گلی محلوں میں ادویات کی فیکٹریاں ہیں، انتظامیہ کو انسانی جانوں کی پروا نہیں : لاہور ہائیکورٹ

11 جولائی 2015

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے ٹائنو سیرپ سے ہلاکتوں کے خلاف دائر درخواست پر حکومت پنجاب سے ہیلتھ پالیسی اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی سے جواب طلب کر لیا۔ فاضل عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ سکولوں کی طرز پر گلی محلوں میں ادویات بنانے کی فیکڑیاں لگی ہیں مگر انتظامیہ کو انسانی جانوں کی کوئی پروا نہیں، سانحات کے بعد ہمارے سیاستدان جاگتے ہیں۔ سیاسی عہدے عارضی ہوتے ہیں مگر بنیادی کام عوام کی خدمت ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس فرخ عرفان خان نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے فاضل عدالت کو بتایا کہ ٹائنو نامی سیرپ کے نام پر نشہ پھیلایا گیا جس سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ ادویات بنانے کے لئے 50 ہزار لائسنس جاری کر دئیے گئے صرف کھانسی شربت بنانے کے چھ سو برانڈ رجسٹرڈ ہیں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ادویات کا کیا معیار ہو گا۔ چیف ڈرگ انسپکٹر نے عدالت کو بتایا کہ لاہور میں 18 ڈرگ انسپکٹرز کے ذریعے کام کیا جا رہا ہے اور شکایات موصول ہونے پر جعلی ادویات بنانے والوں کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی ہے جس پر فاضل عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ادویات بنانے اور ان کا معیار چیک کرنے کے لئے کس قسم کا نظام وضع کیا گیا ہے عدالت کو اس سے آگاہ کیا جائے۔ درخواست گزار نے مزید کہا کہ ٹائنو شربت سے درجنوں ہلاکتوں کے باوجود موثر قانون سازی نہیں کی گئی۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ ادویات سازی انتہائی اہمیت کی حامل ہے اس کےلئے موثر پالیسی اور قانون سازی ہونی چاہئے۔ بعد ازاں فاضل عدالت نے کیس کی مزید سماعت 28 جولائی تک ملتوی کر دی۔
لاہور ہائیکورٹ / ٹائنو سیرپ