بول کے اکاﺅنٹس منجمد کرنے کی درخواست پر دستاویزات پیش کرنے کا حکم

11 جولائی 2015
بول کے اکاﺅنٹس منجمد کرنے کی درخواست پر دستاویزات پیش کرنے کا حکم

کراچی (وقائع نگار) سندھ ہائیکورٹ نے بول کے اکاﺅنٹس منجمدکرنے کی درخواست پر ایف آئی اے کو 6 اگست تک دستاویزات پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ جسٹس محمد علی مظہر کا کہنا ہے کہ دیکھنا ہوگاکہ پیسا کہاں سے کمایا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔ ایف آئی اے کی جانب سے بیرسٹر زاہد جمیل جبکہ بول کے وکیل بیرسٹر عابد زبیری ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ بول ٹی وی کے وکیل بیرسٹرعابدزبیری نے دلائل دئیے کہ عدالتی اجازت کے بغیر بینک اکاونٹس کو منجمد نہیں کیا جا سکتا۔ صرف ایف آئی اے کی درخواست پر ایگزیکٹ کی دس کمپنیز کے اکاونٹس منجمد کرکے آئین اور قانون کا مذاق اڑایا گیا۔ جسٹس محمدعلی مظہر نے ریمارکس میں کہاکہ ان کی ہمدردیاں بول ملازمین کےساتھ ہیں لیکن اس بات کاتعین کرنا ہوگا کہ پیسہ کہاں سے کمایا گیا۔ عدالت نے ایف آئی اے کوجواب اور دستاویزات پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 6 اگست تک ملتوی کر دی۔
حکم