سخاوت اور گدا گری

11 جولائی 2015

عام طور پریہ کہا جاتا ہے کہ مطلب پرست اور غرض مند دوست، احباب اور عزیز و قارب سے دور ہی رہنا چاہتے۔ لیکن حضرت امام حسن ؑ کا قول اس نظریے سے یکسر متضاد ہے۔ حضرت امام حسنؑ فرماتے ہیں کہ ’’اگر تمہارے پاس کوئی دوست یا رشتہ دار کسی غرض سے آئے تو پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں اس قابل بنایا ہے کہ تم کسی کی غرض پوری کرسکتے ہو‘‘۔سبحان اللہ، یہ ہے حضرت امام حسنؑ کے نانا ﷺ اور حضرت مولا علیؓ کی تربیت، ہم لوگ بہت پست ذہنیت کے مالک ہیں جو غرض مندوں اور ضرورت مندوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور انہیں حقارت سے دھتکار دیتے ہیں۔ یہ قول مبارک پڑھنے کے بعد میری سوچ میں نمایاں تبدیلی آئی اور اب میں کسی مطلب پرست اور ضروت مند کو نہ تو حقیر سمجھتا ہوں اور نہ کسی کو جھوٹی تسلی دیتا ہوں۔ میری پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اگر میں کسی کی ضرورت پوری کرسکتا ہوں تو کردوں اور اگر دیکھوں کہ میں خود مجبور ہوں تو وہاں میں بڑے انکسار کے ساتھ معذرت کرلیتا ہوں۔ یہاں کچھ لوگ اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ یوں لوگ آپ کی فیاضی اور سخاوت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تو یہاں مجھے حضرت غوث پاکؒ کا وہ واقعہ یاد آجاتا ہے کہ ایک شخص نے حضور غوث پاکؒ سے پوچھا کہ حضور میں جب بھی صدقہ خیرات دینا چاہتا ہوں تو اس شش و پنج میں رہتا ہوں کہ کوئی سچا حقدار ملے تو دوں۔ اس پر غوث پاکؒ نے جواب دیا کہ تم یہ کیوں سوچتے ہو، کوئی حقدار ہے یا نہیں تم نیک نیتی سے صدقہ خیرات کردو، تو اللہ تعالی تمہیں وہ سب کچھ بھی عطا فرمائے گا جس کے تم حقدار نہیں ہو۔
حدیث مبارک ہے کہ ’’کنجوس عابد سے سخی کافر اچھا ہے‘‘ نبی مکرمؐ کے اس فرمان کے بعد کسی قوم، کسی فتوے اور کسی حکایت کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ حاتم طائی کی نواسی کیلئے رسالت مآبؐ نے یوں ہی اپنی چادر مبارک نہیں بچھادی تھی حالانکہ وہ کافر تھیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ سخاوت بہت بڑی خوبی ہی نہیں، بہت عظیم نیکی بھی ہے۔آج جب ہم اپنے معاشرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ تو امت مسلمہ کے زوال کا باعث فوراً معلوم ہو جاتا ہے۔ رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہو چکا ہے اور ہمارے تاجروں اور دکانداروں کا یہ حال ہے کہ ماہ صیام کے آغاز سے لیکر اب تک کھانے پینے کی اور دیگر ضروریات زندگی کی تمام اشیاء کی قیمتیں پچاس سے سو فیصد بڑھا چکے ہیں اور اس سے بھی ان کی حرص و طمع کی تسکین نہیں ہو پاتی۔ اب چونکہ عیدالفطر کی خریداری کا بھی آغاز ہو چکا ہے لہٰذا قیمتیں آسمان تک جاپہنچی ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے رمضان پیکیج کی صورت میں غرباء کو کافی ریلیف دیا۔ لیکن ابھی حکومت کی طرف سے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے بہت سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر خوراک بلال یٰسین کی کارکردگی بھی اطمینان بخش ہے، جن کی سربراہی میں مضر صحت اشیائے خوردو نوش بنانے والے ریستوران، بیکریاں، اور ہوٹل وغیرہ بند کئے جا رہے ہیں اور انہیں بھاری جرمانے بھی کئے جا رہے ہیں بلال یٰسین بہت نیک سیرت اور خوش اخلاق نوجوان ہیں۔ انہیں نعت خوانی سننے کا بھی بے حد شوق ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار مبارک کے غسل اور عرس کی تقریبات میں وہ بڑے ذوق و شوق سے شرکت کرتے ہیں بلکہ بہت سی نجی محافل نعت میں بھی میں نے انہیں دیکھا ہے۔ بلال یٰسین اور حمزہ شہباز، نوجوان سیاسی قیادت کے نمائندہ ہیں۔ اور میں نے ان دونوں نوجوانوں میں ایک قدر مشترک یہ بھی دیکھی ہے کہ دونوں غریبوں کی مدد کرنیوالے نوجوان ہیں اور یہ تربیت انہیں اپنے والدین اور گھر سے ملی ہے۔
اپنے قریبی احباب میں لاہور آرٹس کونسل/ الحمرا آرٹس کونسل کے چیئرمین عطاء الحق قاسمی کو میں نے بہت فراخ دل اور غریب پرور پایا ہے۔ عطاالحق قاسمی کو میں بچپن سے جانتا ہوں۔ میرا بہت طویل عرصہ ان کے قریب میں گزار ہے۔ وہ سڑک کنارے یا اشارے پر کھڑے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں سے، جو کچھ بھی وہ بیچ ہے ہوں، بغیر ضرورت کے اور بغیر (بارگینگ) کے خرید لیتے ہیں۔ انکی بیگم چاہے اس پر ناراض ہی ہوتی ہوں لیکن وہ اپنی اس ’’حرکت‘‘ سے باز نہیں آسکتے۔
اسی طرح میں نے خالد احمد (جو اب ہم میں نہیں) کو دیکھا۔ اگرچہ وہ کوئی امیر اور رئیس بھی نہیں تھے۔ لیکن ہر ضرورت مند کی ضرورت بقدر استطاعت پوری کردیتے تھے۔ ’’ضرورت‘‘ سے اکثر لوگ ’’روپے پیسے‘‘ مراد لیتے ہیں لیکن کسی کو اپنا علم دینا۔ کسی کیلئے اپنی توانائی خرچ کرنا یا کسی کیلئے اپنا قیمتی وقت صرف کردینا بھی سخاوت کے زمرے ہی میں آتا ہے۔
اگر پاکستان کی اشرافیہ، میرا مطلب ہے امیر لوگ، سخی لدر فیاض بھی ہو جائیں تو پاکستان کے غریب عوام کی مشکلات بہت حد تک کم ہوسکتی ہیں۔ انسان جو دولت ضرورت مند پر خرچ کرتا ہے وہی اس کا توشتہ آخرت ہے۔ باقی سب کچھ تو اسی دنیا میں رہ جاتا ہے لیکن آخر میں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ رسالت مآبؐ نے بھیک مانگنے کو سخت نا پسند فرمایا ہے اور محنت سے رزق حلال کمانے کی تلقین کی ہے۔ بھکاریوں کی حوصلہ شکنی اور گداگری کو ختم کرنے کیلئے بھی حکومت کو موثر اقدامات کرنا چاہیں۔ کیونکہ بھیک مانگنا انسانی عظمت و وقار کے منافی ہے۔ بقول اقبالؒ …؎
بگیرازمن کی زاغ دخمہ بہتر
ازآن بازی کہ دست آموز شاہیست