وفاق اور پنجاب حکومت کے 100 دن

پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ شہباز شریف اور مریم نواز کی حکومت کے پہلے 100 دن میں مہنگائی میں17 فیصد کمی آچکی ہے۔ 100دن میں آٹا‘ روٹی، گھی کی قیمت میں واضح کمی آچکی ہے۔ کسانوں کو جدید مشینری کی رعایتی قیمت پر فراہمی شروع کی جاچکی ہے۔ مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے وفاق اور پنجاب میں 100 دن کے دوران ایک بار پھر عوام کو نئی امید اور ملک کو درست سمت دی ہے،حکومت کی اس مختصر مدت میں دوائی مفت اور علاج کی فراہمی گھر کی دہلیز تک پہنچانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، پاکستان اور پنجاب کا پہلا سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا پروگرام شروع کردیا گیا ہے جبکہ صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے کہا ہے کہ مریم نواز نے 100دنوں میں 42 عوامی مفادکے منصوبے متعارف کرائے ہیں۔ مفت علاج معالجے کیلئے فیلڈ ہسپتال،کینسر کی مفت ادیات اور کلنک آن ویلز پروگرام متعارف کرائے،پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ایئرایمبولینس کی سہولت متعارف کرانے جارہے ہیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کے پہلے سو دن کی کارکردگی، کاوشوں کے لحاظ سے نہ صرف اطمینان بخش ہے بلکہ قابل تعریف بھی ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف کی عوامی خدمت‘ ملکی ترقی میں انکی لگن‘ کام کو فوری انجام تک پہنچانے کی تیزی اور عہد کی پاسداری پر چین نے بھی انکی تعریف کی بلکہ انہیں ”پاکستان سپیڈ“ کے لقب سے بھی نوازا ہے۔ اسی طرح پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز بھی اپنی حکومت کے پہلے سو دنوں میں کافی متحرک نظر آئیں‘ پنجاب کو بہترین منصوبے دیئے اور عوام کو سستی روٹی اور سستا آٹا‘ علاج معالجے کیلئے مفت ادویات اور فیلڈ ہسپتالوں کی سہولیات فراہم کرکے انہیں بہت بڑا ریلیف دیا۔ اس تناظر میں وفاقی اور پنجاب حکومت کی کارکردگی اور کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ حکومت پنجاب مہنگائی میں 17 فیصد کی دعویدار ہے‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ ماسوائے سستا آٹا‘روٹی اور سستے علاج معالجے کی سہولیات کے باقی تمام اشیائے ضروریہ کے نرخ آسمانوں سے باتیں کر رہے ہیں۔ غریب آدمی کیلئے اب بھی دو وقت کی روٹی کا حصول وبال جان بنا ہوا ہے۔ بجلی‘ گیس کے نرخوں میں آئے روز کیا گیا اضافہ انکی مشکلات کو مزید گھمبیر کرتا نظرآرہا ہے۔ جب تک انکے نرخوں میں کمی نہیں کی جاتی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو عالمی سطح کے مطابق نیچے نہیں لایا جاتا‘ مہنگائی پر قابو پانا ممکن نہیں۔ کیونکہ عام اشیاءکی قیمتیں بجلی گیس اور پٹرولیم کے نرخوں کے اتار چڑھاﺅکے ساتھ ہی جڑی ہیں۔ مہنگائی کی کمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ناجائز منافع خور‘ ذخیرہ اندوز اور مصنوعی مہنگائی کرنے والا مافیا بھی ہے جو عوام کو ریلیف دینے کی حکومتی کوششوں پر پانی پھیر رہا ہے۔ جب تک ان مافیاز کیخلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی‘ حکومت کی تمام تر کوششیں بے سود رہیں گی۔

ای پیپر دی نیشن