کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر حملے پاکستان کا اندرونی معاملہ، دہشت گردی کیخلاف تعاون جاری رکھیں گے: امریکہ

واشنگٹن+ کابل (نوائے وقت رپورٹ+ آئی این پی+ نیٹ نیوز) پینٹاگون کے ترجمان میجر جنرل پیٹرک رائیڈر نے کہا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے، کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں پر فضائی حملے پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، پاکستان کے اندرونی فیصلوں میں نہیں پڑوں گا۔ عالمی میڈیا کے مطابق میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے ترجمان پینٹاگون نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، پاکستان اور امریکہ سکیورٹی تعاون کی ایک طویل تاریخ رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کی یہ مصروفیات اب بھی جاری ہیں۔ ایک صحافی نے کالعدم تحریک طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں سے متعلق سوال کیا جس پر ترجمان پینٹاگون نے کہا کہ اس سوال کے لیے آپ کو پاکستان سے رجوع کرنا پڑے گا۔ میجر جنرل پیٹرک رائیڈر نے مزید کہا کہ اس معاملے میں پاکستان امریکا سے کس قسم کے حمایت چاہتا ہے، اس پر بات چیت ہونے کی ضرورت ہے، علاقائی دہشت گردی کو روکنے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔ پیٹ رائیڈر نے کالعدم ٹی ٹی پی کے پاکستان میں حملوں میں قیمتی جانوں کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایسے واقعات کی مذمت کی۔ کہا جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ جب دہشت گردی کی بات آتی ہے تو پورے خطے میں تشویش پائی جاتی ہے لیکن اس کا تعلق پاکستان کے خود مختار فیصلوں سے ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت کیسے کرتا ہے اور وہ کس طرح ملک کے اندر سکیورٹی کو حل کرتے ہیں۔ انسداد دہشت گردی پر کام کرنے والے پاکستان کے ساتھ ہمارے طویل تعلقات ہیں، اس سے متعلق بات چیت ہونے کی ضرورت ہے کہ پاکستان امریکا سے کس قسم کے حمایت کی درخواست کرتا ہے۔ ہمارا سکیورٹی تعاون کا رشتہ ہے، میرے پاس اعلان کرنے کے لیے کچھ خاص یا نیا نہیں ہے، ہم ان مذاکرات کو جاری رکھیں گے اور ان طریقوں پر غور کریں گے جن سے ہم علاقائی دہشت گردی کو روکنے کے لیے مل کر کام کر سکتے ہیں۔ امریکا نے واضح کیا ہے کہ ہم طالبان کو سپورٹ  کرتے اور نہ ہی طالبان کو فنڈنگ دیتے ہیں۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا طالبان کو سپورٹ نہیں کرتا، اقوام متحدہ نے افغانستان میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک اور افغانستان میں نام نہاد اخلاقی نگرانی پر رپورٹ جاری کی ہے، طالبان کی نام نہاد اخلاقیات کا غیر متوقع اور من مانی نفاذ افغان عوام کے انسانی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ افغان عوام کے ساتھ طالبان کے سلوک خصوصاً خواتین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر کڑی نظر ہے، توقع ہے طالبان افغان عوام، عالمی برادری کو اپنی یقین دہانیوں کا احترام کریں گے، عالمی برادری کے ساتھ طالبان کے تعلقات کا انحصار ان کے اقدامات پر ہے۔ ترجمان نے کہا کہ دنیا بھر کے صحافیوں کے کام کی حمایت کرتے ہیں، اہم ہے کہ وہ اپنے کام کو محفوظ طریقے سے انجام دے سکیں۔ ہم دنیا بھر کے صحافیوں کو فرائض کی انجام دہی کے دوران محفوظ ماحول فراہم کرنے کے حق میں ہیں۔ صحافی نے کہا کہ پاکستانی صحافی ارشد شریف کینیا گئے تھے جہاں انہیں قتل کردیا گیا۔ میرے والد نے بھی ساڑھے 9 سال کی طویل ترین مدت جیل میں گزاری اس لیے میں کم از کم اپنے صحافی ساتھیوں کے بارے میں سوچتا ہوں۔ صحافی نے سوال کیا آپ کے خیال میں یا کسی بھی انصاف پسند کی نظر میں  پاکستان کی عدلیہ کا معیار کینیا سے کسی طرح کم نہیں تاہم کینیا کی عدالت نے تو مقتول صحافی کو انصاف دیدیا لیکن پاکستان میں اب تک انصاف نہیں ملا۔ صحافی نے ترجمان امریکی وزارت خارجہ سے پوچھا کہ کیا آپ پاکستانی عدلیہ یا سیاستدانوں کو اتنا ہی کہہ سکتے ہیں کہ کم از کم صحافیوں کی زندگیوں سے نہ کھیلیں؟۔ جس پر ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ میں اس کیس سے واقف نہیں ہوں اس لیے فی الوقت اس پر کسی بھی طرح کا کوئی تبصرہ نہیں کروں گا لیکن یقیناً ہم دنیا بھر کے صحافیوں کی حمایت کرتے ہیں۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ضروری ہے کہ صحافی کو اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے محفوظ طریقے اور راستے فراہم ہوں۔ طالبان عبوری حکومت کے ترجمان نے ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے دہشت گردی کے ثبوت ہیں تو وہ ہمیں دیں، ہم ان کے خلاف خود کارروائی کریں گے۔ اس بات کا مطالبہ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یوٹیوب چینل ’دی خراسان ڈائریز‘ کو انٹرویو میں کیا۔