سرکاری اداروں میں اردو رائج کرنیکی منظوری‘ صدر‘ وزیراعظم بیرون ملک قومی زبان میں تقاریر کرینگے

11 جولائی 2015

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ایجنسیاں+ نوائے وقت نیوز) سپریم کورٹ میں قومی زبان اردو کے نفاذ اور صوبائی زبانوں کی ترویج واشاعت کے مقدمے میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ اب انگریزی نہیں بلکہ اردو میں آئندہ صدر مملکت، وزیراعظم، وفاقی وزرا اور تمام وفاق اور سرکاری نمائندے ملک کے اندر اور باہر تقاریرکریں گے اس حوالے سے وزیراعظم پاکستان نے باقاعدہ ایک انتظامی حکمنامہ بھی جاری کردیا ہے۔ وزیراعظم نے اردو کو فوری طور پر سرکاری اداروں میں رائج کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے وفاق کے زیرانتظام کام کرنے والے تمام ادارے (سرکاری و نیم سرکاری) اپنی پالیسیوں قوانین کا تین ماہ کے اندر اردو ترجمہ شائع کریں۔ ہر طرح کے فارم انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی فراہم کریں۔ تمام عوامی اہمیت کی جگہوں مثلاً عدالتوں، تھانوں، ہسپتالوں، پارکوں، تعلیمی اداروں، بینکوں وغیرہ میں رہنمائی کے لئے اردو میں بھی بورڈ آویزاں کئے جائیں گے۔ پاسپورٹ آفس، محکمہ انکم ٹیکس، اے جی پی آر، آڈیٹر جنرل، واپڈا ، سوئی گیس، الیکشن کمشن، ڈرائیونگ لائسنس اور یوٹیلیٹی بلوں سمیت تمام دستاویزات اردو میں فراہم کریں۔ پاسپورٹ کے تمام اندراج انگریزی کے ساتھ اردو میں بھی منتقل کئے جائیں۔ وفاقی حکومت کے زیرانتظام کام کرنے والے تمام ادارے (سرکاری و نیم سرکاری) اپنی ویب سائٹ اردو میں منتقل کریں۔ پورے ملک میں چھوٹی بڑی شاہراہوں کے کناروں پر راہنمائی کی غرض سے نصب سائن بورڈ اردو میں بھی نصب کئے جائیں۔ تمام سرکاری تقریبات، استقبالیوں کی کارروائی مرحلہ وار تین ماہ کے اندر اردو میں شروع کی جائے۔ اردو کے نفاذ و ترویج کے سلسلے میں ادارہ فروغ قومی زبان کو مرکزی حیثیت دی جائے تاکہ اس قومی مقصد کی بجا آوری کے راستے کی رکاوٹوں کو موثر طریقے سے جلد از جلد دور کیا جا سکے ۔ یہ رپورٹ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے پوچھنے پر سیکرٹری اطلاعات ونشریات اعظم خان نے پیش کی۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیراعظم بیرون ملک گئے ہیں اس لئے اجلاس نہیں ہو سکا ۔ لیکن وزیر اعظم کی ہدایت پر کچھ انتظامی احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ وزیراعظم 6 جولائی کو انتظامی حکم نامے پر دستخط کر دئیے ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ بلوچستان نے چھ زبانوں کا لینگوئیج ایکٹ اور بلدیاتی انتخابات کروا دئیے ہیںکہا جاتا تھا کہ بلوچستان ترقی میں سب سے پیچھے ہیں، جسٹس جواد نے پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان نے پنجابی زبان کو رائج کر دیا ہے لیکن پنجاب نے پنجابی کے لیے کچھ نہیں کیا پنجابی کو لاوارث نہ کیا جائے، عدالت نے رپورٹ کی کاپی درخواست گزار کو فراہم کرنے کی ہدیات کر دی جبکہ کیس کی مزید سماعت بائیس جولائی تک ملتوی کر دی۔جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ 1951ء کے ایک سروے کے مطابق ملک کی97 فیصد آبادی پنجابی بولتی ہے لیکن پنجاب کی حکومت نے تو پنجابی کو مار ہی دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پنجاب کو پنجابی رائج کرنے میں کوئی مسئلہ ہے تو وہ حکومت بلوچستان اور خیبر پی کے کی خدمات لے سکتی ہے۔