جمعرات‘ 4 محرم الحرام 1446ھ ‘ 11 جولائی 2024ء

قومی اسمبلی میں 22 رکنی کشمیر کمیٹی کا قیام۔ 
بڑی بات ہے۔ جو کام ایک بھی کرنے کیلئے تیار نہیں‘ اس پر اتنا تردد کیوں ہو رہا ہے۔ عرصہ دراز سے قومی اسمبلی میں کشمیر کمیٹی بنتی ہے۔ اسکے چیئرمین کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوتا ہے۔ وہی گاڑی‘ جھنڈا‘ بنگلہ اور مراعات اسے حاصل ہوتی ہیں۔ ان چیزوں میں پڑ کر کسے یاد رہتا ہے کہ وہ کس کام کیلئے منتخب ہوا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ستم یہ کہ عام طور پر یہ عہدہ سیاسی رشوت کے طور پر دیا جاتا ہے۔ اس میں تقرری کا کوئی میرٹ نہیں ہوتا۔ صرف اور صرف حسن نظر کا کمال ہوتا ہے۔ حامد ناصر چٹھہ‘ نواب زادہ نصراللہ خان‘ مولانا فضل الرحمان جیسے زیرک سیاست دان اس کمیٹی کے چیئرمین بنے وہ اپنے اپنے دور میں ملکی و غیرملکی دوروں پر بھی جاتے رہے مگر مسئلہ کشمیر پر کسی ایک نے بھی ایک کام نہیں کیا۔ اس سے اس کمیٹی کی اہمیت کا بخوبی پتہ چلتا ہے۔ اب فیصلہ یہ ہوا ہے کہ اپوزیشن سے بھی اس کمیٹی کے ممبران لئے جائیں گے‘ اس سے کیا ہوگا۔ سوائے اسکے کہ کمیٹی کے اجلاس بھی سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاسوں کی طرح ہنگامہ آرائی کا منظر پیش کرینگے اور مسئلہ کشمیر جہاں ہے‘ وہیں رہے گا۔ چیئرمین اور ممبران ہر ماہ اس کام کا معقول معاوضہ اور مراعات لے کر قومی اسمبلی اور عوام کو بے وقوف بنائیں گے۔ کمیٹی کے لوگ تو نہ ہی مسئلہ کشمیر پر دسترس رکھتے ہیں نا ہی انکے بیرون ملک جا کر انگریزی میں مسئلہ کشمیر اقوام عالم کے سامنے پیش کرنے کی صلاحیت ہے تو پھر ان کا کام کیا ہے۔ یہ سوچنا ہوگا۔ وقفے وقفے سے اجلاس ‘ میڈیا پر تقریب رونمائی اور بس۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔ 
٭…٭…٭
قاسم سوری کا جائیداد کیس ، نعیم بخاری کا تذکرہ بن گیا۔ 
نعیم بخاری واقعی ایسی دل بہار شخصیت ہیں کہ جب بولتے ہیں تو بے ساختہ انکے چہرے پر ایک مسکراہٹ ناچنے لگتی ہے۔ اب خدا جانے ایسا خود بخود ہوتا ہے یا وہ خود ایسا کرتے ہیں۔ گزشتہ روز وہ قاسم سوری کے جائیداد کیس کے سلسلے میں عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت میں انکے حوالے سے فاضل جج اور ان میں جو گفتگو ہوئی‘ اس میں انکی شخصیت پر بھی بات ہوئی۔ فاضل جج نے کیس کے حوالے سے کچھ اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ جائیداد کی تفصیلات طلب کیئے جانے پر وہ غائب ہیں۔ ورنہ ایسے میں تو مردہ بھی حاضر ہو جاتا ہے۔ آپکی بات کیا سنیں۔ اس پر نعیم بخاری نے کہا کہ آپ مجھے جانے کا کہہ رہے ہیں تو فاضل جج نے کہا کہ آپ جیسی خوبصورت شخصیت کو کون جانے کا کہہ سکتا ہے۔ یہ سن کر نعیم بخاری نے برجستہ کہا کہ اگر یہ معلوم ہوتا تو میں میک اپ کراکے آتا۔ اس پر قہقہہ بلند ہوا۔ یوں قاسم سوری کے اثاثہ جات والی بات آئندہ سماعت تک ملتوی ہو گئی اور نعیم بخاری کی بات بقول شاعر
کہ فسانہ بن گئی ہے میری بات چلتے چلتے
ایک وقت تھا نعیم بخاری اور انکی اہلیہ طاہرہ سید کی جوڑی واقعی دیکھنے والوں کے دل موہ لیتی تھی۔ انکی ٹکر کی جوڑی فریال گوہر اور جمال شاہ کی تھی۔ یہ دونوں جوڑے اور انکے ساتھ قسمت کی کاریگری بھی عجیب اور یکساں رہی۔ دونوں جوڑوں کو نجانے کس کس کی نظریں لگیں کہ انہوں نے اپنی اپنی راہیں جدا کرلیں۔ اس پر شاید وہ آج تک 
ہم بے وفا تھے، نہ تم بے وفا تھے
مگر کیا کریں اپنی راہیں جدا تھیں
کہہ رہے ہونگے۔ کیونکہ وقت کے ساتھ حالات بدل جاتے ہیں۔ جوانی رنگ و روپ بھی ڈھلتی چھائوں بن جاتی ہے۔ مگر محبت کی رفاقت کی یادیں اگر قصے کہانیوں کی باتیں نہیں تو سدا یاد رہتی ہیں۔ 
٭…٭…٭
کراچی کی بارش مئیر کے لئیے امتحان ہے۔
