دیرینہ مسائل‘ دہشت گردی پر بات چیت جاری رہے گی: نوازشریف‘ مودی

11 جولائی 2015

اوفا (روس) (نیٹ نیوز+ نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) وزیراعظم محمد نوازشریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے درمیان اوفا کانگریس ہال میں طویل ملاقات ہوئی ہے۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان اس ملاقات کا وقت 30منٹ مقرر تھا تاہم یہ 53 منٹ تک جاری رہی۔ ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی جبکہ مودی کے ساتھ بھارتی سیکرٹری خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔ ملاقات کا ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا تھا نہ ہی دونوں رہنمائوں نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔ ملاقات کے دوران دونوں وزرائے اعظم نے دیرینہ حل طلب مسائل پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے پاکستان چین اقتصا دی راہداری منصوبے پر بھارتی تحفظات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے صرف پاکستان کو نہیں بلکہ پورے خطے کو فائدہ ہوگا، اس منصوبے کو کسی طور پر بھی ختم نہیں کیا جا سکتا، پاکستان اپنے مفادات کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ اور بھارتی قیادت کے بے بنیاد الزامات سے دوطرفہ تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے، بھارتی وزیراعظم نے پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، مبینہ دراندازی اور ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ملاقات میں دونوں رہنما ئوں کے درمیان خطے میں امن و امان کی صورت حال اور باہمی دلچسپی کے امور سمیت دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ خطے میں دہشت گردی اور اس کے خاتمے کیلئے امور بھی زیر غور آئے اور دونوں ممالک نے دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ماحول مثبت بنانے پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نے ملاقات کے دوران تین نکات اٹھائے، نریندر مودی نے پاکستان چین اقتصادی راہداری پر شدید تحفظات کا اظہار] سرحد پار سے مبینہ دراندازی اور ذکی الرحمن لکھوی کی رہائی پر شدید احتجاج کیا۔ مودی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کے حوالے سے بھارتی تحفظات مسترد کر دئیے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے ملاقات کے دوران بی بی سی کی رپورٹ اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی پاکستان میں مداخلت کے بارے میں بارے بھارتی ہم منصب کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے، وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان بھارت کو تمام اختلافات بھلا کر آ گے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ دونوں ممالک تمام مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کر سکتے ہیں۔ کشیدگی سے پاک ماحول میں بات چیت کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے لائن آف کنٹرول پر کشیدگی اور فائرنگ کا معاملہ بھی اٹھایا اور شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی سے مذاکرات پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں ایسے واقعات کی روک تھام ضروری ہے جس سے دونوں ممالک کی عوام میں اشتعال پھیلے۔ آئی این پی کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی میں را کے ملوث ہونے کے ثبوت بھارتی ہم منصب کے حوالے کئے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے وزیراعظم نواز شریف نے مشترکہ اعلامیہ پر اطمینان کا اظہار کیا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سائوتھ ایشین ایسوسی ایشن آف ریجنل کوآپریشن (سارک)کانفرنس 2016میں شرکت کیلئے پاکستان آنے کی دعوت قبول کرلی ہے۔ ملاقات میں وزیراعظم نوازشریف نے بھارتی ہم منصب کو 2016ء میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت کیلئے پاکستان آنے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔ اے این این کے مطابق نوازشریف نے مودی سے واضح طور پر کہا کہ پاکستان اچھا ہمسایہ ملک بننے کے ساتھ ساتھ بھارت سے کشمیر اور دہشت گردی سمیت تمام مسائل پرامن طور پر حل کرنا چاہتا ہے۔ نوازشریف نے مودی سے کہا کہ را کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کو لگام دی جائے۔ آئی این پی کے مطابق ملاقات میں پاکستان بھارت تعلقات کے خطے کی صورتحال مذاکرات کی بحالی، پانی، مسئلہ کشمیر، کنٹرول لائن پر کشیدگی سمیت تصفیہ طلب معاملات پر بات ہوئی۔ دریں اثناء سرکاری ٹی وی پر گفتگو کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات بڑے اچھے ماحول میںہوئی اور انتہائی مفید رہی دونوں وزرائے اعظم نے دیرینہ مسائل پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ بھارت سے کشمیر، سیاچن اور سرکریک پر بھی بات ہوئی، مسائل کے حل کیلئے ٹریک ٹو ڈپلومیسی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ دونوں رہنمائوں نے اتفاق کیا کہ ترقی کیلئے امن ضروری ہے، غلطی سے سرحد عبور کرنے والوں کو 15روز میں چھوڑنے عوامی رابطوں کے فروغ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کی جلد ملاقات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا بھی بنیادی غربت سے لڑنا ہے ایک دوسرے سے لڑنا نہیں اس لیے دونوں جانب سے اتفاق کیا گیا کہ ہمیں تعلقات کو بہتر کرنے کیلئے آگے بڑھنا ہے، پہلے ضرورت اس امر کی ہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر کشیدگی کم کی جائے تاکہ وہاں واقعات نہ ہوں دونوں وزرائے اعظم نے اتفاق کیا کہ طریقہ کار موجود ہے کہ وہاں موجود بارڈر سکیورٹی فورسز اور رینجرز کے کمانڈروں میں ملاقات ہو تا کہ ان میکنزم کو مضبوط کیا جائے وہاں کشیدگی کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو اور چھوٹی موٹی مشکلات کو دور کیا جائے ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ غلطی سے ایک دوسرے کی سمندری حدود میں آکر پکڑے جانے والے ماہی گیروں کو پندرہ دن کے اندر اندر چھوڑ دیا جائے عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ کشمیر سیاچن سرکریک جیسے دیرینہ مسائل پر بھی پیشرفت ضروری ہے جب تک یہ مسائل حل نہیں ہونگے دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ان خیالات کو بھی زیر بحث لایا گیا کہ ان مسائل کے بارے میں ایک دوسرے کا نقطہ نظر سمجھنے کے لیے غیر رسمی گفتگو کا انتظام کیا جانا چاہیے اسی طریقے سے پیشرفت ہو سکتی ہے دونوں جانب سے اس بات کا احساس ہوا کہ خدشات اور اعتراضات دور کرنے کے لئے دونوں ملکوں کے سکیورٹی ایڈوائزر کے درمیان ملاقات کا سلسلہ شروع کیا جائے تا کہ وہ وقتا فوقتا ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ بھی کریں اور تحقیقات بھی کریں کہ واقعی یہ باتیں صحیح ہیں اور انکی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں مشیر خارجہ نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ مجموعی طور پر یہ ملاقات بہت مفید رہی ہے کیونکہ کشیدگی کم کرنا لوگوں کا ایک دوسرے کے ملک میں آنا جانا بہتر کرنا اور سب سے بڑھ کر دیرینہ مسائل پر بات چیت شروع ہو تا کہ ایک دوسرے کا نقطہ نگاہ سمجھا جائے یہ بات تسلیم کر لی گئی ہے کہ جب تک مسائل رہیں گے اگر امن ہو بھی جائے تو وہ دیر پا نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات سے کچھ نہ کچھ میکنزم شروع ہوں گے جنہیں آگے چل کر مزید آگے بڑھایا جا سکے گا۔
اسلام آباد (سٹاف رپورٹر/ایجنسیاں) پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کے درمیان روس کے شہر اوفا میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کے موقع پر طویل دوطرفہ ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے نتیجہ میں نریندرا مودی نے اگلے برس پاکستان میں منعقد ہونیوالی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کر لی۔ ملاقات کے بعد جاری کئے گئے مشترکہ اعلامیہ میں ممبئی حملوں کی تحقیقات میں تعاون کا ذکر ہے لیکن سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس، بلوچستان اور فاٹا میں را کی مداخلت اور تنازعہ کشمیر کا کوئی ذکر نہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وزراء اعظم کی ملاقات کے دوران یہ مسائل زیرغور نہیں آئے۔ دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قیام امن اور ترقی کیلئے کوشش کرنا دونوں ملکوں کی ذمہ داری ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے دونوں ملکوں نے تمام غیرمعمولی تنازعات پر بات چیت پر آمادگی کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جس بھی شکل و صورت میں دہشت گردی ہو، اسے مسترد کیا اور خطہ کو اس لعنت سے نجات دلانے کیلئے تعاون کا فیصلہ کیا۔ دونوں قائدین نے یہ بھی طے کیا کہ دہشت گردی سے متعلق ایشوز پر بات کرنے کیلئے دونوں ملکوں نے سکیورٹی ایڈوائزر دہلی میں ملاقات کریں گے۔ دونوں ملکوں کے ڈائریکٹر جنرلز برائے ملٹری آپریشنز باہم ملاقات کریں گے جس کے بعد جلد ہی پاکستان کے ڈی جی رینجرز اور بھارتی بی ایس ایف کے ڈی جی کے درمیان ملاقات ہو گی۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے ہاں قید ماہی گیروں کی ان کی کشتیوں سمیت رہائی کیلئے پندرہ روز کے اندر فیصلہ کریں گے۔ مذہبی زیارتوں کیلئے سہولیات دی جائیں گی۔ مشترکہ اعلامیہ کا پانچواں نکتہ یہ ہے کہ آواز کے نمونوں کے تبادلہ سمیت ممبئی حملوں کے مقدمات میں جلد پیشرفت کی خاطر طریقہ کار پر مشاورت کریں گے۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی ہم منصب کو اگلے برس پاکستان میں منعقد ہونیوالی سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔ اوفا میں ملاقات کا اہم نتیجہ تو یہ برآمد ہوا کہ اگلے برس پاکستان میں سارک سربراہ کانفرنس کا انعقاد یقینی ہو گیا ہے کیونکہ اس ملاقات سے پہلے بھارت کے مقتدر حلقوں کی طرف سے اطلاعات آ رہی تھیں کہ سارک پراسس کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ خبریں بھی تھیں کہ پاکستان میں سارک سربراہ کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اوفا ملاقات کے نتیجہ میں پاکستان بھارت دوطرفہ مذاکرات کی بحالی کا مشترکہ اعلامیہ میں کوئی ذکر نہیں۔ بھارت کے نکتہ نظر سے اعلامیہ میں دو اہم نکات شامل ہیں۔ پہلا یہ کہ دہشت گردی کے حوالہ سے دونوں ملکوں کے سکیورٹی ایڈوائزر دہلی میں ملاقات کریں گے اور دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ممبئی حملوں کے مقدمات میں جلد پیشرفت کیلئے دونوں ملک باہمی تعاون کریں گے۔ پاکستان اور بھارت نے تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات کی بحالی اور امن کوششیں آگے بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں ملک جنوبی ایشیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔ ممبئی حملہ کیس کی کارروائی کو تیز کرنے کے لیے آواز کے نمونے فراہم کئے جائیں گے۔ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے گرفتار ماہی گیروں کو ان کی کشتیوں سمیت 15 دن میں رہا کر دیں گے۔ بی ایس ایف اور پاک رینجرز کے ڈائریکٹر جنرلز کی جلد ملاقات ہو گی۔ پاکستان بھارت وزراء اعظم کی روس کے شہر اوفا میں ہونے والی ملاقات کے بعد بھارتی سیکرٹری خارجہ ایس ایم شنکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے مشترکہ اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات میں دو طرفہ اور علاقائی مفادات کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ دونوں وزراء اعظم نے اتفاق کیا کہ خطے میں امن کو یقینی بنانا اور ترقی کا فروغ پاکستان اور بھارت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس کے لیے دونوں ممالک دیرینہ معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ اعزاز احمد چودھری نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی اور انہوں نے جنوبی ایشیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون پر اتفاق کیا۔ بھارتی سیکرٹری خارجہ ایس ایم شنکر نے کہا کہ دونوں طرف نے متعدد اقدامات کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ ان اقدامات میں نئی دہلی میں دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات ہو گی۔ بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس اور پاکستانی رینجرز کے ڈائریکٹر جنرلز کی ملاقات ہو گی جس کے بعد ڈی جیز ملٹری آپریشنز کے درمیان ملاقات ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کے گرفتار ماہی گیروں کو 15 روز میں ان کی کشتیوں سمیت رہا کریں گے۔ دونوں ملکوں نے مقدس و مذہبی مقامات کے زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے میکانزم بنانے پر بھی اتفاق کیا جبکہ دونوں ملکوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ ممبئی حملہ کیس کی کارروائی تیز کی جائیگی۔ آوازوں کے نمونے فراہم کئے جائیں گے۔ وزرائے اعظم کی ملاقات میں مذاکرات جاری رکھنے ‘ ممبئی حملوں کی تحقیقات اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے سمیت کئی امور پر اتفاق کیا گیا تاہم سیکرٹریز خارجہ کی پریس بریفنگ اور مشترکہ اعلامیہ میں مسئلہ کشمیر کا ذکر تک نہیں کیاگیا۔ جس پر دونوں اطراف کے کشمیری عوام کی طرف سے انتہائی مایوسی کا اظہار بھی کیا گیا۔