سفید ہاتھی

11 مارچ 2014
سفید ہاتھی

”اسلام آباد بہت محفوظ شہر ہے۔ اسلام آباد سے دہشتگردوں کا صفایا کردیاگیا ہے“۔ ہمارے معزز وزیر داخلہ کے اس ”دبنگ“ بیان کی صدا ابھی گونج ہی رہی تھی کہ اسلام آباد کچہری میں حملہ ہو گیا۔بقول چیف جسٹس ”دہشت گرد دندناتے ہوئے آئے۔ایڈ یشنل سیشن جج سمیت گیارہ لوگ مارے گئے‘ 29 زخمی ہوئے۔دہشت گرد آرام سے واپس چلے گئے ۔ نہ کوئی زخمی ہوا نہ پکڑا گیا“جج صاحب کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے لال مسجد کیس کی ایک اپیل خارج کر دی تھی۔اس واقعہ کے بعد بھی اگر کوئی جج دہشتگردی کے خلاف کسی کاروائی کی جرا ¿ت کریگا تو یقیناً اُسے ستارہ جرا¿ ت ملنا چاہیے۔ یہ ہے ہماری شاندار سیکورٹی ۔یاد رہے کہ ہم اسوقت حالت جنگ میں ہیں اور دہشت گردوں کیخلاف فاٹا میں کاروائی کے بعد ایک بچہ بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ اسکا رد عمل کہیں نہ کہیں ضرور ہوگا۔ پھر بھی احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنا یا تو نا اہلی ہے یا پھر سراسر مجرمانہ غفلت ۔بہر حال اس موضوع پر مزید کچھ کہنے سے پہلے مندرجہ ذیل دو مثالیں پیشِ خدمت ہیں۔میجر سلطان احمد (مرحوم) پاکستان آرمی کے ایک مایہ ناز کمانڈو آفیسر تھے جنہیں دو دفعہ بہادری کی وجہ سے ستارہ جرا¿ت ملا۔ یہ غالباً 1966-67کا واقعہ ہے کہ ہم دو آفیسرز میجر صاحب کے ساتھ انکی کار میں کاکول سے پنڈی آرہے تھے ۔راستے میں میجر صاحب نے جنگ ستمبر کے کئی قصے سنائے۔ہم نے میجر صاحب سے پوچھا کہ انکے وسیع جنگی تجربے کے مد نظر اُنکے خیال میں پاک آرمی کی سب سے بڑی کمزوری کیا ہے؟ میجر صاحب نے بلا تامل جواب دیا: ” ہماری سیکورٹی (انٹیلی جنس) ایجنسیاں “بات جاری رکھتے ہوئے کہا : ”6ستمبر1965کو انڈین آرمی ہماری سرحدوں تک پہنچ گئی اور ہماری کسی ایجنسی نے کوئی اطلاع نہ دی۔پاکستان پر خدانخواستہ جب بھی کوئی آفت آئی وہ ان ایجنسیوں کی نا اہلی کی وجہ سے ہو گی“۔میجر صاحب نے واہ آرڈننس فیکٹری میں اپنے ایک دوست سے ملنا تھا۔جب ہم فیکٹری کے گیٹ پر پہنچے تو میجر صاحب نے کہا: ” آئیں میں آپ کو اس اہم قومی ادارے کی سیکورٹی دکھاتا ہوں“۔فیکٹری میںداخل ہونیوالے اشخاص کے کوائف لکھنے کیلئے گیٹ پر ایک رجسٹر رکھا تھا۔ہمارے ساتھ آنیوالے تمام آفیسرز نے اپنے اپنے کوائف لکھے۔اب میجر صاحب نے اپنے کوائف کچھ یوں لکھے ”نام :میجر تارا سنگھ، یونٹ: 2سکھ بٹالین،سٹیشن: چندی گڑھ، وزٹ کا مقصد: تخریب کاری“۔یہ لکھ کر ہم اندر چلے گئے۔ہم نے وہاں تقریباً ایک گھنٹہ گزارا اور آرام سے واپس آگئے ۔کسی نے آج تک نہیں پوچھا۔ باہر آکر میجر صاحب نے کہا: ”یہ ہے ہماری سیکورٹی۔پر اعتماد طریقے سے کہیں بھی جا کر کسی کو بھی بلف کیا جا سکتا ہے“۔
