وہاب ریاض، عبدالرزاق سلیکشن کمیٹی سے فارغ، منیجر منظور رانا کی بھی چھٹی

 لاہور (سپورٹس رپورٹر)پاکستان کرکٹ بورڈ نے ٹی20 ورلڈکپ 2024 میں ناقص کارکردگی پر ٹیم منتخب کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے وہاب ریاض اور عبدالرزاق کو سلیکشن کمیٹی سے نکال دیا۔پی سی بی اعلامیہ میں وہاب ریاض اور عبدالرزاق کی قومی سلیکشن کمیٹی سے الگ کرنے کی تصدیق کردی گئی۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ پی سی بی کو وہاب ریاض اور عبدالرزاق کی مزید خدمات درکار نہیں ہیں، عبدالرزاق قومی مینز اور ویمنز کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کے رکن تھے جبکہ وہاب ریاض مینز ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کا حصہ تھے۔پی سی بی نے کہا کہ سلیکشن کمیٹی کے حوالے سے مزید اپ ڈیٹس بعد میں فراہم کی جائیں گی۔ اسد شفیق اور محمد یوسف کو سلیکشن کمیٹی میں برقرار رکھا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے منیجر منصور کو بھی عہدے سے سبکدوش کردیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ ٹی20 ورلڈکپ سمیت تینوں ٹورز کے دوران قومی ٹیم میں ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیں دیکھی گئی، ان شکایات کی تصدیق کے بعد فیصلہ کیا گیا، سلیکٹر اور سینئر منیجر وہاب ریاض کو عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ ان بیانات سے متفق نہیں ہوں کہ میں نے سلیکشن کمیٹی کے ارکان پر دباؤ ڈالا۔ میٹنگ منٹس کی صورت میں ہر چیز کا دستاویزی ریکارڈ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک اعلیٰ عہدیدار نے وہاب ریاض کو ازخود مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا، وہاب ریاض کو پیغام دیا گیا تھا کہ سلیکشن کی ذمہ داری قبول کر کے مستعفی ہوجاؤ۔ وہاب ریاض نے مستعفی ہونے سے انکار کیا تھا جس کے بعد ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔عبدالرزاق اور وہاب ریاض کی جگہ نئے سلیکٹرز کا انتخاب کیا جائیگا۔ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش کیخلاف سیریز کے دوران پاکستانی ٹیم میں نئے لوگوں کو مینجمنٹ میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پی سی بی کی جانب سے نئی ٹیم انتظامیہ کا اعلان جلد متوقع ہے۔ذرائع کے مطابق قومی سلیکشن کمیٹی سے وہاب ریاض اور عبدالرزاق نے کچھ کھلاڑیوں کی غیر ضروری طرفداری کی، چیئرمین محسن نقوی نے تحقیقات مکمل کرنے پر اقدامات کا فیصلہ کیا۔ذرائع نے بتایا کہ جن کھلاڑیوں کی انہوں نے حمایت کی انہوں نے ہی پرفارم نہیں کیا، جن کرکٹرز کی ان دونوں نے حمایت کی دیگر سلیکٹرز نے مخالفت کی۔شاہین آفریدی نے حالیہ ٹورز کے دوران کوچز اور مینجمنٹ سٹاف سے برا برتاؤ کیا، منیجرز نے ان کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا، ٹورز کے دوران ڈسپلن برقرار رکھنا منیجرز کی ذمہ داری تھی، اس چیز کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ شاہین آفریدی کیخلاف ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔ذرائع کے مطابق حالیہ دوروں میں ڈسپلن کی کئی خلاف ورزیاں ہوئیں، کوچز نے لابیز کا بھی تذکرہ کیا، جن جن کھلاڑیوں کی لابیز ہیں ان کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہے، اس بات پر بات چیت ہو رہی ہے کہ ان لابیز سے کیا کیا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔کوچز کی رپورٹ میں کئی کھلاڑیوں کو غیر سنجیدہ قرار دیا گیا، کوچز نے چیئرمین پی سی بی کو تمام صورتِ حال سے آگاہ کر دیا۔ذرائع نے بتایا کہ کھلاڑی ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرتے ہیں جس سے ماحول خراب ہوتا، فیملیز کو ساتھ لے جانے اور پھر کھیل پر فوکس ہونے پر بھی تفصیلی بات ہوئی۔قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے بابراعظم کو کپتانی سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاب ریاض اور عبدالرزاق کو قومی سلیکشن کمیٹی سے برطرف کرنے والی سرجری میری سمجھ میں نہیں آئی۔میں ایک چیز پر یقین رکھتا ہوں کہ کوئی بھی فیصلہ لیں تو اس سسٹم ، کو چ یا کپتان کو پورا موقع اور وقت دیں، یعنی اس کو چلنے دیں۔ مجھ سمیت مصباح الحق اور یونس خان نے بھی کپتانی کی تاہم جہاں تک بابراعظم کا تعلق ہے، اتنا کھلا چانس کسی کپتان کو نہیں ملا، ورنہ جیسے ہی ورلڈکپ ختم ہوتا سب سے پہلے کپتان کا صفایا کیا جاتا۔ بابراعظم نے تو 3 ورلڈکپ، 2 سے 3 ایشیا کپ سمیت زبردست موقع ملا، اب جو بھی سرجری کرنی ہے تو ایک ہی دفع کرکے جس کو بھی لایا جائے اس کو پورا وقت اور موقع دیا جائے۔ پتہ چلا کہ سلیکشن کمیٹی کے ارکان وہاب ریاض اور عبدالرزاق کو برطرف کیا ہے، لیکن یقین جانیں مجھے یہ والی سرجری سمجھ نہیں آئی، کیونکہ سلیکشن کمیٹی 6 سے 7 لوگوں کی تھی، ایسے میں صرف ان دونوں کی سرجری کیوں ہوئی۔