ہاکی مافیا ناقابل معافی!

11 جولائی 2015
ہاکی مافیا ناقابل معافی!

اولمپک کوالیفائنگ راﺅنڈ میں قومی ٹیم کی خراب کارکردگی کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قومی ہاکی ٹیم اولمپک مقابلوں میں شریک نہیں ہوگی۔ قومی ٹیم کے اولمپکس سے باہر ہونے کے بعد ملک میں شدید غم و غصہ اور تشویش پائی جاتی ہے۔ چیف سلیکٹر اصلاح الدین نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ شہناز شیخ کہتے ہیں کہ معاہدہ اولمپکس تک تھا۔ یوں وہ مزید کوچنگ کا ارادہ نہیں رکھتے۔ جو نیئر ٹیم کے کوچ کامران اشرف، سلیکشن کمیٹی کے رکن ایاز محمود اور خالد بشیر نے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ ایاز محمود تو قاسم ضیاءاور آصف باجوہ کے دور میں فیڈریشن کے اقدامات پر تنقید کرتے رہے۔ اختر رسول کے صدر بننے کے بعد وہ ہاکی فیڈریشن کا حصہ بن گئے تھے۔ خالد بشیر کئی برس سے فیڈریشن میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ایف سے مافیا کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ وہ مافیا کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہے کیونکہ وہ فیڈریشن کا حصہ رہے ہیں یعنی خود اس مافیا کا حصہ رہے ہیں اور اب ہوا کا بدلتا رخ دیکھ کر چیخ و پکار شروع کردی ہے۔ بہتر یہ ہوتا کہ وہ اس مافیا کو بے نقاب کرنے کی اخلاقی جرات کرتے جسکا وہ عملاً حصہ رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کمال پھرتی کا مظاہر کیا اور ٹیم کی ناکامیوں کی وجوہات جاننے کےلئے تحقیقات کا حکم صادر فرمایا۔ بین الصوبائی رابطے کی وزارت حرکت میں آئی اور چھ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دےدی۔ کمیٹی نے ہاکی فیڈریشن کے صدر اختر رسول سیکرٹری رانا مجاہد علی ہیڈ کوچ و مینیجر شہناز شیخ اور ٹیم کے کپتان ایم عمران کے بیانات ریکارڈ کر لئے ۔ شہناز سینئر اورخو اجہ جنید بھی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ یہ کمیٹی اولمپک کوالیفائنگ راﺅنڈ میں ٹیم کی ناکامی وجوہات جان کر سفارشات کے ساتھ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ وزیراعظم میاں نواز شریف جوکہ ہاکی فیڈریشن کے پیٹرن انچیف بھی ہیں حتمی فیصلہ کریں گے۔ ہاکی فیڈریشن کے ساتھ جڑے لوگوں پر عہدے چھوڑنے کےلئے خاصا دباﺅ ہے۔ اختر رسول اور رانا مجاہد بضد ہےں کہ وہ مستعفی نہیں ہوںگے۔ ان کا یہ موقف ہے کہ ناقص کھیل کا مظاہرہ کھلاڑیوں نے کیا اسکی سزا عہدیداروں کو کیوں دی جا رہی ہے۔ اولمپیئز کی بڑی تعداد فیڈریشن کے سیٹ اپ میں تبدیلی کی خواہاں ہے۔ کپتان ایم عمران نے سہولیات کی عدم دستیابی اور مناسب ٹریننگ کے مواقع نہ ملنے کو شکست کی وجہ قرار دیا ہے۔ شہناز شیخ بھی سہولیات کی کمی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔ ہاکی فیڈریشن نے حکومت پر ذمہ داری ڈالی ہے۔ فیڈریشن سے منسلک بعض اولمپینر نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ایچ ایف کی حمایت کی ہے۔ ماضی میں ملنے والے فنڈز پر بھی بہت بات ہو رہی ہے۔ فیڈریشن کے عہدیداروں کے بیرون ملک د ورے بھی زبان زد عام ہیں۔ مان لیا کہ اگر بڑی سطح پر کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو وہ ان کے ساتھ زیادتی و نا انصافی تصور کی جائے گی کیسے ؟لیکن یہ تمام لوگ ذرا اکیلے بیٹھ کر سوچیں کہ چند برس میں کھیل کے میدان سے جو نتائج آئے ہیں اس کے بعد انہیں کوئی پھولوں کے ہار نہیں پہنا سکتا۔ عالمی کپ اور اولمپکس سے باہر ہونے کے بعد کوئی دلیل قابل قبول نہیں رہتی۔ ہاکی کےلئے کام کرنیوالوں کو اپنے طور طریقے بدلنا ہوں گے اور حکومت کو قومی کھیل کے ساتھ سو تیلوں جیسا سلوک ختم کرنا ہوگا۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ان کی قومی کھیل کےلیے بہت خدمات ہیں وہ یہ بھی دیکھیں کہ قومی کھیل کے ساتھ جڑنے سے ان کی کتنی خدمات ہوئی ہے اور قومی کھیل نے انہیں کیا کچھ دیا ہے۔ آج ایماندار اور نیک نیتی کے ساتھ قومی کھیل کو مافیا سے پاک کرنے کی ضرورت ہے وہ مافیا جس کا ذکر خالد بشیر نے کیا ہے۔ پاکستان ہاکی کے مسائل اچھا، محنتی ایماندار اور وژنری منتظم ختم کر سکتا ہے اور وہ ہاکی پلیئر ہو یا نہ ہو فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ہاکی پلیئرز کی حکمرانی میں جو حال ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہے حکومت سے اچھے فیصلے کی توقع اور اپیل ہے۔