حادثہ یا قتل ؟

11 جولائی 2015
حادثہ یا قتل ؟

ملتان روڈ کا اگر دوسرا نام خونی سڑک رکھا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ مجھے چار سال ملتان روڈ پر ہفتہ میں دو دن سفر کرنے کا اتفاق ہوتا رہا۔ ان چار سالوں میں میں نے کوئی سفر ایسا نہیں دیکھا کہ جس میں آتے ہوئے یا جاتے ہوئے کوئی ایکسیڈنٹ میری نظروں کے سامنے نہ ہوا ہو، یا پہلے سے خون میں لت پت کوئی لاش میرا استقبال نہ کرتی رہی ہو۔ یہ انتہائی کرب ناک مناظر بعض اوقات ایسے ہوتے تھے کہ جن کو کسی کے سامنے دوہرانے کی ہمت میں کبھی نہیں کر پائی۔ انہی تکلیف دہ مناظر میں ایک میری آپا کے بیوہ ہونے اور انکی تین معصوم بیٹیوں کے سر سے باپ کے شفقت بھرے سایے کے اٹھ جانے کا کرب بھی شامل ہے۔
اس سے پہلے وہ حادثات صرف وقتی ہوتے تھے جنھیں زندگی کی مصروفیات میں مگن ہو کر بھلا دیتی تھی اور آگے گزر جاتی تھی۔ جن کی وجوہات جاننے کی میں نے کبھی کوشش نہیں کی تھی۔ تکلیف کے اپنے اوپر گزرنے یا کسی کی دیکھنے سننے میں فرق بھی پہلی بار سمجھ میں آیا۔ یہ حادثہ جو ہمارے ساتھ پیش آیا اس میں ٹرک ڈرائیور نشے کی حالت میں ٹرک چلا رہا تھا۔ ٹرک ڈرائیور کو موقع پر موجود لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ اسے جیل میں بھجوا دیا گیا تفتیش ہوئی تو معلوم ہوا کہ حضرت نے کبھی ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنوایا اور ایک عرصہ سے ملتان روڈ پرٹرک چلا رہا ہے۔ بغیر ڈرائیونگ لائیسنس ہیوی ٹرک انتہائی مصروف اور اہم سڑک پر چل رہا ہے اور کسی کو کانوں کان خبر نہیں۔ یہ ایک عام شہری کے ساتھ پیش آنے والا معمولی واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ ایک قتل تھا۔ جس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ حکومت کے وہ ادارے ہیں جو سڑکوں پر ٹریفک کے قوانین کو لاگو کیا کرتے ہیں۔ اسکے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک شخص کے ٹرک ڈرائیور کی پکڑ اس کے اثر رسوخ کی وجہ سے نہیں کی۔ ایسے واقعات کو صرف حادثہ کہہ کر اور اس کو قسمت پر ڈال کر صبر کرنا بالکل مناسب نہیں۔
اسی طرح کا ایک اور واقعہ خاندان میں پیش آیا جس میں ٹرک ڈرائیور ایک آنکھ سے دیکھنے کے قابل نہیں تھا۔ لیکن اس کے پاس ڈرائیونگ لائیسنس موجود تھا۔ جس ملک میں محکمہ ایک نابینا کو لائسنس جاری کرسکتا ہے وہاں ایک آنکھ سے نہ دیکھنے والے کو لائیسنس جاری کرنا کوئی اتنی بڑی بات نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں بغیر لائسنس کے گاڑی چلانا اپنی نوعیت کا کوئی انوکھا واقع نہیں ہوگا۔ جہاں بغیر لائسنس کے گاڑی چلانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں وہاں لائیسنس کا حصول بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے اگر کسی کے پاس کوئی سفارش موجود ہے تو یہ کام چند گھنٹوں کا ہو گا اگر سفارش نہیں موجود تو یہ کام پیسہ دے کر بھی آسانی سے کروایا جا سکتا ہے۔ جس کیلئے آپ کو کوئی بھی ٹیسٹ پاس کرنا ضروری نہیں ہوگا۔
