بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو شاہ عبداللہ کے کہنے پر وطن واپس آنے دیا تھا: مشرف

11 جولائی 2015

کراچی (آئی این پی) آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اورسابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے کہنے پر واپس آنے دیا تھا، انتقامی سیاست کا قائل نہیں ہوں،3سال تک 17لوگوں کے ساتھ حکومت چلائی، نواز شریف کیس میں جس کسی کی بھی والدہ نے درخواست کی تو اسے رہا کر دیا، فوج میں ایس ایس جی کی وجہ سے کامیاب ہوں۔،کوئی میری کنپٹی پر پستول رکھ کر کہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری میں سے کسی ایک کے ساتھ ڈنر کرو تو میں نواز شریف کے ساتھ کروں گا اور رائےونڈ چلا جاﺅں گا،کتے ہمیشہ مجھے بہت پسند رہے ہیں، یہ سب سے زیادہ وفادار جانور ہے،میرے چھوٹے کتے کا نام پاشا ہے۔ وہ جمعہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو معاہدے کی خلاف ورزی کر کے پاکستان آئی تھیں پھر شہزادہ عبداللہ نے کہا کہ نواز شریف کو بھی واپس آنے دیں، پھر ان کی درخواست پر انہیں آنے دیا جبکہ ہم نے سعودی فرمانروا کی درخواست پر انہیں دس سال کےلئے چھوڑا تھا، کبھی خواہش نہیں تھی کہ نواز شریف کو پھانسی دی جائے ، نواز شریف کی والدہ نے مجھے خط لکھا تھا کہ انہیں باہرجانے دیں جس پر انہیں سعودی عرب جانے کی اجازت دی ۔شوکت عزیز نے مجھے آئی ایم ایف کو غلط اعداد و شمار جاری رکھنے کا مشورہ دیا، میں نے فیصلہ کیا کہ سچ بتائیں گے۔ آرمی چیف غدار نہیں ہو سکتا، غداری کے الزامات پر ہنسی بھی آتی ہے اور غصہ بھی آتا ہے۔ سابق صدر نے کہا کہ اگر کوئی میری کنپٹی پر پستول رکھ کر کہے کہ نواز شریف اور آصف زرداری میں سے کسی ایک کے ساتھ ڈنر کرو تو میں نواز شریف کے ساتھ کروں گا اور رائےونڈ چلا جاﺅنگا۔ 2002ءمیں میں نے غلط فیصلہ کیا تھا مجھے دو سال بعد نہیں پانچ سال بعد الیکشن کرانا چاہیے تھا۔پرویز مشرف نے کہا کہ مجھے پاکستان کو ٹھیک کرنے کےلئے پانچ سال اور مانگنے چاہیے تھے۔
پرویز مشرف