مجاہد اول سابق صدر آزادکشمیر عبدالقیوم خان طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

11 جولائی 2015

اسلام آباد+ لاہور (سلطان سکندر+ خصوصی رپورٹر+ خصوصی نامہ نگار+بی بی سی+ نوائے وقت رپورٹ) آزاد کشمیر کے سابق صدر اور وزیراعظم سردار محمد عبدالقیوم خان طویل علالت کے بعد راولپنڈی کے ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ مرحوم کی عمر 91برس تھی۔ ان کا تعلق ضلع باغ کے علاقے غازی آباد سے تھا۔ میٹرک کے بعد سردار قیوم نے برٹش انڈین آرمی کے انجینئرنگ کور میں 1942ء سے 1946ء تک ملازمت کی۔ پھر کشمیر فریڈم موومنٹ میں شمولیت اختیار کرلی۔ وہ آل جموں اینڈ کشمیر مسلم کانفرنس کے 14بار صدر منتخب ہوئے۔ 1971ء میں عام انتخابات کے ذریعے وہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے صدر منتخب ہوئے۔ 1985ء میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی کے بعد وہ صدر بن گئے اور 1990ء میں چوتھی بار آزاد کشمیر کے صدر منتخب ہو گئے۔ 1991ء میں انہوں نے صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا۔ 1996ء میں وہ قائد حزب اختلاف منتخب ہوئے اور 2001ء میں دوبارہ قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ سردار عبدالقیوم تقریباً دوماہ سے راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے ۔ سردار عبدالقیوم خان کو بین الاقوامی اور پاکستانی قیادت قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی، قومی سیاست میں آپ کا نام اور مقام تھا، انکے صاحبزادے سردار عتیق بھی آزاد کشمیر کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔ سردار محمد عبدالقیوم تحریک آزادی کشمیر کے بانیوں میں سے تھے، ان کو ہندوستان کے خلاف آزادی کی تحریک میں بھارتی فوج کے خلاف پہلی گولی چلانے کا اعزاز حاصل تھا، اسی لئے ان کو مجاہد اول کا لقب دیا گیا۔ سردار قیوم خان 4 اپریل 1924ء کو ضلع باغ کے علاقے غازی آباد میں پیدا ہوئے۔ 23 اگست 1947ء کو نیلہ بٹ دھیرکوٹ آزاد کشمیر سے ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف جہاد کشمیر کا آغاز کیا اور آزاد کشمیر کا علاقہ آزاد کرایا گیا۔1952ء میں آپ نے سیز فائر لائن عبور کرنے کی کوشش کی یوں مسلح جدوجہدر دوبارہ شروع کرنے کی پاداش میں آپ کو ایک سال کیلئے جیل بھیج دیا گیا۔ سردار قیوم کو 1956ء میں مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل نے آزاد کشمیر کا صدر بنایا جو اس وقت آئینی ادارہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔ وہ رابطہ عالم اسلامی کے رکن بھی رہے ہیں۔ آپ نے 1975ء میں پاکستان نیشنل الائنس اور حکومت کے درمیان رابطہ کار کے طور پر بھی کام کیا۔ سردار قیوم نے چھ کتب بھی تصنیف کیں جن میں آپریشن جبرالٹر، قرآن پاک کے معجزے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سیکڑوں مضامین شامل ہیں ۔ آپ نے مسئلہ کشمیر اور جنوبی ایشیا کے حوالے سے امریکہ ، لندن اور یورپ کے کئی ممالک میں لیکچر بھی دئیے ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق انہوں نے آزاد کشمیر کی پہلی بٹالین جسے 19اے کے بٹالین کے نام سے جانا جاتا ہے، کی بنیاد رکھی۔ یہ بٹالین سردار عبدالقیوم خان کی قیادت میں6بٹالین بریگیڈ بنی اور یہ بٹالین تاریخ کی کتابوںمیں ’’ قیوم بریگیڈ ‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ سردار عبدالقیوم خان پہلی رائے شماری کمیٹی کے رکن بھی رہے جبکہ 1952میںوہ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن بنے۔ حکومت آزادکشمیر نے سابق صدر و وزیراعظم کے انتقال پر (آج) ہفتہ کو عام تعطیل اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، اہم قومی عمارتوں پر پرچم سرنگوں رہے گا۔ ان کی نماز جنازہ (آج) ہفتہ کو دن 11:00بجے دوبارہ انکے آبائی گائوں غازی آباد ضلع باغ میں ادا کی جائیگی اور پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ غازی آباد میں سپرد خاک کیا جائیگا۔ صدر ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ شہبازشریف، صدر آزادجموں و کشمیر سردار محمد یعقوب خان، وزیر اعظم چودھری عبدالمجید، لیاقت بلوچ، حافظ سعید اور دیگر نے مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کی وفات پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سردار عبدالقیوم خان نے کشمیری عوام کے حقوق کیلئے آواز بلند کی اور کشمیری عوام کیلئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ گزشتہ روز مجاہد اول سردار عبدالقیو م کی نماز جنازہ اسلام آباد میں شکر پڑیاں پریڈ گرائونڈ میں ادا کردی گئی، پیر علائو الدین صدیقی نے نماز جنازہ پڑھائی، جس میں اہلخانہ کے افراد سمیت پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت ، آزاد کشمیر و مقبوضہ کشمیر کے سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سمیت پوری کابینہ اور اس کے علاوہ راولپنڈی اسلام آباد پشاور میں مقیم کشمیری کمیونٹی، کور کمانڈر راولپنڈی ، جی سی او مری سمیت آزاد کشمیر کے تمام اضلاع سے سیاسی و سماجی شخصیات وکلاء انتظامیہ کے اعلیٰ افسران ، ڈاکٹرز ، تاجروں اورصحافیو ں سمیت سول سوسائٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ نماز جنازہ آج دوبارہ گیارہ بجے آبائی گائوں غازی آباد میں ادا کی جائے گی۔