فلم ’’لارنس آف عریبیہ‘‘ سے شہرت پانے والے مصری اداکار عمر شریف انتقال کرگئے

11 جولائی 2015

واشنگٹن+ کراچی (نوائے وقت رپورٹ+ کلچرل رپورٹر) بین الاقوامی شہرت یافتہ اور فلم لارنس آف عریبیہ سے شہرت پانے والے مسلمان مصری اداکار عمر شریف قاہرہ کے ایک ہسپتال میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ انکی عمر 83 سال تھی۔ مصر کے بین الاقوامی فنکار عمر شریف کی شہرت کا آغاز 1962ء کی فلم لارنس آف عریبیہ سے ہوئی۔ ڈیوڈ لہن کی اس فلم میں انہوں نے جو کردار ادا کیا اسکی پیشکش پہلے دلیپ کمار کو ہوئی تھی۔ تین برس بعد عمر شریف نے فلم چنگیز خان میں مرکزی کردار ادا کیا۔ نوبل انعام یافتہ روسی ادیب بورس پاسٹر ناٹ کے ناول پر مبنی ڈاکٹر رواگو بنی تو اس میں مرکزی کردار عمر شریف کا تھا جو انکی زندگی کا یادگار ترین کردار قرار پایا۔ آخری عمر میں وہ نسیان اور رعشہ کی بیماریوں میں مبتلا رہے۔ دنیا بھر سے فلمی صنعت سے وابستہ افراد نے ان کی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہیں بہترین اداکاری کا مظاہرہ کرنے پر مختلف مواقع پر اکیڈمی ایوارڈ، تین گولڈن گلوب ایوارڈ اور ایک سیزر ایوارڈ دیا گیا۔ ان کا سابقہ بیوی فاطین صمامہ سے ایک ہی بیٹا طارق الشریف ہے۔ عمر شریف 1962ء میں ہدایت کار ڈیوڈ لین کی کامیاب فلم لارنس آف عربیہ میں اداکاری کے بعد عالمی سطح پر مشہور ہوئے تھے۔ اس فلم میں شریف علی نامی کا کردار ادا کرنے پر انہیں دو گولڈن ایوارڈ ملے تھے جبکہ اسی کردار کیلئے انہیں آسکر ایوارڈ کیلئے بھی نامزد کیا گیا تھا۔ عمر شریف نے اپنی آخری فیچر فلم میں 2013ء میں کام کیا تھا۔