منگل ‘ 9 جمادی اوّل 1435ھ‘ 11 مارچ 2014ئ

11 مارچ 2014

حکومت وعدوں سے پھر گئی، مطالبات پورے نہ ہوئے تو ”بائے بائے“ کریں گے : حافظ حسین احمد !
جے یو آئی کے طوطی¿ خوش بیان ترجمان کے اس بیان پر اب معلوم نہیں مولانا فضل الرحمن کیا ارشاد فرماتے ہیں تاہم ایک بات ضرور ہے کہ اس قسم کی ”مادر پدر آزادانہ“ بیان بازی پر پہلے بھی کافی عرصہ حافظ جی کی زبان بندی کی گئی تھی اور عوام الناس ان کے خشک وعظ سُن سُن کر بور ہو گئے تھے اب جو انہیں اذن عام ملا ہے تو لگتا ہے انہوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور پچھلے کچھ عرصہ سے ان کی رگِ ظرافت پھر سے پھڑک اُٹھی ہے اور وہ ظریفانہ قسم کے بیانات دینے لگے ہیں جس سے لوگ بہر صورت بہت محظوظ ہو رہے ہیں۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ بھولے بادشاہ خدا خدا کر کے منتیں ترلے کر کے آپ کی جماعت نے اور قائد محترم نے نامعلوم کتنے چلے کاٹ کر کون کونسے پاپڑ بیلنے کے بعد نواز شریف کے دل کو رام کیا اور کشمیر کمیٹی سمیت چند عدد وزارتوں کی نوید مسرت حاصل کی جس کی خوشی سے وہ آج تک پھولے نہ سما رہے تھے حالانکہ اب تک ان کے وزراءبیچارے بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانے بنے ہوئے ہیں۔ اب اُن کی یہ بے چارگی کسی سے دیکھی نہیں جا رہی اور حالات ایں جا رسید کہ طالبان منہ لگا رہے ہیں نہ حکومت گھاس ڈال رہی ہے کیونکہ طالبان بھی مولانا سے حکومت کے ساتھ بیٹھنے پر ناراض ہو گئے ہیں اور انہیں ناقابل اعتماد سمجھنے لگے ہیں گویا .... ع
”اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی“
اس بات کا مولانا فضل الرحمن کو پہلے ہی سے ادراک کرنا چاہیے تھا مگر وہ حکومت میں شمولیت کیلئے اتنے بیتاب تھے کہ انہیں کچھ نہیں سوجھ رہا تھا۔ وزارتوں اور کشمیر کمیٹی سے دوری ان کیلئے سوہان روح بن گئی تھی اور اب یہ منظر ہے کہ حکومت کے نزدیک ان کی زیادہ اہمیت نہیں ہے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ جے یو آئی کو کس طرح منایا جا سکتا ہے۔ ان حالات میں مولانا کی طرف سے قومی سلامتی ایکٹ کے خلاف احتجاج کا پروگرام ”ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ“ والی مثال بن جائے گا اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا خواب کہیں ان کے اپنے لئے ٹف ٹائم ثابت نہ ہو جائے اور انہیں لینے کے دینے پڑ جائیں کیونکہ طالبان بھی گھات لگا کر ان کی راہ میں بیٹھے ہیں۔ اس لئے انہیں ہر قدم پھونک مار مار کر اٹھانا پڑے گا۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
گھوڑے، کتے اور بلیاں پاکستانی سیاستدانوں کے پسندیدہ جانور ہیں !