اگر کسی بااثر شخص کی گاڑی کے نیچے کوئی غریب آ کر کچلا جاتا ہے تو پولیس پیسے لے کر گاڑی کا معلوم نمبر نامعلوم لکھوانے کی سہولت بھی فراہم کرتی ہیں۔ اسکے علاہ مجرم کی جگہ اسکے کسی غریب نوکر کو جیل میں ڈالنے کا نیک کام بھی سر انجام دیتی ہے۔ ٹریفک پولیس میں موجود وارڈنز اپنی تنخواہ چالانوں سے پوری کرتے ہیں جس کیلئے انھیں روزانہ ایک مخصوص حد تک جائز و ناجائز چالان کاٹنے ہوتے ہیں۔ اسکے علاہ رشوت لیکر چالان سے خلاصی بھی ممکن ہے۔ یہ محکمہ بھی کرپشن کی نظر ہو گیا ہے۔ یہ صرف ملتان روڈ کی صورت حال ہے باقی شاہراہوں اور شہروں میں بھی یہی حال ہے۔ ٹی وی پر سننے میں یہ صرف ایک چھوٹی سی خبر ہوتی ہے کہ ایک شخص ٹرک کے نیچے آ کر کچلا گیا۔ لیکن وہ ایک شخص نہیں ہوتا۔ اسکے ساتھ کئی زندگیاں جیتے جی مر جاتی ہیں۔ ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ ہمارے لیے ایک شخص کی موت بہت معمولی سی بات لگتی ہے۔
پاکستان میں سالانہ بیس ہزار سے زائد افراد ٹریفک حادثات کی وجہ سے لقمہ اجل بنتے ہیں یا زندگی بھر کیلئے معذور ہو جاتے ہیں۔ ان میں غیرسرکاری ہسپتالوں میں لائے جانیوالے معمولی زخمی شامل نہیں ہیں۔ آئے روز سڑکوں پر ہونیوالے حادثات میں کمی کی بجائے اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ اداروں کی اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنا ہے اور اس پر ان کا احتساب نہ ہونا ہے۔ روڈ سیفٹی پلان بھی کبھی نہیں بنایا گیا۔ حال ہی میں اقوام متحدہ کی طرف سے مختلف ممالک کو روڈ سیفٹی پلان فراہم کیا گیا ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے لیکن اس پر عملدرآمد شروع نہیں کیا گیا ۔ ٹرانسپورٹ کا مناسب نظام بھی موجود نہیں جس کی وجہ سے زیادہ پرائیویٹ کاریں سڑکوں پر آ گئی ہیں جن کی تعداد چند سالوں میں پچاس لاکھ سے بڑھ کر کڑور سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسکے علاوہ خراب سڑکیں، ٹریفک کے قوانین کے حوالے سے عوام میں شعور کی کمی ہونا بھی ٹریفک حادثات کے بڑھنے کا سبب ہے۔ ابتدائی طبی امداد کے نہ ملنے کی وجہ سے بھی لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ادارے کو کرپشن سے پاک کیا جائے۔ پہلے سے موجود قوانین کو لاگو گیا جائے۔ ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر کیا جائے۔ لائیسنس جاری کرنے کیلئے کڑا امتحان ہو جس طرح تمام دوسرے ممالک میں ہوتا ہے۔ جہاں ایک ڈرائیونگ لائیسنس کے حصول کیلئے کئی سال لگ جاتے ہیں۔ گاڑیوں پر انکی کیپسٹی سے زیادہ وزن لادنے کی وجہ سے بھی بہت سے حادثے ہوتے ہیں۔ گاڑیوں کی فٹنس کو بھی چیک کیا جانا ضروری ہے۔ ابتدائی طبی امداد فراہم کر کے بھی شرح اموات میں کمی کی جا سکتی ہے۔ اہم شاہراہوں پر ہسپتال تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ شہروں کے ہسپتال تک لانے تک زخمی راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں۔
نئے ابتدائی طبی امداد کے مراکز کھولنے اور ایمبولینس سروس کو فعال بنانے کی شدید ضرورت ہے۔ ٹریفک حادثات میں مرنے والوں کے خاندانوں کی بھی حکومت کو خبر لینی چاہیے۔ کیونکہ ان میں اکثر ایسے مزدور پیشہ افراد بھی شامل ہیں جو اپنے خاندانوں کے واحد کفیل تھے۔ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جو زندگی بھر کیلئے معذور ہو چکے ہیں اور انکے گھروں میں نوبت فاقوں تک آگئی ہے۔ یہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس انتہائی نازک معاملہ کی طرف توجہ دے۔ کیونکہ اس میں کوئی لمبا چوڑا بجٹ خرچ نہیں ہونا۔ بلکہ پہلے سے موجود اداروں کو فعال بنانا اور پہلے سے موجود قوانین کو لاگو کرنا ہے جس کے لئے اچھی خاصی فورس بھی پہلے سے موجود ہے۔