹیول کے اشتراک سے کیا۔ اس چار روز فلم فیسٹیول کا اہتمام25 فروری  سے 28فروری تک سپر سینما ووگ ٹاور، ایم ایم عالم روڈ، سپر سینما پرنس، سپر سینما شبستان اور سپر سینما رائل پام کلب میں کیا گیا۔ فیسٹیول کے آخری روز 28 فروری کو  سپر سینما ووگ ٹاورز میں ایک تقریب کا بھی اہتمام کیا گیا جس میں پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین اور معروف فلم ڈائریکٹر سید نور، اداکارہ و کمپیئر عائشہ ثنا، سلمان شاہد، خواجہ سعید، کرنل ریٹائرڈ  خرم، مائرہ قریشی، محفوظ انجم، انعم راحیل اور لاہور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے انچارج رانا فاروق سمیت متعد اہم شخصیات نے شرکت کی فلم  فیسٹیول کے انچارج رانا فاروق نے اس موقع پر بتایا کہ اس فیسٹیول کے دوران روزانہ 25 فلمیں دکھائی  گئیں ان فلموں میں دستاویزی فلمیں، شارٹ  فلمیں اور فیچر فلمیں شامل  تھیں۔ پاکستان کے علاوہ فیسٹیول میں ایران، اٹلی، فرانس، کوریا، بھارت اور برطانیہ کی فلمیں بھی شامل تھیں۔ ان فلموں میں کچھ ایسی فلمیں بھی شامل تھیں جو متعدد ایوارڈز جیت چکی ہیں ان فلموں میں پاکستان کی مجاجن، نکے دا  چمٹا، اے میوزک فیری (نازیہ حسن) کوہ بار و بار، بھارتی فلم شپ آف  تھیز جس کی پروڈیوسر عامر خان کی بیوی کرن ہیں، ایران کی کلر آف پیراڈائز شامل تھیں رانا فاروق نے کہا کہ فیسٹیول بہت کامیاب رہا ہے این سی اے بیکن ہائوس نیشنل یونیورسٹی سمیت مختلف یونیورسٹیوں کے طلب و طالبات نے اس فیسٹیول میں بھرپور شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ فیسٹول کے دوران فلم ڈائریکٹر عدیل افضل کی فلم آخری بت، ڈائریکٹر حرا طارق کی فلم انجان، ڈائریکٹر آوش زہرہ کی فلم At the end of the barrel ڈائریکٹر احمد حسیب کی فلم A music Fairy ، ڈائریکٹر فرحان بھٹی کی فلم آزادی، ایرانی فلم Beloved skyڈائریکٹر ربیعہ حامد کی فلم بلاوا، ڈائریکٹر میر سکندر علی تالپور کی فلم دربان، ڈائریکٹر نوید انجم  کی فلم کالو، ایرانی فلم The color of paradise ، ایرانی فلم، The song of sparrow  ڈائریکٹر جعفر رضا کی فلم گمراہ، ڈائریکٹر  کامران فائق کی فلم گور مجھ سنگھ  کی وصیت، ایران  فلم Here without me ڈائریکٹر عامر مغل کی فلم انتظار، ڈائریکٹر محسن الیاس کی فلم جھمورا، ڈائریکٹر حاجرہ ارباب کی فلم Just between you, me & the four walls ڈائریکٹر  رضا شاہ کی فلم کرما، ڈائریکٹر  محمود ماتھور کی فلم کوہ باروبار، کورین فلم king and the clown ڈائریکٹر محمد ناظم کی فلم لذت سنگ، ڈائریکٹر ناصر علی مزاری کی فلم لائف، ڈائریکٹر راول کی فلم مابولی، ڈائریکٹر فیروز فیصل کی فلم می رقصم، کورین فلم Memories of Murder ، چینی فلم My Mongolian Mother ڈائریکٹر احسن جہانزیب کی فلم Nurturing ignorance ، ڈائریکٹر مرتضیٰ مری کی فلم نرسر، ڈائریکٹر سارہ خالد کی فلم نکے دا چمٹا، ڈائریکٹر عماد خالد کی فلم پاگل، فرانسیسی فلم Roue ، بھارتی فلم Ship of thesis ڈائریکٹر ناصر علی مزاری کی فلم سوگندی، ڈائریکٹر عرفان یونس کی فلم The martyr ، اٹلی کی فلم The wind blows around اور حماد منیر کی فلم The night of the saints شامل تھیں۔
