مقبوضہ کشمیر: مختلف اضلاع میں فوجی آپریشن، سکیورٹی اقدامات کی آڑ میں شہریوں کو ہراساں کیا جا رہا

سری نگر (کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں کٹھوعہ، ریاسی، راجوری، پونچھ، سانبہ، کشتواڑ، کولگام، بانڈی پورہ، گاندربل اور کپواڑہ اضلاع کے مختلف علاقوں میں بھارتی فوج  کے محاصرے اور تلاشی کارروائیاں جاری ہیں ۔کٹھوعہ ضلع میں پیر کے روز بھارتی فوج پر حملے کے بعد بھارتی فوج کا وسیع آپریشن جاری ہے ۔اس واقعے کے بعد بھارتی فوج، جموں و کشمیر پولیس اور  بھارتی پیر ا ملٹری فورسز نے مل کر ایک وسیع علاقے کو گھیرے میں لے لیاتاہم س بھارتی فورسز 72  گھنٹوں بعد بھی حملہ آوروں کو پکڑنے میں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ آپریشن میں ڈرونز اور تربیت یافتہ کتوں کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔۔ ان کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور ان پر مخبر بننے اور مجاہدین کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے دبائو ڈالا جا رہا ہے۔بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے ہندو یاتریوں کی سیکورٹی کے لیے اقدامات کی آڑ میںسرینگر جموں ہائی وے پر پابندیاں مزید سخت کردی ہیںجس سے مسافروں کی شدیدمشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر پولیس  نے اعتراف کیا ہے کہ جموں و کشمیر کی آبادی کے ایک بڑے حصے میں بھارت مخالف سوچ اور جذبات موجود ہیں۔بھارت مخالف سوچ اور جذبات  کو ہوا دینے  میں سوشل میڈیا کا بڑا کردار ہے۔ وی او اے کے مطابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس سوین نے کہا ہے کہ  ایسی آٹھ ہزار سوشل میڈیا سائٹس ہیں جو ان کے بقول جموں و کشمیر کے بارے میں بھارت مخالف سوچ کی تشہیر کر رہی ہیں ۔ ضلع کشتواڑمیں ایک گاڑی گہری کھائی میں گرنے سے کم سے کم 4افرادہلاک اور 3زخمی ہو گئے ہیں۔ بدھ کو ایک گاڑی کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