5 جولائی کا مارشل لاء

5جولائی کو بھٹو شہید کی حکومت ختم کرکے جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کیا۔ اس واقعے پر لکھنے سے پہلے ہمیں اپنی سیاسی جماعتوں کا ماضی سے جاری کردار دیکھنا ہوگا۔ 7دسمبر 1970ء کو پاکستان کی تاریخ کے واحد شفاف ترین الیکشن منعقد ہوئے جس میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ کو بطور مجموعی اکثریت حاصل ہوئی۔ سیاسی جماعتوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اکثریت حاصل کرنیوالی جماعت کو اقتدار دیں اور اس میں رکاوٹ بننے والے عناصر کی کھلے عام مخالفت کریں۔ اب بھی اسی طرز عمل کی ضرورت ہے لیکن شاید سیاسی جماعتوں کو اب تک یہ شعور نہیں آیا کہ جمہوری طرز عمل دراصل ہوتا کیا ہے۔ یہاں تو یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر ہم اقتدار میں ہیں تو جمہوریت سے اچھا نظام کوئی نہیں اور اگر ہمیں اقتدار سے ہٹادیا گیا ہے تو جمہوریت کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔ 
بات ہورہی تھی 1970ء کے انتخابات کی جس میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی لیکن منتخب سیاسی جماعتوں نے اکثریتی جماعت کو اقتدار دینے کے بجائے ملک دولخت کرنا مناسب سمجھا۔ واحد میرے قائد مرحوم ایئر مارشل اصغر خان ایسے سیاستدان تھے جنہوں نے ڈھاکہ پلٹن کے میدان میں اردو میں خطاب سے منع کئے جانے کے باوجود اردو میں خطاب کیا تو ان پر پتھراؤ کیا گیا لیکن انہوں نے خطاب جاری رکھا اور حالات درست ہوگئے۔ ڈھاکہ سے واپسی پر کراچی ایئرپورٹ پر ایئرمارشل اصغر خان نے برملا کہا تھا کہ شیخ مجیب الیکشن جیت گیا ہے اسے اقتدار دے دو اور اگر مشرقی پاکستان میں گولی چلائی گئی تو ملک ٹوٹ جائے گا۔ وہ چونکہ سابق ایئرچیف رہ چکے تھے اور زمینی حقائق سے اچھی طرح آگاہ تھے کہ ہم بری‘ بحری اور فضائی طور پر مشرقی پاکستان میں جنگ نہیں جیت سکتے۔ اس وقت ان کی تضحیک کی گئی اور انہیں بنگالیوں کا ایجنٹ قرار دیا گیا۔ لیکن یہ ماضی کی تلخ حقیقت ہے کہ غیر جمہوری طرز عمل سے ملک کو دولخت کیا گیا۔ اگرمنتخب سیاسی جماعتیں اکثریت حاصل کرنیوالی جماعت کو اقتدار دینے پر بضد ہوجاتیں تو کسی کی جرات نہیں تھی کہ وہ پھر بھی کوئی اور آپشن استعمال کرسکتا۔ حمودالرحمان کمیشن رپورٹ میں عدلیہ نے بھی سقوط ڈھاکہ کا ذمہ دار صرف یحیٰی خان کو قرار دیا حالانکہ منتخب سیاسی جماعتیں اس عمل میں برابر کی شریک مجرم تھیں۔
اسی غیر جمہوری طرز عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے پارلیمنٹ میں موجودسیاسی جماعتوں نے ضیاء مارشل لاء کا نہ صرف خیرمقدم کیا بلکہ ان کی کابینہ میں وزارتیں لیں۔ تحریک استقلال نے ضیاء کابینہ میں شرکت سے نہ صرف انکار کیا بلکہ جلد ازجلد الیکشن کا مطالبہ کرتے رہے۔ضیاء الحق نے 5مرتبہ بالواسطہ اور براہ راست ایئرمارشل اصغر خان کو وزیراعظم بنانے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے ہمیشہ یہ کہہ کر پیشکش ٹھکرادی کہ میں سیاست سے عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہوں‘ کسی کی نوکری نہیں کرنا چاہتا۔ بھٹو صاحب کو قید کرکے جب ٹرائل کا ٰآغاز کیا گیا تو ایئرمارشل اصغر خان بھی عدالتی پیشی میں خود اس مقصد سے گئے تھے کہ بھٹو صاحب کے ساتھ کسی بھی طرح کی ناانصافی پر احتجاج کرسکیں اور ان سے ناانصافی کو روکا جاسکے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی سیاسی لیڈر مارشل لاء دور میں یہ جرأت نہ کرسکا۔ بھٹو صاحب کی پھانسی کا فیصلہ کرنیوالے بنچ میں شامل سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ مرحوم نے ریٹائرمنٹ کے بعد ایک انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ بھٹو صاحب کا عدالتی قتل ہوا ہے اور ججوں نے بے ضمیری کرکے انہیں پھانسی کی سزا دی۔ اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ ماضی میں عدلیہ کا کردار بھی داغدار رہا ہے جس کا اعتراف اب بھٹو صاحب کی پھانسی پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے میں بھی کیا گیا ہے۔