  رانا فاروق نے کہا کہ ہم ان تمام ڈائریکٹرز کے شکر گزار ہیں جنہوں نے فیسٹیول میں اپنی  فلمیں بھیجیں۔ انہوں نے کہا کہ اس  فلم  فیسٹیول نے پنجاب یوتھ فیسٹیول کی دلچسپیوں میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیسٹیول میں شامل فلمیں دیکھ کر اندازہ ہوا کہ پاکستان میں بہت ٹیلنٹ ہے انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ بھی ایسے فیسٹیول منعقد کرتے رہیں گے تاکہ پاکستان کی فلم و سینما انڈسٹری کو فروغ ملے۔
لاہور انٹرنیشنل فلم فیسٹول کی اختتامی تقریب کے مہمان  خصوصی چیئرمین پاکستان فلم پرڈویوسرز ایسوسی ایشن اور معروف فلم ڈائریکٹر سید نور نے فیسٹیول کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں رائل پام گولف اینڈ کنٹری کلب کی انظامیہ کا شکریہ ادا  کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک خوبصورت اور کامیاب فلم فیسٹیول کا انعقاد کیا ہے ایسے فیسٹیولز سے یقیناً فلم و سینما انڈسٹری کو فروغ ملے گا جہاں تک فیسٹیول میں دکھائی گئی فلموں کا تعلق ہے تو بلاشبہ  یہ اچھی فلمیںہیں مجھے خوشی ہوئی ہے کہ پاکستان میں  اس قدر ٹیلنٹ موجود  ہے انہوں نے کہا اس ٹیلنٹ  کو آگے آنا چاہیے اور پاکستان کے لئے اچھی فیچر  فلمیں بنانی چاہئیں انہوں نے کہا کہ میں نے فلم اکیڈمی اسی مقصد کے لئے بنائی ہے تاکہ نوجوان فلم کے بارے میں آگاہی حاصل کریں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح دوسرے ممالک میں حکومتیں فلم انڈسٹری کو اہمیت دیتی ہیں پاکستان میں اس قدر نہیں دی جاتی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے کسی حکمران نے فلم انڈسٹری کی ترقی کے لئے ٹھوس اقدامات نہیں کئے ذوالفقار علی بھٹو نے نیفڈک کے نام سے ایک ادارہ بنایا جس نے فلم انڈسٹری کی ترقی کے لئے بڑا کام کیا بعد ازاں اس ادارے  کو بند کر دیا گیا۔ اگر اس ادارے میں خامیاں تھیں تو انہیں دور کیا جاتا بند نہیں کرنا چاہئیے تھا۔  انہوں نے کہا کہ فلم ابلاغ کا ایک اہم ذریعہ ہے جو بدقسمتی سے کچھ برسوں سے زوال کا شکار ہے۔ حکومت کو چاہئیے کہ ابلاغ اور تفریح کے اس اہم ترین ذریعے کو بچانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرے اگر ابلاغ اور تفریح کے اس اہم ترین ذریعے کی طرف  توجہ نہ دی گئی تو نہ صرف لوگ سستی تفریح سے محروم ہو جائیں گے بلکہ اس انڈسٹری سے وابستہ ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت  سے ہمیں بہت سی توقعات وابستہ ہیں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف سے درخواست  ہے کہ فلم انڈسٹری کو بچانے کے لئے ٹھوس اقدامات کریں۔