ضیاء اللہ آفریدی کو وزارت سے ہٹا دیا گیا‘ 13 روزہ ریمانڈ

11 جولائی 2015
ضیاء اللہ آفریدی کو وزارت سے ہٹا دیا گیا‘ 13 روزہ ریمانڈ

اسلام آباد/ پشاور (نوائے وقت رپورٹ + بی بی سی + آئی این پی) خیبر پی کے کے وزیر ضیاء اللہ آفریدی کو وزارت سے ہٹا دیا گیا۔ فیصلہ اسلام آباد میں تحریک انصاف کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ عدالت سے بے گناہی ثابت ہونے تک ضیاء اللہ آفریدی وزیر نہیں رہیں گے۔ اپنے ہی وزیر اعلیٰ کے خلاف ریمارکس قابل مذمت ہیں۔ ضیاء اللہ آفریدی کو تاحال شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ احتساب عدالت نے بدعنوانی کے الزام میں گرفتار صوبائی وزیر معدنیات ضیاء اللہ آفریدی کو 13 دن کے ریمانڈ پر احتساب کمیشن کے حوالے کر دیا۔ گرفتار کیے جانے والے صوبائی وزیر معدنیات کو جمعہ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ بدعنوانی سے متعلق ایک اور مقدمے قومی احتساب بیورو نے سابق وزیر معدنیات محمود زیب اور دیگر 9 افسران کا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ حال ہی میں قائم ہونے والے صوبائی احتساب کمشن نے گذشتہ روز انہیں مالی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ضیاء اللہ آفریدی کو حیات آباد میں قائم احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ان کے حمایتی بڑی تعداد میں موجود تھے جنہوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ضیاء اللہ آفریدی نے دعویٰ کیا کہ وہ بے گناہ ہیں۔ ضیاء اللہ آفریدی پر الزام ہے کہ انہوں نے معدنیات کے ٹھیکوں میں بڑے پیمانے پر خورد بُرد کی اور محکمے میں تعیناتیوں پر بے قاعدگیاں برتیں۔ ادھر جمعہ کو وفاقی سطح پر قائم قومی احتساب بیورو نے بھی سابق وزیر معدنیات محمود زیب اور دیگر نو افسران کو احتساب عدالت میں پیش کیا اور ان کا 12 روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ سابق وزیر محمود زیب اور محکمے کے سابق سیکرٹری، انسپکٹروں اور موجودہ کمشنر بنوں سمیت دیگر نو افراد کو بھی جمعہ کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان تمام افراد کو گذشتہ روز گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پانچ سو ایکڑ پر محیط فاسفیٹ کے ذخائر کی لیز غیر قانونی طور پر ایک استانی رخسانہ کو فروخت کی تھی۔ قومی احتساب کے ادارے کے مطابق ان افراد نے قومی خزانے کو تین کروڑ 60 لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا ہے۔