1977ء میں جب ابھی تک سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ نہیں کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے پشاور میں افغان لیڈرز گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کو دفاتر بناکر پاکستان سے افغان حکومت کے خلاف سرگرمیوں کی اجازت دیدی تھی۔ اس عمل پر بھی ایئرمارشل اصغر خان نے احتجاج ریکارڈ کراکے اسے پڑوسی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا اور حکومت پاکستان سے کہا کہ پشاور میں قائم گلبدین حکمت یار اور احمد شاہ مسعود کے دفاتر کو بند کیا جائے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اس معاملہ پر خاموشی اختیار کی بلکہ کچھ سیاسی جماعتوں نے اس کی مکمل حمایت کی۔ جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کردیا تو ایئرمارشل اصغر خان نے اس جنگ کو امریکی مفادات کی جنگ قرار دیکر اس سے دور رہنے کا کہا اور تنبیہہ کی کہ اگر اس جنگ میں پاکستان نے روس کا تعاقب کیا تو اگلے 50سال تک ہماری تین نسلیں دہشت گردی‘ اسلحہ اور منشیات کے چنگل میں پھنس جائیں گی لیکن ان کی اس بات پر انہیں روس کا ایجنٹ قرار دیا گیا۔ سوائے ایئرمارشل اصغر خان کے،  کسی سیاسی جماعت نے افغان جنگ میں مداخلت کو امریکی جنگ قرار نہیں دیا بلکہ امریکی ایماء اور ڈالروں کی برسات پر سیاسی‘ مذہبی اور عسکری قیادت نے مل کر افغان جنگ کو پاکستان کی بقاء کی جنگ قرار دیا اور اس میں بھرپور شرکت کی۔ 
افغان جنگ میں مداخلت کے ثمرات آج ہماری تیسری نسل بھگت رہی ہے اور ملک دہشت گردی‘ اسلحہ و منشیات کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔ ہم نے افغان عوام کو ملک بھر میں رسائی دیکر پناہ دی اور اپنے تمام وسائل ان کے لئے وقف کئے لیکن آج پاکستان اسی افغان قوم کا سب سے بڑا دشمن قرار دیا جاتا ہے۔ افغان جنگ میں ایران نے بھی افغان عوام کو پناہ دی اور اپنے بارڈر کھولے لیکن انہیں بارڈر کے ساتھ مخصوص پناہ گزین کیمپوں تک محدود رکھا اور وہیں سے حالات درست ہونے پر واپس اپنے ملک بھیج دیا۔ اس کے برعکس ہم نے افغان پناہ گزینوں کو پورے ملک میں رسائی دی۔ آج بھی پاکستان میں سنگین جرائم میں زیادہ تر پاکستان میں غیر قانونی مقیم افراد ہی ملوث ہیں۔ پاکستان میں اغواء برائے تاوان‘ اسلحہ اور منشیات کی انڈسٹری افغان جنگ کے بعد سے قائم ہوئی ہے۔ پاکستان کو بدترین حالات کا شکار کرکے اب وہی سیاسی و مذہبی جماعتیں افغان جنگ کو امریکی مفادات کی جنگ قرار دے رہی ہیں لیکن اب تو وقت گزرچکا اور اس کے نقصانات ہوچکے۔ اب بیان بازی سے ماضی کی سنگین غلطیاں واپس نہیں ہوسکتیں۔
البتہ اس بات کا جائزہ موجودہ سیاسی حالات سے لیں کہ کیا اب بھی 5جولائی کو ہونے سے روکنے کے لئے سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے موجود ہے؟ ان کے طرز عمل میں فرق آیا ہے؟ جمہوری عمل میں اکثریت حاصل کرنیوالی جماعت کو اقتدار پیش کیا جارہا ہے؟ 126دن دھرنا اور پھر جس کی سپورٹ پر حکومت میں آئے اب ان کے خلاف بات کرنادرست تھا؟۔ وزیراعلٰی کے پی کے کے ذریعے آئے روز پنجاب پر لانگ مارچ کے ذریعے چڑھائی کرنا مناسب تھا؟ ملک کو فوجی آپریشن کے ذریعے دہشت گردی سے پاک کرنے کے بعد دہشت گردی میں ملوث لوگوں کو کھلی چھوٹ کیوں دی گئی؟ ان سب سوالوں کا جواب عام آدمی بھی اچھی طرح جانتا ہے۔ اگر آج بھی سیاسی بلاغت نہیں ہے تو پھر پاکستان کو تو انشاء اللہ قیامت تک قائم رہنا ہے اور بدترین حالات کا شکار کرنے والے سیاست دانوں کی نااہلیوں سے جب حالات کنٹرول سے نکل جائیں گے تو  ملک بچانے کے ذمہ دار ادارے ملک سنبھالیں گے۔ اس بارے میں سیاسی جماعتوں میں اب تک کوئی اتفاق رائے نہیں ہے اور یہ تو اب بھی بہترین ملکی مفاد میں مل بیٹھنے کو تیار نہیں ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخواہ میں تعصب کی بنیاد پر پنجابیوں کی شناخت کرکے ہلاک کرنے کے واقعات کا اگر ردعمل آیا تو بہت برا ہوگا۔ اس طرح کے واقعات کو روکنا بلوچستان اور خیبرپختونخواہ کے مقامی اہم لوگوں کا کام ہے۔ اس کے ردعمل کو برداشت نہیں کیا جاسکے گا اسی لئے ہر معزز شہری کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ کسی بھی طرح کی دہشت گردی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔ دہشت گردی کے خلاف نئے آپریشن کا فیصلہ خوش آئند ہے اور اس سے یقینی طور پر دہشت گردی کا قلع قمع ہوگا۔ اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔
٭…٭…٭

ای پیپر دی نیشن

دوریزیدیت کو ہمیشہ زوال ہے

سانحہ کربلا حق اور فرعونیت کے درمیان ااس کشمکش کا نام ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بالآخر فتح حق کی ہوتی ہے امام حسین کا نام ...