یہ خبر پڑھ کر جتنا صدمہ ہمیں ہُوا شاید کسی اور کو نہ ہُوا ہو گا۔ ہم جیسے جنہیں عرف عام میں عوام کہا جاتا ہے کاش انسان نہ ہوتے ان خوش نصیب جانوروں میں سے ہوتے جنہیں یہ ارب پتی لوگ نہایت پیار سے چمکارتے ہیں گود میں کِھلاتے ہیں، اعلیٰ قسم کے شیمپو سے نہلاتے ہیں، بیرونی ممالک سے درآمد کیا کھانا انہیں ملتا ہے، سالانہ طبی معائنہ ان کا ہوتا ہے گرمیوں میں ائر کنڈیشنڈ کمرے میں آرام اور سردیوں میں گرما گرم ماحول میں روز شب بسر ہوتے ہیں۔ مگر افسوس ہم صرف عام آدمی ہیں جن کے نام پر ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں ایک جماعت بھی بنی جس کا انتخابی نشان ”جھاڑو“ تھا۔ ہمیں امید ہوئی تھی کہ چلو اب کہیں نہ کہیں ہماری سُنی جائے گی اور ہمارے دن بھی بدلیں گے کیونکہ مثل مشہور ہے ”خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے“ پڑوسی کی دیکھا دیکھی ہمارے ملک میں بھی ”عام عوام“ کے دن پھر جائیں گے۔ مگر ایسے نصیب کہاں ہمارے، بھارت میں بھی ”عام آدمی پارٹی“ کی قسمت پر طاقتور کرپٹ مافیا کی پارٹیوں نے ایسا ”جھاڑو“ پھیر دیا اور انہیں دہلی کی حکومت چھوڑنا پڑی اور اس پر بھی بس نہیں ہوا۔ پہلے کئی عوامی رہنماﺅں کی غنڈوں نے ٹھکائی کر دی اور وہ بھی سرعام اور گذشتہ روز کسی ”رقیب“ روسیاہ نے ایک عوامی رہنما کے چہرے پر ”کالک“ مل دی یوں ہم جیسے ”عام لوگوں“ کو ان کی اوقات یاد دلائی گئی۔ گویا خود ہی نشان عبرت بن گئے۔ ان حالات کے بھی ہم خود ذمہ دار ہیں کیونکہ ہم بارہا جوتے کھانے کے بعد بھی ووٹ کے ذریعے گرا ہُوا جوتا دوبارہ اٹھا کر انہی ہاتھوں میں دے دیتے ہیں جو ہمیں پیٹ رہے ہوتے ہیں۔
٭۔٭۔٭۔٭۔٭
ریڈیو پاکستان پر تلاوت کا دورانیہ کم کرنے پر علماءبرہم !
ہم تو سمجھتے تھے کہ ریڈیو اب متروکہ ہو چکا ہے اور لوگ اسے پرانے سامان کی طرح کسی گودام میں یا کاٹھ کباڑ میں ڈال کر فراموش کر چکے ہیں مگر لگتا ہے ہمارے وہ علماءجو ٹی وی کو آج بھی خرابی کا منبع سمجھتے ہیں اور ٹی وی جیسی خرافات سے دور ہیں وہ آج بھی ریڈیو کو اپنے سینے اور سرھانے سے لگا کر رکھتے ہیں۔ وہ بھی دور تھا جب شہروں اور دیہات میں ریڈیو کا بول بالا تھا۔ چھوٹا ہو یا بڑا سب اسکے دیوانے تھے اور باقاعدہ لوگ کانوں سے لگا کر اسے کاندھے پر اٹھائے چلتے پھرتے اس کے پروگرام اور خبریں سُنتے تھے پھر یہ دور آیا کہ ٹی وی نے اسکی اہمیت کم کر دی اور آج جا بجا چلنے والے چینلوں کے باعث تو لوگ کانوں سُنی سے زیادہ آنکھوں دیکھی کے دیوانے ہو چکے ہیں اور 24گھنٹے ٹی وی کے درشن کرتے ہیں۔
ان حالات میں کم از کم حکومت کو چاہئے کہ وہ ان لوگوں کی خواہشات کا احترام کر کے ریڈیو کی پالیسیان بنائے جو ریڈیو سُنتے ہیں۔ رہی بات تلاوت کے اوقات کم کرنے کی تو یہ نہایت نامناسب حرکت ہے۔ تلاوت کلام مجید کا سُننا بھی ثواب ہے تو اسے پیش کرناثواب ہے اس لئے ریڈیو حکام دوہرا ثواب حاصل کرنے کی سعادت سے محروم نہ ہوں اور پرانا شیڈول برقرار رکھیں۔ ویسے علماءکرام اگر ٹی وی پر نظر کرم فرمائیں تو ٹی وی کے بھی متعدد چینلز صرف تلاوت و نعت اور دینی پروگرام ہی نشر کرتے ہیں ان کو کبھی دیکھنا اور سُننا بھی کارِ ثواب ہے۔