معلمہ کیخلاف جھوٹا مقدمہ درج ہوا، پنجاب میں گڈ گورننس کے صرف دعوے کئے جا رہے ہیں: سپریم کورٹ

11 جولائی 2015

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے اٹک کی رہائشی خاتون ٹیچر کے خلاف مبینہ جھوٹی ایف آئی آر کاٹنے کی پاداش میں ڈائریکٹر اینٹی کرپشن راولپنڈی اسد نعیم اور تفتیشی انسپکٹر سبطین کاظمی کو بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر معطل کرتے ہوئے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کو ان کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ چیئرمین نیب کو ان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے حوالہ سے کارروائی کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ سماعت 15 جولائی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ جسٹس جواد نے ریمارکس دئیے کہ بادی النظر میں ایف آئی آر کے اندراج میں بدنیتی نظر آتی ہے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پنجاب میں گڈ گورننس کے صرف دعوے کئے جا رہے ہیں۔ ایک معلمہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے کیا یہی گڈ گورننس ہے؟ تین رکنی بنچ نے عشرت رشید نامی معلمہ کی درخواست کی سماعت کی تو ڈائریکٹر اینٹی کرپشن راولپنڈی اسد نعیم اور تفتیشی انسپکٹر سبطین کاظمی پیش ہوئے۔ جسٹس جواد نے اسد نعیم سے استفسار کیا کہ انہوں نے کس کی درخواست پر اور کب عشرت بی بی کے خلاف کارروائی کی ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ دسمبر 2013ءمیں عشرت بی بی کے خلاف سرکاری دستاویزات میں رد و بدل کرنے کے حوالہ سے طاہر جاوید اعوان اور فرہاد شاہ نے درخواست دی تھی جس پر کارروائی کرتے ہوئے اب ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ آپ کو مزید نوکری کی ضرورت نہیں ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق اے مرزا نے کہا کہ اس خاتون کے خلاف ظلم ہوا ہے اس لئے ایف آئی آر واپس لی جا رہی ہے۔
جسٹس عظمت