بریک تھرو ہوا نہ توقع تھی‘ بھارتی ہٹ دھرمی سے ایک سال ضائع ہوا: عسکری‘ خارجہ ماہرین

11 جولائی 2015

لاہور (خصوصی رپورٹر + سپیشل رپورٹر) عسکری ماہرین نے وزیراعظم نواز شریف اور بھارتی وزیراعظم مودی کی ملاقات کو روٹین کی ملاقات قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی ملاقاتوں سے کوئی بڑی توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں۔ نوائے وقت سے گفتگو میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض علی چشتی نے کہا کہ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات سے کوئی بڑی توقع تھی نہ ہی کوئی بریک تھرو ہوا۔ تاہم اس قسم کی ملاقاتیں جاری رہنا چاہئے تاکہ کسی طے شدہ ایجنڈے پر ملاقات کی راہ ہموار ہو سکے۔ مسلم لیگی سینیٹر جنرل (ر) عبدالقیوم نے پاکستان اور بھارت کے وزراءاعظم کی ملاقات خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کی مخالفت کر رہا ہے، وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان ترقی کرے۔ دونوں ہمسایہ ممالک کو امن کے قیام کےلئے آگے بڑھنا چاہئے۔ ماہرین اور خارجہ کے مطابق پاکستان اور بھارت دونوں نے ایک ایک قدم پیچھے ہٹایا ہے بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ایک سال ضائع ہوا ہے کیونکہ کشمیریوں سے ملاقاتیں پچھلے 30 سال سے ہو رہی ہیں۔ بھارت میں بھی اس ملاقات سے اندرونی طور پر ناراض ہے تاہم کشمیر کا ذکر نہ ہونے پر پاکستان کے کچھ حلقے بھی خوش نہیں ہونگے اسلئے بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہئے۔ پروفیسر حسن عسکری نے کہا کہ اس ملاقات سے رابطوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو بھارت نے گذشتہ سال ختم کر دیا تھا اگلی ملاقاتوں سے پتہ چلے گا کہ بات چیت کن ایشوز پر ہو گی۔ سابق سفیر اقبال احمد خان نے کہا ہے کہ اچھی بات ہے کہ ملاقات ہوئی ہے کیونکہ پاکستان بھارت کے چند ایک بڑے مسئلے ہیں جو زیرالتوا ہیں جبکہ نئے مسائل بھی کھڑے ہو رہے ہیں جو ایک خطرناک چیز ہے۔ روس امریکہ کے تعلقات جب انتہائی کشیدہ تھے تب بھی ان میں بات چیت جاری رہتی تھی۔ آگے چل کر اگر دہشت گردی پر بات ہو گی تو کشمیر پر بھی لازمی بات ہو گی۔
ماہرین