2جنوری2013کو ایک ٹرک بارودی مواد بھر کر لاہور سے نکلا۔پورے پنجاب سے گزر کر کوئٹہ پہنچا۔ چپے چپے پر سیکورٹی ایجنسیاں موجود ہیں۔لگ بھگ 1/2درجن چیک پوسٹس بھی کراس کیں لیکن کسی نے نہ پوچھا۔کوئٹہ پہنچ کر یہ ٹرک آرام سے اپنے ٹھکانے پر مال اتار آیا۔وہاں دہشتگردی کیلئے ایک وین تیار کی گئی اور پھر 10جنوری2013 کو ہزارہ قبیلے کے اہل تشیع پر قیامت ڈھا دی گئی ۔130بے گناہ افراد لقمہ اجل بن گئے اور 270زخمی ہوئے جن میںمعصوم بچے‘ بے گناہ خواتین اور جوان و بزرگ شامل تھے۔حیران کن بات یہ ہے کہ ٹرک پورا مواد دہشت گردوں کے ٹھکانے پر اُتار آیا۔ایک ہفتہ منصوبہ بندی ہوتی رہی لیکن ہمارے عظیم سیکورٹی ادارے نہ اسکی بُو واقعہ سے پہلے سونگھ سکے اور نہ بعد میں۔شاید آج تک نہیں۔یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ ٹھکانہ یا اِس جیسے مزید ٹھکانے کب سے وہاں کام کر رہے ہیں لیکن کوئٹہ شہر عرصہ دراز سے دہشت گردی کا نشانہ ہے۔
معزز قارئین! ان دو مثالوں کو سامنے رکھ کر ذرا اپنے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی کو پرکھیں تو وہاں مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔سیکورٹی ادارے کسی بھی ملک کی آنکھوں اور کانوں کا کام کرتے ہیں اور موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان ایک ایسے شخص کی مانند ہے جو آنکھوں اور کانوں سے محروم ہو۔قوموں کی زندگی میں عروج و زوال آتے رہتے ہیں لیکن وہ اسطرح بے بس نہیں ہوتے جسطرح ہم ہو چکے ہیںاور اسکی واحد وجہ ہماری سیکورٹی ایجنسیوں کی نا اہلی ہے۔دہشتگردی صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک اس عفریت کا شکار ہیں۔سب اپنے اپنے انداز میں اس عذاب سے نبٹ رہے ہیںجس میں اب تک سب سے کامیاب اسرائیل ہے۔ وژن سے عاری یہ ہماری سیکورٹی ایجنسیاں ہی تھیں جنہوں نے جہادیوں اور مجاہدین کی شکل میں طالبان کی بنیاد رکھی۔پھر انکی اس لاڈ پیار سے پرورش کی کہ اب وہ ہمیں ہی نگلنے کے درپے ہیں۔اس سلسلے میں کئی مثالیں دی جاتی ہیں لیکن سب سے اہم واقعہ اوجھڑی کیمپ کا ہے۔لوگ دبے دبے الفاظ میں نہیں بلکہ واضح الفاظ میں نام لے کر بتاتے ہیں کہ ایجنسیوں میں کام کرنے کی وجہ سے کیسے کیسے غریب غرباءبھی ارب پتی بن گئے۔
ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اسوقت ملک میں کم و بیش33ایجنسیاں کام کر رہی ہیں جن میں ورکرز کی تعداد چھ لاکھ سے بھی زائد ہے اور ابھی تک 56ہزار اسامیاں خالی ہیں۔ یہ تعداد پاکستان آرمی کی تعداد سے بھی کہیں زیادہ ہے ۔اگر ان ایجنسیوں کے بجٹ پر نظر ڈالی جائے تو یہ ملک کے وہ سفید ہاتھی ہیں جنہوں نے ملک کو تقریباً تقریباً مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ پرائیویٹ سیکورٹی ایجنسیاں اسکے علاوہ ہیں۔ ہر ادارے کے مزید اپنے اپنے سیکورٹی انتظامات بھی ہیں جن پر اچھا خاصا سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔ لیکن کارکردگی کی یہ حالت ہے کہ یہ عظیم ایجنسیاں نہ تو آج تک وی آئی پی شخصیات کا قتل روک سکیں اور نہ انکے قاتلوں تک پہنچ سکیں۔ نہ ہی بم دھماکے، خود کش دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، بنکوں میں ڈاکے او ر اہم دفاعی اداروں یا جیلوں پر حملے روک سکیں۔معذرت سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ خود تو مالا مال ہو گئے اور قوم مفلوک الحال۔اہل علم اور دانشور حضرات کی رائے میں:
 ہماری ایجنسیوں کی تعداد اتنی زیادہ بڑھ چکی ہے کہ اب ان پر قابو پانا یا ان کی کاروائیوں کو کسی مربوط انداز میں م¾وثر بنانا کسی حکومت کے بس میں نہیں بلکہ حکومتیںخود بھی ان ایجنسیوں سے خائف رہتی ہیں۔ اس سلسلے میں مڈ نائٹ جیکالزیا محترم ائیر مارشل اصغر خان کیس ہی دیکھ لیں سب کچھ واضح ہو جاتا ہے۔ ہماری ایجنسیاں اخلاقی طور پر انحطاط پذیر ہیں۔ ویسے تو ہمارے تمام ادارے اخلاقی طور پر تباہ ہو چکے ہیں مگر سیکورٹی ایجنسیاں جو ملک کی سلامتی کی ذمہ دار ہیں اُن سے ایسی توقع نہیں ہوتی مزیدبد قسمتی یہ کہ ہماری ایجنسیوں کے کچھ لوگ دہشت گردی میں بذاتِ خودملوث پائے گئے ہیں اور یہ لوگ دہشتگردوں اور ٹارگٹ کلرز سے رابطے میں ہیں۔ اسی لئے جرائم ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔کچھ واقف کاران یہ بھی کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ ایجنسیوں کے لوگ ہی تو دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں کیونکہ دہشت گردی توانکے لئے سونے کی کان ہے۔جب محافظ ہی ڈاکو بن جائیں تو اسے قومی المیہ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے؟ ہماری ایجنسیاں پیشہ ورانہ طور پر بھی قابل اعتماد نہیں رہیں کیونکہ ان میں قومی خدمات کی بجائے ذاتی مفادات کا جذبہ سرایت کر چکا ہے۔اگر یہ ایجنسیاں پیشہ ورانہ طور پر اہل ہوتیںتو دہشت گردی پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا تھا۔ اور تو اور مسنگ پرسنز کا الزام بھی انہی ایجنسیوں پر ہے اور وہ اپنی پوزیشن کلیر بھی نہیںکر تیں۔
معزز قارئین! ہماری ایجنسیوں کی موجودہ حالت کافی تکلیف دہ ہے ۔ہماری حکومتوں کا رویہ بن چکا ہے کہ جب بھی کوئی پریشر آتا ہے ان ایجنسیوں کی پیشہ ورانہ اہلیت بڑھانے کی بجائے انکی تعداد بڑھا دی جاتی ہے جس وجہ سے پاکستان اب سیکورٹی سٹیٹ بن چکا ہے اور بد قسمتی سے اب ہم اُس خطرناک مرحلہ تک پہنچ چکے ہیں جہاں ہم کسی بھی بڑے قومی سانحہ سے دو چار ہو سکتے ہیں ۔لہٰذا اربابِ اختیار کیلئے قومی مفادات کے پیشِ نظر ان ایجنسیوں کی فوری تنظیمِ نو ضروری ہو گئی ہے۔انہیں ”سفید ہاتھی“ بنانے کی بجائے محدود تعداد کے ساتھ پیشہ ورانہ طور پر مﺅثر بنائیں۔