اب غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا بیڑہ اٹھالیں

11 مارچ 2014

وزیراعظم نوازشریف کا تھر کے قحط زدہ علاقوں کا دورہ اور ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان

وزیراعظم میاں نوازشریف نے متاثرین تھر کیلئے ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے سندھ حکومت کو حکم دیا ہے کہ تھر میں قحط کی صورتحال اور خوراک کی قلت کے باعث ہونیوالی اموات کے ذمہ داروں کو سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے پیر کے روز وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ‘ پیپلزپارٹی کے لیڈر بلاول بھٹو زرداری اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید کے ہمراہ تھر کے قحط زدہ علاقے کا دورہ کیا اور مٹھی میں تھر کی صورتحال پر بریفنگ کیلئے منعقدہ تقریب کی صدارت کی۔ انہوں نے اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ کو یہ امر یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ آئندہ تھر میں ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے دی جائے اور اس امر کی بھی تحقیق کی جائے کہ تھر میں بھجوائی گئی گندم تقسیم کیوں نہیں ہوئی؟ انکے بقول اگر چولستان اور تھرپارکر کے حالات ایک جیسے ہیں تو تھرپارکر میں اموات کیوں ہوئی ہیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جو لوگ علاج کیلئے تھر سے باہر نہیں جا سکتے‘ انہیں یہیں پر علاج کی سہولیات فراہم کی جائیں جس کیلئے وفاقی اور پنجاب حکومت سندھ کے ساتھ مکمل تعاون کریگی۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کر متاثرین کیلئے امداد کا پیکیج تیار کریگی۔ انہوں نے سول ہسپتال مٹھی کو ہمہ وقت کھلا رکھنے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے سول ہسپتال مٹھی کا دورہ بھی کیا اور وہاں زیر علاج متاثرہ بچوں کی بیمار پرسی کی۔
بریفنگ کے دوران اگرچہ تھرپارکر کے ضلعی افسر نے دعویٰ کیا کہ خوراک کے چھ ہزار تھیلے اور گندم کی سوا لاکھ بوریاں متاثرین تھر میں تقسیم کی گئی ہیں‘ تاہم میڈیا رپورٹس میں حقیقت حال اسکے قطعی برعکس نظر آتی ہے۔ ایک رپورٹ کیمطابق ایک سٹاک میں موجود گندم کی 95 ہزار میں سے صرف 980 بوریاں متاثرین تک پہنچ پائیں جبکہ ایک رپورٹ میں اس امر کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ صوبائی وزیر دوست محمد راہو کے عزیزوں نے سرکاری گودام سے متاثرین کو گندم کی تقسیم رکوا دی۔ رپورٹس کیمطابق ایک گودام میں اس وقت بھی 14 ہزار 800 گندم کی بوریاں موجود ہیں جنہیں تقسیم کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی۔ یہی صورتحال ادویات کے سٹاک کی ہے‘ جو محکمہ صحت اور متعلقہ انتظامی مشینری کی روایتی بے نیازی کے باعث تھر کے قحط زدہ علاقوں میں قائم کئے گئے میڈیکل کیمپوں میں پہنچائی ہی نہیں جا سکیں۔ اس سلسلہ میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے متاثرین تھر کو خوراک و ادویات کی شکل میں فوری امداد فراہم نہ کئے جانے کی غلطی کا اعتراف کرکے اور سندھ حکومت کی جانب سے اسکی ذمہ داری قبول کرکے ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز مٹھی میں وزیراعظم نوازشریف کی بریفنگ کے دوران بھی سندھ حکومت کی غلطی کا اعتراف کیا مگر کیا اس اعتراف سے اس نقصان کی تلافی ہو سکتی ہے جو تھر کے قحط سے متاثرہ لوگوں کو محض خوراک اور ادویات نہ ملنے کے باعث اپنے بچوں کی اموات کی صورت میں اٹھانا پڑا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک تو یہ صورتحال ہے کہ تھر میں قحط کی ٹوٹنے والی افتاد سے بچوں اور مویشیوں کی ہلاکتوں کی خبریں ملکی اور غیرملکی میڈیا پر آنے کے بعد بھی صوبائی اور متعلقہ ضلعی مشینری حرکت میں نہیں آئی اور انہوں نے اپنی روایتی غفلت برقرار رکھی‘ نتیجتاً بھوکے پیاسے‘ لاغر‘ بیمار بچوں کی اموات کا سلسلہ بڑھتا گیا اور گزشتہ ایک دن میں تین ہزار مریض ہستپالوں میں داخل ہوئے۔ جب وفاقی اور صوبائی حکومت نے تھر کی صورتحال کا نوٹس لیا تو میڈیا رپورٹس کے مطابق انتظامی مشینری نے دکھاوے کیلئے صرف مٹھی میں امدادی کارروائیاں کیں مگر قحط سے متاثرہ دیگر علاقوں میں کوئی سرکاری ٹیم خوراک و ادویات لے کر نہیں پہنچی چنانچہ وہاں کے لوگ بدستور ایڑیاں رگڑتے موت کی وادی کی جانب دھکیلے جا رہے ہیں۔ اب وزیراعظم نے تھر کا دورہ کرکے متاثرین کیلئے فوری طور پر ایک ارب روپے کی امداد کی فراہمی اور اسکے بعد سندھ حکومت کی معاونت سے امدادی پیکیج تیار کرنے کا اعلان کیا ہے مگر اس وقت تک متاثرین تھر پر نہ جانے کیا کچھ بیت چکا ہو گا جبکہ امدادی رقم اصل متاثرین تک پہنچ بھی پائے گی یا نہیں۔ اس بارے میں بھی ماضی کے ریکارڈ اور تجربات کی بنیاد پر کئی سوالیہ نشانات اجاگر ہو رہے ہیں۔ خود وزیراعظم کو تھر میں بچوں کی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہونے کے ایک ہفتے بعد تھر جانے کی فرصت ملی جبکہ تھر کی ثقافت کے نام پر سندھ فیسٹیول کی رونقیں لگانے والے پیپلزپارٹی کے رہنماءبلاول بھٹو زرداری کو بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہی تھر جانے کی توفیق ہوئی۔ یہ صورتحال حکمران طبقات کی عوامی مسائل سے بے نیازی کی ہی غمازی کرتی ہے جبکہ تھر میں قحط کی صورتحال درحقیقت حکمران طبقات کی اپنی پالیسیوں کی پیدا کردہ ہے‘ جنہوں نے پاکستان پر آبی دہشت گردی کی بھارتی سازشوں کا علم ہونے کے باوجود ملک کے آبی ذخائر کو متعلقہ علاقوں میں خشک سالی دور کرنے اور توانائی کے منصوبوں کیلئے بروئے کار لانے کی نہ صرف زحمت گوارا نہ کی بلکہ سیاسی دکانداری چمکاتے ہوئے دریائے سندھ پر آج تک کالاباغ ڈیم کی تعمیر بھی نہیں ہونے دی۔
یہ بھارتی عزائم اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے کہ اس نے ہمیں پانی کے وسائل سے محروم کرنے کیلئے ہی کشمیر پر تسلط جمایا ہوا ہے تاکہ وہ جب چاہے مون سون کے دوران فالتو پانی چھوڑ کر پاکستان کو سیلاب میں ڈبو دے اور جب چاہے خشک موسم میں پانی روک کر یہاں خشک سالی اور قحط کے حالات پیدا کردے۔ سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک جیسے مستند آبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے ہی ان بھارتی سازشوں کا توڑ کیا جا سکتا ہے جبکہ یہ ڈیم ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرکے توانائی پر قابو پانے میں بھی معاون ہو سکتا ہے مگر بدقسمتی سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے سابق اور موجودہ حکمرانوں نے محض اپنے اپنے اقتدار کے تحفظ کی خاطر مفاد پرست سیاست دانوں کے دباﺅ میں آکر کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے ہاتھ کھنیچ لیا۔ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور میں 18ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اے این پی کے لیڈروں نے یہ فخریہ اعلان کیا کہ انہوں نے کالاباغ ڈیم کی فائل دریائے سندھ میں ڈبو دی ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت بھی اسی پالیسی پر گامزن ہے اور گزشتہ ماہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف یہ اعلان کر چکے ہیں کہ قومی اتفاق رائے کے بغیر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اس وقت تھر ہی نہیں‘ جنوبی پنجاب کا علاقہ چولستان بھی قحط کی زد میں ہے جہاں گزشتہ ایک سال سے بارش کی ایک بوند بھی نہ برسنے کے باعث خشک سالی کا دور دورہ ہے اور اب وہاں تھر جیسے قحط کے سائے منڈلا رہے ہیں چنانچہ وہاں کے مکینوں نے اپنی زندگیاں بچانے کیلئے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ قدرتی آفات سے ہونیوالے نقصانات تو اپنی جگہ مگر حکومتی پالیسی سازوں کی بے تدبیریوں اور روایتی غفلت کے نتیجہ میں اگر قدرتی آفات کے علاوہ بھی ملک کے کچھ علاقوں میں قحط کی صورتحال پیدا ہوئی ہے تو حکمران اسکی ذمہ داری سے خود کو کیسے بری الذمہ قرار دلا سکتے ہیں۔ یہ تحقیق شدہ امر ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی صورت میں اس کا سب سے زیادہ فائدہ تھر اور چولستان کے علاقوں کو ہی ہونا تھا جس کے پانی سے ان علاقوں میں خشک سالی کا توڑ کیا جا سکتا تھا اور خوراک نہ ملنے سے لوگوں کو اموات کا شکار ہونے سے بچایا جا سکتا تھا اس لئے وزیراعلیٰ سندھ نے جہاں تھر کے قحط زدہ علاقوں میں خوراک اور ادویات نہ پہنچائے جانے کی غلطی کا اعتراف کیا ہے‘ وہیں اب انہیں تھر کے حالات دیکھ کر کالاباغ ڈیم تعمیر نہ ہونے دینے کی غلطی کا بھی اعتراف کرلینا چاہیے اور وفاقی حکمرانوں کو بھی اب اصل صورتحال کا ادراک کرکے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا بیڑہ اٹھا لینا چاہیے۔ اگر اب بھی کالاباغ ڈیم اور دوسرے ڈیمز کی تعمیر کیلئے کوئی پیشرفت نہ کی گئی تو صرف تھر اور چولستان نہیں‘ پورے ملک میں قحط اور خشک سالی کا راج ہو گا اور ہم بھارتی سازش کے تحت عملاً اسکے دست نگر ہو کر ملک کی سالمیت اور خودمختاری اسکے حوالے کردینگے۔ اس معاملہ میں ہمارے حکمرانوں کیلئے تھر کے حالات سے بڑا سبق اور کیا ہو سکتا ہے۔ کیا وہ اب بھی اپنی غلطی سے سبق سیکھنے کی روایت نہیں ڈالیں گے؟