طالبان کمیٹی کی بجائے حکومت سے براہ راست مذاکرات کریں

11 مارچ 2014

تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کےلئے نئی کمیٹی کے قیام پر اتفاق رائے کےلئے حکمران مسلم لےگ (ن) نے سیاسی جماعتوں سے رابطے شروع کر دئےے ہیں۔ گزشتہ روز وفاق وزیر داخلہ چودھری نثار نے عمران خان کو فون کر کے خیبر پی کے کی نمائندگی کےلئے نام مانگ لئے ہیں۔ دوسری طرف خیبر پی کے حکومت نے طالبان کو پشاور میں دفتر کھولنے کی پیشکش کر دی ہے۔
 حکومت طالبان کے ساتھ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں مخلص نظر آتی ہے اس بنا پر حکومت نے طالبان کی جانب سے 23سیکورٹی اہلکاروں کے قتل اور کراچی میں پولیس گاڑی کو دھماکے سے اڑانے کے باوجود امن کو ایک اور موقع دے کر مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کےلئے طالبان کی جنگ بندی کی پیشکش کا مثبت جواب دیا ہے۔ حالانکہ طالبان کے ہاتھوں اس قدر جنازے اٹھانے کے بعد مذاکرات کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا لیکن حکومت نے گولی کی بجائے مذاکرات کو ترجیح دی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے چیئرمین تحریک انصاف سے خیبر پی کے کی نمائندگی کیلئے نام مانگ لیا ہے۔ خیبر پی کے حکومت نے طالبان کو پشاور میں دفتر کھولنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ ویسے بھی خیبر پی کے حکومت طالبان کے بارے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ طالبان کو مذاکرات میں براہ راست شامل ہونے کیلئے پشاور میں دفتر کھو ل لینا چاہئےے تاکہ مذاکرات کامیاب ہو سکیں اور تحریک طالبان کو مذاکرات سے الگ ہونیوالے گروپوں کی سرکوبی کےلئے کوئی لائحہ عمل طے کرنا چاہئےے۔ تاکہ مذاکرات کے دوران کوئی گروپ شب خون مار کر مذاکراتی عمل کو سبوتاژ نہ کر دے۔ گزشتہ دنوں سانحہ¿ اسلام آباد کے حوالے سے جس طرح احرار الہند نامی گروپ سامنے آیا ہے۔اس صورت میں تو مذاکرات کی کامیابی کی ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی اور مخصوص ایجنڈہ رکھنے والا کوئی دوسرا گروپ کسی اور نام سے دہشت گردی کرکے مذاکرات کو سبوتاژ کر سکتا ہے اس لئے کالعدم ا تحریک طالبان کو ایسے گروپوں کے خلاف خود ہی کارروائی کرنی چاہئےے۔