کراچی کے محکمہ موسمیات کے ریڈار سسٹم کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ اب کراچی کے عوام کو سکھ کا سان ملے گا

11 جولائی 2015 (16:32)

ایک زمانہ تھا جب ہمارے ملک کے ادارہء موسمیات کی تقریبا ہر پیشنگویی غلط ہوجایا کرتی تھی ، ادارہ موسلا دھار بارش کی نوید سناتا تو اایسی چلچلاتی دھوپ پڑتی کہ الامان و الحفیظ اور جب حبس اور گرم ترین دن کی خبر دی جاتی تو لوگ بہترین موسم اور ٹھنڈی ہواوں کا مزا لیتے۔
مگر ۱۹۹۱میں یہ سب کچھ تبدیل اس وقت تبدیل ہو ہوگیا جب کراچی میں راڈارز لگایے گیے۔جنہوں نے خلیج بنگال اور بحیرہ ء عرب سے اٹھنے والے ساحلی طوفانوں کی بروقت اطلاع دی۔کا مخفف ہے Radio detection and ranging راڈار دراصل دیگر الطاظ میں ہدف کو صوتی لہروں کے ذریعے تلاش کرنا ہے۔ ایک ٹرانسمیٹر یا ریسیور یونٹ میں ریڈار لگا ہوتا ہے ٹرانسمیٹر مایکرو ویو انرجی پیدا کرتا ہے جو صوتی لہروں کی صورت میںاینٹینا بیم کرتا ہے۔ اس بیم کی مثال ٹارچ کی روشنی کی بیم سے دی جا سکتی ہے۔ یہ بیم جب کسی شےء سے ٹکراتی ہے تو اس شےء سے ٹکرا کر واپس ریڈار کی طرف پلٹتی ہے۔ ہر شےء کے حجم اور سطح کی شفافیت ان ٹکرا کر پلٹنے والی لہروں کی طاقت کا تعین کرتی ہے۔ بارش کا قطرہ انڈے کی شکل کا ہوتا ہے اور اس کی شفافیت اس کو ایک بہترین ریڈار ریفلکٹر بناتی ہے۔ بارش کے قطرے کے مقابلے میں برف کے فلیکس کی شکل تھوڑی عجیب سی ہوتی ہے اس لیے یہ برے ریفلیکٹرز ہوتے ہیں ۔ یہ ریفلیکٹرز ریڈار ایکوز کہلاتے ہیں اور ایک اسکرین جس کو ریڈار پلین پوزیشن انڈیکیٹر کہتے ہیں اور اس پر اس شےء کا اوپر سے نیچے تک کا اسکین امیج دکھاتا ہے۔ ریدار کے اینٹینے کی فریکوینسی نو اعشاریہ تین بلین فی سیکنڈ ہوتی ہے اور اس کے ذریعے ٹارگٹ کی پوزیشن کا پتا چلا یا جاتا ہےلیکن کیا کریں جس طرح ہمارے ملک میں بنانے پر تو پیسے خرچ کر لیے جاتے ہیں مگر مینٹینینش پلان ندارد ہوتا ہے اور کیی کارامد آلات وقت سے بہت پہلے ہی کباڑ بن جاتے ہیں بالکل اسی طرح یہ بہترین راڈار سسٹم اپنے وقت سے پہت پہلے ناکارہ ہوگیا ۔ گو کہ ان کو بحال کرنے کی کیی کوششیں کی گییں مگر انتہایی جدید ٹیکنالوجی کے سامنے یہ راڈارز گھٹنے ٹیک گیے۔یہ راڈارز دراصل اینالوگ سسٹم پر چلتے تھے اور جدید دنیا ڈیجیٹل ڈوپلر سسٹم کو اپناءے ہویے ہے۔ ایسے میں پاکستان کا دیرینہ دوست جاپان کام ایا اور اس نے ایک اعشاریہ چھ ارب کی گرانٹ ہم کو دی۔ اس سلسلے میں بدھ نو جولایی کو جاپانی سفیر ہیروشی انوماتا اور پاکستان کے سیکریٹری اکنامک افیرز نے کاغزات کا تبادلہ کیا۔یہ نیا ڈیجیٹل سسٹم چار سو پچاس کلو میٹرز ریڈیس پر کام کرے گا۔ اس نیے ڈیجیٹل سسٹم کی وجہ سے طوفانوں، بارشوں اور گرم ترین موسم کی بروقت پیشگویی ممکن ہو سکے گی ۔ جس کی وجہ سے پروازوں کو محفوظ اور بحری جہازوں کو بھی خطروں سےمحفوظ رکھا جاسکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ موسم کی صحیح اور برقت اطلاع عوام کو پریشانیوں سے دور رکھ سکتی ہے۔ جاپان کی سرزمین پر زلزلے، سیلاب اور قدرتی آفات کا آنا ایک معمول ہے مگر ان کی دوراندیشی اور ریسرچ نے ان افات کے نتیچے میں ہوجانے والی اموات میں حددرجہ کمی کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماری حکومت ان راڈارز کی بروقت اطلاعات پر ہنگامی بنیادون پر کیا کویی اقداما ت اٹھا یے گی ؟جاپان میں سیلابی علاقوں میں گراونڈ فلور پر رہنا ممنوع ہے رہایش پہلی منزل سے شروع کی جاتی ہے۔ بنگلہ دیش میں سرکاری دفاتر خالی کروا کر سیلاب زدگان کی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیے جاتے ہیں۔ فرانس میں سی دریا کے پشتے سیمنٹڈ کر دیے جاتے ہیں مگر ہمارے ملک میں سیلاب زدگان سڑکوں پر مہینوں پڑے رہتے ہیں ، سندھ دریا کی گزر گاہ کچے کے علاقے میں اج تک دیہاتی رہتے ہیں جو ہر سیلاب میں سیکڑوں کی تعداد میں لقمہ اجل بن جاتے ہیں اور کراچی کی حالیہ ہوش ربا گرمی میں حکومت اپنے ہاتھ کھڑے کر لیتی ہے کہ یہ تو اللہ کی طرف سے ہے ہم کیا کرسکتے ہیں مگر سب سے بنیادی قدم کہ ہر چوک پر پانی کے ٹینکر کھڑے کرکے عوام پر پانی کا چھڑکاو ہی کردیتے تو کیی قیمتی جانیں بچ جاتیں ہم جتنے مرضی الات خرید لیں لیکن اگر ہم کبوتر کی طرح انکھیں بند کرتے رہیں گے تو پھر ہمارا اللہ ہی حافظ ہے۔ ہم چاہے جتنے ڈزاسٹر مینیجمنٹ کے ادارے قایم کر لیں جب تک کچھ کرگزرنے کی ٹھان نہیں لیں گے اس وقت تک سوایے نیرو کی بانسری بجنے کے اور کچھ نا ہوگا۔ 

کاش کہ اپکے دل میں اتر جایے ہماری بات۔ قاسم رضا وقت نیوز کراچی