روس سے دفاع اور توانائی شعبوں میں بہتر تعلقات چاہتے ہیں‘ پاکستان: شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت مل گئی

11 جولائی 2015

اوفا (روس) (اے پی پی) وزیراعظم محمد نواز شریف نے انتہا پسندی، دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے مضبوط اجتماعی ردعمل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقائی استحکام اقوام کی اقتصادی ترقی کی کلید ہے، اختلافات دور کرنے، تصفیہ طلب تنازعات حل کرنے اور عوام کی بہتری کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے 15 ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خطے کو نازک جغرافیائی و سیاسی ماحول کا سامنا ہے اور انسداد انتہا پسندی اور بارڈر سیکورٹی میں اضافہ کے حوالے سے پاکستان کے مقاصد ایس سی او سے ہم آہنگ ہیں۔ ایس سی او پاکستان کو جنوبی ایشیا، افغانستان اور وسطی ایشیا میں امن و استحکام کے فروغ میں مفید پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ ایس سی او رکن ممالک کے ساتھ خوشگوار اور باہمی طور پر مفید تعلقات کو ہماری خارجہ پالیسی میں ترجیحی حیثیت حاصل ہوگی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اقوام کی اقتصادی ترقی کے لئے علاقائی استحکام کلید ہے۔ افغانستان اور وسطی ایشیاء میں امن علاقائی مواصلاتی روابط اور تجارتی تعاون کے لئے بہت اہم ہے۔ ایس سی او بہت سے قوی عوامل کی حامل ہے، اس کے چارٹر کے بنیادی اصول ریاستوں کی برابری، علاقائی سالمیت اور باہمی تعاون و سلامتی ہیں۔ ایس سی او کی روح بالادستی اور بین الاقوامی معاملات میں جبر سے نفرت کی حامل ہے۔ یہ اتفاق رائے پر مبنی فیصلہ سازی کے عمل کی حامل ہے جو اس کے ارکان کو اعتماد بخشتی ہے۔ایس سی او پارٹنرز ایک شاندار ایجنڈا رکھتے ہیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لئے علاقائی استحکام کو یقینی بنانے اور اقتصادی ہم آہنگی کو تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اختلافات کم کرنے، تصفیہ طلب تنازعات حل کرنے اور اپنے عوام کی بہتری کے لئے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لئے مل کر کام کرنا چاہئے۔ اس طریقے سے ’’شنگھائی سپرٹ‘‘ کو حقیقی طور پر عملی جامہ پہنایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے تنظیم میں پاکستان اور بھارت کی شمولیت کو ایس سی او کی تاریخ میں اہم موڑ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس باوقار فورم میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنے کا اعزاز ملا ہے اور مجھے اعتماد ہے کہ ایس سی او کی توسیع یوریشیائی پٹی کے بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی منظر نامہ میں اہم پیشرفت ثابت ہوگی۔پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کی مکمل رکنیت کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے اور پاکستان ایس سی او اس کے رکن ممالک کے ساتھ گہرے تاریخی، ثقافتی تعلقات کے ساتھ ساتھ مضبوط اقتصادی و اسٹریٹجک معاونت میں جڑا ہوا ہے۔ ہمارے مفادات اور مقاصد متعدد شعبے اور ایشوز پر ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان ایس سی او خطے اور اس سے باہر تجارتی و توانائی روابط کے لئے زمینی اور بحری راستے پیش کرتا ہے۔ یہ یوریشیائی خطے کو بحیرہ ء عرب کے ساتھ ملانے کے لئے ایس سی او رکن ممالک کے لئے ایک قدرتی رابطہ فراہم کرتا ہے۔ ایس سی او کے ایک اہم رکن کی حیثیت سے روس ایشیاء اور یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔ صدر پیوٹن کا سلک روڈ اکنامک بیلٹ کو یوریشیائی اقتصادی یونین کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا حالیہ اقدام تنظیم کے رکن ممالک کی اقتصادی رسائی میں اضافہ کرے گا۔ اقتصادی میدان میں چین کے صدر شی جن پنگ کا ’’ایک پٹی، ایک سڑک‘‘ کا اقدام اولین کاوش ہے اور عظیم الشان علاقائی رابطے کا خاکہ بہت بڑے بنیادی ڈھانچے اور توانائی وسائل کی ترقی کے ساتھ ساتھ آئندہ معاشروں کے لئے بے مثال اقتصادی ثمرات کا حامل ہے۔ وزیراعظم نے شاندار مہمان نوازی پر روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ایس سی او کے سیکریٹری جنرل دمتری میزنتسوسف کی تنظیم کے استحکام کے لئے کوششوں کو بھی سراہا۔وزیراعظم نواز شریف نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم میں رکنیت کیلئے روس نے سپورٹ کیا۔ روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ پاکستان کو توانائی کی قلت کا سامنا ہے۔دریں اثناء وزیراعظم نواز شریف نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات کی۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ ایس سی او کی رکنیت کے لئے تعاون پر روس کے شکر گزار ہیں، روس کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان رشین فیڈریشن کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ ایس سی او کے مستقل رکن کے طور پر پاکستان کی شمولیت کے سلسلے میں تعاون کرنے پر رشین فیڈریشن کے شکرگزار ہیں۔ پاکستان رشین فیڈریشن کے ساتھ تعلقات بڑھانے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ وہ روس کے ساتھ تجارت، دفاع، توانائی، انفراسٹرکچر، ثقافت اور دیگر شعبوں میں کثیرالجہتی تعلقات چاہتا ہے، روسی صدر پیوٹن نے شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ روس پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور وہ معیشت سمیت دیگر شعبوں میں تعلقات کو مزید بڑھانا چاہتا ہے۔ دونوں رہنمائوں نے توانائی کے شعبہ سمیت مختلف منصوبوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنمائوں نے نارتھ سائوتھ گیس پائپ لائن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے تیز کرنے کا فیصلہ کیا۔ دونوں ممالک کے وفود نے شریف پیوٹن ملاقات پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات اور دوستی کے رشتے مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
اوفا (صباح نیوز)پاکستان اور بھارت شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن بن گئے ہیں، روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے پاکستان اور بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہوں نے پاکستان اور بھارت کو تنظیم کی رکنیت دیئے جانے کے عمل کے آغاز کے بارے میں دستاویز پر دستخط کئے۔ اس دستاویز پر روس، چین، قزاقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے سربراہوں نے دستخط کئے۔ اس سے قبل پاکستان اور بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصر کا درجہ حاصل تھا۔ اس سے قبل شنگھائی تعاون تنظیم کے شرکا نے مشترکہ قرارداد کی منظوری دی۔ قرارداد میں سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر معاشی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے غلط عمل قرار دیا گیا۔ قرارداد میں یوکرائن میں امن کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا گیا اور جوہری عدم پھیلا کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کی اس تنظیم کی بنیاد 2001 میں رکھی گئی تھی اور اب پہلی بار اس کی رکن ممالک کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔اس تنظیم میں رکنیت کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کو وسطی ایشیا کے قدرتی ذخائر تک رسائی کے مواقع ملیں گے۔روسی صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس کے آغاز پر پاکستان اور بھارت کے بطور رکن قبول کرنے کا اعلان کیا جبکہ بیلاروس کے ساتھ افغانستان، ایران اور منگولیا کو بطور مبصر ممالک شامل کئے گئے۔ پاکستان اور بھارت کو باضابطہ ایس سی او کے ممبر بنے سے قبل چند قا نونی لواذمات کو پورا کرنا ہوگا،ایس سی او رہنماں نے توقع ظاہر کی کہ ایران بھی جلد رکن بن جائے گا مگر ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے تہران کو جوہری پروگرام پر بین الاقوامی معاہدے تک پہنچنا ہوگا۔