جب وقت بھی الٹا چل رہا ہو تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کراچی کے میئر کا تاج کانٹوں سے بنا ہے۔ کیا پیپلزپارٹی‘ کیا ایم کیو ایم‘ کیا جماعت اسلامی‘ سب اسکے حصول کیلئے جی جان سے کوشاں رہتے ہیں۔ پہلے ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی والوں کو شرف حاصل رہا ہے کہ کراچی کے میئر ان کے رہے ہیں۔ اس دوران شہر کی حالت کیا ہوئی‘ اس پر بحث فضول ہے۔ کراچی والے خود  اور بخوبی جانتے ہیں کہ اس کو کس نے کتنا لوٹا اور کس بیدردی سے لوٹا۔ اب کی بار معاملہ الٹ ہو گیا۔ کراچی کے بڑے بڑے دعویدار یعنی ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی والے منہ دیکھتے رہے گئے اور کراچی کی میئرشپ پیپلزپارٹی والے لے اڑے۔ اب انہیں پتہ چلے گا کہ یہ پھولوں کی سیج نہیں‘ کانٹوں کا بستر ہے۔ 
گزشتہ روز مون سون کے بادلوں کی  بارش ہوئی وہ بھی اتنی زیادہ نہیں کہ اسے قیامت خیز کہا جائے۔ قیامت خیز بارش تو ممبئی میں ہوئی ہے جس نے پورا شہر ڈبو دیا۔ خدا نہ کرے بادلوں کی ایسی خوفناک پیش قدمی کراچی کی طرف ہو۔ کراچی والے تو پہلے بھی حکمرانوں‘ بھتہ خوروں‘ کرپٹ اور چور بازاری کے عادی افراد کے علاوہ ڈاکوئوں اور چوروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ اب یہ بلائے ناگہانی کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔بقول  غالب 
 ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
ایک مرگ ناگہانی اور ہے
اس لئے اس سے پہلے کہ مزید بارش ہو اور کراچی کی رہی سہی لیپا پوتی کا بھی بھانڈا پھوٹے‘ کراچی کے میئر اپوزیشن والوں کی باتوں کا جواب دینے کے بجائے کراچی کی فکر کریں اور نکاسی آب کو اولین ترجیح دیں۔ عجیب قسمت ہے اس شہر کی جہاں لوگ پانی کی بوند کو ترستے ہیں‘ وہاں جب بارش ہوتی ہے تو سیلاب میں ڈوبے تڑپتے ہیں۔ 
٭…٭…٭
زراعت پر ٹیکس لگا تو ادا کرنا ہو گا۔ صدر زرداری۔
غالب نے بہت پہلے کیا خوب کہا تھا
آئے ہے بے کسی عشق پہ رونا غالب
کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
اس وقت آئی ایم ایف تو نہیں‘ البتہ برطانیہ کی ایسٹ انڈیا کمپنی بہادر کی تاجرانہ حکومت نے مغل بادشاہ کی طنابیں کس دی تھیں‘ وہ کوئی بھی فیصلہ خود نہیں کر سکتے تھے۔ سب کچھ کمپنی بہادر کے حکم سے طے ہوتا تھا۔ اب بھی صورتحال یہی ہے‘ بس فرق صرف اتنا ہے کہ اب کمپنی بہادر یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ آئی ایم ایف نے لے لی ہے۔ اور ہماری  حکومتوں نے  مغلوں کی جگہ لے لی ہے۔ ہمارے حکمران اب غالب کی طرح معاشی حالات پر رو رہے ہیں مگر طوعاً و کراہاً آئی ایم ایف کی تمام شرائط یکے بعد دیگرے قبول کرنے پر مجبور ہیں۔ آج تک کسی کو ہمت نہیں تھی کہ زراعت کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا سوچ بھی سکے۔ مگر اب دیکھ لیں کھلم کھلا زراعت کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ کیونکہ یہ آئی ایم ایف کی فرمائش ہے۔ مگر یہ شاید اتنا آسان نہ ہوگا کیونکہ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں بڑے بڑے جاگیرداروں کا قبضہ ہے۔ وہ شاید ہی ایسا ہونے دیں۔ لاکھوں ایکڑ اراضی اس وقت ان چند ہزار گھروں کے قبضہ میں ہے۔ وہ اس پر کسی کی نظر نہیں پڑنے دیتے۔ مگر اب صرف حکومت سامنے نہیں‘ آئی ایم ایف والے سامنے ہیں۔ یہ دیکھ لیں اب صدر مملکت آصف علی زرداری بھی کیسی بے بسی سے کہہ رہے ہیں کہ زراعت کو ٹیکس نیٹ کے دائرے میں لانا پڑگا۔ زرعی اراضی کے مالکان سے جو لینڈلارڈ ہیں‘ ٹیکس لینا ہوگا۔ اگر ایسا ہوا تو پھر ٹیکس دینا ہوگا۔ یہ ہم نہیں‘ صدر مملکت کہہ رہے ہیں جن کا حکم سب کو ماننا ہوگا اور اب تو
 لاکھ نخرے دکھا سر جھکانا پڑے گا
جاگیرداروں کو ٹیکس نیٹ میں آنا پڑے گا
صدر مملکت کی باتیں اسی اندرونی دکھ کی عکاسی کرتی ہیں۔

ای پیپر دی نیشن

دوریزیدیت کو ہمیشہ زوال ہے

سانحہ کربلا حق اور فرعونیت کے درمیان ااس کشمکش کا نام ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے امام حسین کا نام ...