262 ارب روپے کی وصولی کا نیب کا دعویٰ غلط ہے: ڈاکٹر شاہد صدیقی

11 جولائی 2015

لاہور (کامرس رپورٹر) انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بنکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے نیب کی جانب سے 2000ءسے لے کر 2014ءتک 262 ارب روپے وصول کئے جانے کے دعوے کو غلط اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی سال 2002ءمیں اس وقت کی حکومت اور نیب نے دعویٰ کیا تھا کہ بینکوں کے پھنسے ہوئے قرضوں میں سے 80 ارب روپے کی وصولی میں نیب کا بھی کردار ہے جس پر سٹیٹ بنک کے گورنر نے کہا کہ اس مدت میں بینکوں کے پھنسے ہوئے قرضوں کی نقد وصولی کا مجموعی حجم تقریباً 40 ارب روپے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2015ءمیں نیب کی رپورٹ میں کہا گیا کہ لوٹی ہوئی دولت کی مد میں 262 ارب روپے کی وصولی کے دعویٰ کے بعد یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دسمبر 2014ءتک نیب نے قومی خزانے میں 6515 ملین روپے جمع کرائے جبکہ نیب کے مجموعی اخراجات 1060 ملین روپے رہے۔ نیب کے پاس برس ہا برس سے بدعنوانی جیسے اہم بڑے بڑے پیمانے پر مک مکا (پلس بارگینگ) سے بھی رقوم وصول کیں جو نقصان اور خسارے کا سودا ہے۔