’’ اے روشنیوں کے شہر بتا ‘‘

11 جولائی 2015
’’ اے روشنیوں کے شہر بتا ‘‘

پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی جو روشنیوں کا شہر بھی کہلاتا تھا شدید ہلچل اور بدامنی کا شکار ہے۔ صرف چند دنوں میں گرمی کی شدت ، بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور پانی کی نایابی کی وجہ سے ابھی تک سینکڑوں افرادلقمہ اجل بن چکے ہیں۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ سرکاری اورنجی ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کیلئے سہولیات کم پڑ گئیں۔ قبرستانوں میں جگہ کے فقدان کا سامنا ہے اور مردہ خانے بھی مکمل طور پر پُر ہو چکے ہیں اور لاشیں سڑکوں پر پڑی سٹر رہی ہیں مگر ہمارے رہنما یہاں بھی سیاست کر رہے ہیںاور اپنی نااہلی کو چھپانے کیلئے ایک دوسرے پر الزامات لگارہے ہیں۔
مرنے والوں میں تمام افراد کا تعلق غریب بے کس اور بے خانماں طبقے سے ہے نیز کمزور اور عمر رسیدہ افراد بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ ہمارے حکمران جو مہنگے مہنگے علاقوں میں رہتے ہیں اور اُنکو زندگی کی تمام سہولیات بشمول پانی اور بجلی موجود ہیں اور وہ عوام کی تکالیف اور مسائل سے مکمل طور پر لاتعلق ہیں ۔ ان حالات میں صوبے کی بڑی پارٹی کے سربراہ جناب آصف زرداری ملک سے باہر چلے گئے ہیں جب اُنکی صوبے میں موجودگی اس وقت بہت ضروری تھی دراصل نیب اور رینجر کی طرف سے اُنکے اردگرد گھیرا تنگ ہونے کی وجہ سے وہ ملک سے راہ فرار اختیار کر گئے۔اور قیادت اپنے نو عمر بیٹے بلاول کے سپر د کر گئے ہیں جو کہ دکھاوے کیلئے چند مریضوں کو ہسپتال میں دیکھنے گئے اور فوٹو سیشن کے بعد اپنے آرام دہ محل میں واپس چلے گئے ہیں۔
کچھ عرصے سے کراچی مسائل کا گڑھ بن گیا ہے ۔ کبھی گرمی کی لہر آجاتی ہے یا پھر بارشوںسے تباہی پھیل جاتی ہے۔ ٹارگٹ کلنگ اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے لا تعداد لوگ ملک عدم سدھار گئے۔ لیکن ہمارے رہنما اس ضمن میں کوئی ٹھوس اقدامات کرنے کی بجائے الزام ایک دوسرے پر ڈالتے رہتے ہیں اور موقع پر جا کر لوگوں کی مدد کر نے کی بجائے ٹی وی سٹوڈیوز میں بیٹھ کر بیانات دیتے رہے اور اموات کی وجہ وفاقی حکومت کی طرف بجلی کی لوڈ شیڈنگ دی گئی اور وفاق بجلی مہیا کرنے کی بجائے اموات کو صوبائی حکومت کی نا اہلی قرار دیا۔ جب پانی سر سے اونچا ہو گیا توسندھ کے عمر رسیدہ وزیر اعلیٰ 5دن کے بعد مجبوراً اپنے ٹھنڈے اور پرتعیش دفتر سے نکل کر بیماروں کا حال پوچھنے کیلئے تشریف لے گئے اور چندگھنٹے گزارنے اور فوٹو سیشن کے بعد واپس تشریف لے آئے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے ہمیشہ کی طرح کراچی کے واقعات کا صرف’’ نوٹس‘‘ لے لیا اور واپڈا اور کراچی الیکڑک کے درمیان معاہدے کا صرف جائزہ لیتے رہے اور اہل کراچی اُن کی آمد کے منتظر ہی رہے وقت گزر جانے کے بعد یکم مئی کو کراچی تشریف لے گئے اور کراچی میں ہونیوالی ہلاکتوں پر ’’دلی رنج‘‘ کا اظہار کرنے کا ’’تکلف‘‘ کیا۔مزید برآں کراچی میں بجلی کے بحران کے بارے میں وزیر بجلی و پانی کے بیانات نے معاملے کو مزید الجھا دیا کیونکہ انہوں نے اسمبلی میں اعلان کیا کہ وفاقی حکومت کا کراچی میں بجلی کی فراہمی اور کراچی الیکٹرک سے کوئی ’’تعلق‘‘ نہیں جبکہ کراچی الیکٹرک کے 26 فی صد شیئرز وفاق کے پاس ہیں اور ضرور ت پڑے یا ایمرجنسی کی صورت میں وہ اُنکی مدد کرنے کی ذمہ دار ہے۔ ویسے بھی انسانی جان بہت قیمتی ہے اس کو بچانے کیلئے معاہدوں کو بدلا بھی جا سکتا ہے۔جہاں تک کراچی میں امن وامان کا تعلق ہے تو یہاں پر سیاسی سطح پر بھی حالات دگرگوں ہیں۔ ایک بڑی پارٹی کے سربراہ گلی گلی جنگ کی باتیں کر رہے ہیں۔ دوسری بڑی سیاسی جماعت کے لیڈرز کراچی سے خیبر تک پہیہ جام کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ رینجرز کی طرف سے ان کیخلاف گھیرا تنگ ہو رہا ہے ہر روز درجنوں با اثر افراد کروڑوں روپے کی بدعنوانی میں ملوث پائے جانے پر قانون کے دائرے میں لائے جا رہے ہیں۔جہاں تک محکمہ پولیس کا تعلق ہے تو یہ ادارہ جو کہ قانون کی بالا دستی کو یقینی بنانے کا ذمہ دار ہے خود غیر قانونی سر گرمیوں میں مصروف ہے۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق آئی جی پولیس سندھ کیخلا ف کروڑوں روپے کی بدعنوانی کے الزامات کے سلسلے میں انکوائری کی جارہی ہے۔ اُن پر سرکاری املاک پر ناجائز قبضے اور اس کی فروخت کا الزام ہے نیز محکمے میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابتگیوں کا بھی سراغ مل رہے ہیں۔قارئین! یہ وہ عوامل ہیں جن کے نتیجے میں کراچی شہر جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا اور جو ملک کی صنعتی شہ رگ ہے اندھیروں میں ڈوب رہا ہے اور اسکے مضر اثرات ملکی سطح پر مرتب ہو رہے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ حکومت وقت ذاتی مفادات پر ملکی ترقی اور خوشحالی کو ترجیح دے اور تمام مسائل کو جنگی بنیادوں پر حل کرے۔ کراچی کے بارے میں یہ ہی کہہ سکتے ہیں کہ:
’’اے روشنیوں کے شہر بتا
اُجالوں میں اندھیروں کا
کس نے بھرا ہے زہر بتا‘‘
٭…٭…٭