پاکستان کو ہر صورت پولیو فری بنانا ہو گا

11 مارچ 2014
پاکستان کو ہر صورت پولیو فری بنانا ہو گا

 پاکستان میں پولیو کیسز میں 800 فیصد اضافے کا انکشاف ہونے پر عالمی ادارہ صحت کو سخت تشویش لاحق ہو گئی۔ پاکستان سے پولیو وائرس دیگر ممالک میں منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی سربراہ مارگریٹ جان بدھ کو ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ کر وزیراعظم نوازشریف، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پیپلزپارٹی کے بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کرینگی۔ وزیراعظم نے پولیو کیسز بڑھنے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر مملکت سائرہ افضل تارڑ کو موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
پاکستان‘ نائیجریا اور افغانستان کے سوا پوری دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ نائیجریا اور افغانستان سے یہ مرض بتدریج کم جبکہ پاکستان میں بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی تشویش بجا ہے کہ یہ دوسرے ممالک کو بھی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ بعض ممالک پاکستانیوں کے اپنے ہاں داخلے پر پابندی لگانے کا سوچ رہے ہیں۔ پاکستان میں اس مرض میں اضافے کی وجہ کچھ لوگوں کی سرکشی ہے جو پولیو قطروں کو اپنے ناقص علم کے باعث غیر شرعی قرار دیتے ہیں۔ ان لوگوں نے ملک کے کئی علاقوں کو پولیو ٹیموں کیلئے نوگو ایریا بنا دیا ہے۔ انکی بہیمانہ کارروائیوں میں بیس سے زائد پولیو ورکرز اور انکے محافظ قتل کئے جا چکے ہیں۔ ایسی خوف کی فضا میں پولیو ورکرز کا خطرناک علاقوں میں مہم جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ اگر حکومتی سطح پر اقدامات نہ کئے گئے تو پاکستان دنیا میں تنہا رہ جائیگا اور نسلیں بھی زندگی بھر کی معذوری کا شکار ہوں گی۔ میاں نواز شریف نے وزیر مملکت کو موثر اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ وزیر کے بس کی بات نہیں۔ پوری قوم کو اعتماد میں لینا‘ مخالفین کو موٹیویٹ کرنا ہو گا اور اگر وہ بضد رہتے ہیں تو نئی نسل کو ان کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا ان کیخلاف مرکزی اور صوبائی حکومتیں مل کر لائحہ عمل تیار کریں اور پولیو ورکرز کو فول پروف سکیورٹی کی فراہم کرکے یہ کار خبر جاری رکھا جائے۔