روسی صدر نے کہا کہ تنظیم کے ارکان نے انسداد دہشتگردی کے لیے تعاون بڑھانے اور افغانستان میں منشیات کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔روسی صدر نے اقتصادی اور تجارتی روابط میں اضافے کے لیے منصوبوں پر بھی بات کی۔ واضح رہے دفاعی تعاون کے لئے 1996 میں چین، روس، ازبکستان، قازقستان اورکرغیزستان نے شنگھائی فائیو کے نام سے ایک گروپ ترتیب دیا تھا جس کا نام بعد میں تبدیل کرکے شنگھائی تعاون تنظیم رکھ دیا گیا جس میں پاکستان کو 2006 میں مبصر کا درجہ دیا گیا جب کہ ایران، منگولیا اورافغانستان بھی شنگھائی تعاون تنظیم میں مبصرہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے لئے چین کے تعاون کی قدر کرتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف اور چین کے صدر شی چن پنگ کے درمیان روس کے شہر اوفا میں ملاقات ہوئی جس میں پاکستان چین دوستی سمیت دیگر اہم معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ چین پاکستان کا بہترین دوست ہے اور ہمیں دونوں ممالک کی دوستی پر فخر ہے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے بھارتی ہم منصب نریندر مودی سے ملاقات کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ چین کے ساتھ دوستی ہماری خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے چینی صدر اور ان کی اہلیہ کے دورہ پاکستان نے عوام کے دل و دماغ جیت لئے، اقتصادی راہداری کے منصوبوں میں چینی صدر شی چن پنگ کی دلچسپی کی قدر کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کی رکنیت کے لئے چین کے تعاون کی قدر کرتے ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم میں مثبت اور موثر کردار کیلئے تیار ہیں چین کے صدر کا اس موقع پر کہنا تھا کہ پاکستان سے تعلقات چین کے ایجنڈا میں سرفہرست ہیں صدر ممنون حسین کے دورہ چین کے منتظر ہیں۔ پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتے ہیں چینی صدر نے وزیراعظم نواز شریف کو رواں سال بیجنگ میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔ دریں اثناء وزیراعظم نواز شریف نے افغانستان کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں‘ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون سے تعلقات مضبوط ہوں گے۔ وزیراعظم نواز شریف سے افغان صدر اشرف غنی نے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر دونوں رہنمائوں نے ایک دوسرے کا گرمجوشی سے استقبال کیا اور مصافحہ کیا۔ وزیراعظم نواز شریف اور افغان صدر نے تنازعات کے حل پر اتفاق رائے کرتے ہوئے مضبوط تعلقات قائم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے افغان مصالحتی عمل میں پیش رفت پر اظہار اطمینان کیا۔ افغان صدر نے مصالحتی عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ توقع ہے مذاکرات افغانستان میں پائیدار امن کا سبب بنیں گے۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ دونوں رہنمائوں نے امن عمل آگے بڑھانے اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات پر بھی بات چیت کی جبکہ امن‘ ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لئے اقتصادی تعاون پر بھی بات چیت کی گئی۔ وزیراعظم نواز شریف نے افغان صدر کو دسمبر میں ہونے والی کانفرنس کے مشترکہ افتتاح کی دعوت دی پاکستان دسمبر میں ہارٹ آف ایشیاء پراسیس کی وزارتی کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ وزیراعظم نواز شریف نے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیلنجز کا بردباری سے سامنا کرنے کی ضرورت ہے۔ مضبوط بنیادوں پر تعلقات استوار کرنے کے لئے باہمی تعاون ضروری ہے۔ چین کے نائب وزیر خارجہ گوپنگ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت اس تنظیم کی ترقی میں اہم کردار دا کریگی۔ پاکستان بھارت کی شمولیت سے ارکان کی تعداد 8 ہوگئی ہے۔ چینی میڈیا نے کہا ہے کہ شنگھائی کانفرنس میں پاکستان اور بھارت کو مبصر سے ارکان کی حیثیت دینے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