پلڈاٹ کو ریکارڈ فراہمی کیخلاف صدر نے قومی اسمبلی کی اپیل مسترد کردی

11 جولائی 2015

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ انعام اللہ خٹک/ نیشن رپورٹ) صدر پاکستان ممنون حسین نے پلڈاٹ کی جانب سے ارکان قومی اسمبلی کا ریکارڈ طلب کرنے کی درخواست کو درست قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی پاکستان کو ہدایت کی کہ 15 دنوں کے اندر یہ معلومات پلڈاٹ کو فراہم کی جائیں۔ قومی اسمبلی کی اس اپیل کو مسترد کر دیا گیا جو اکتوبر2013ء میں وفاقی محتسب کی جانب سے قومی اسمبلی کو کی جانے والی اس ’’سفارش‘‘ کے خلاف تھی کہ پلڈاٹ کو انفرادی ارکان کی حاضری کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔ صدارتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ’’مطلوبہ معلومات (ارکان قومی اسمبلی کی حاضری کا ریکارڈ) متعلقہ قانون کی استثنیٰ کی شق کے زمرے میں نہیں آتیں اور وفاقی محتسب کے مذکورہ فیصلے پر اعتراض کی گنجائش نہیں ہے اور اس میں کسی مداخلت کی ضرورت نہ ہے۔‘‘ صدر پاکستان نے اپنے حکم میں قرار دیا کہ ’’ایجنسی (قومی اسمبلی) کا موقف نوعیت کے لحاظ سے غلط فہمی پر مبنی ہے‘‘ اور یہ کہ اسمبلی کی اپیل درج ذیل وجوہات کی بناء پر مسترد کی جاتی ہے: ’’ ان حقائق پر آئین کے آرٹیکل 66 اور 67 کا اطلاق نہیں ہوتا۔۔۔۔ کیونکہ آرٹیکل 66 بنیادی طور پر رکن اسمبلی کو ایوان میں کی گئی تقاریر پر استثنیٰ اور استحقاق کے بارے میں ہے اور آرٹیکل 67‘ ایوان میں انجام دی جانے والی کارروائی کے حوالے سے قواعد انضباط کار وضع کرنے کے بارے میں ہے۔ مذکورہ بالا آئین پاکستان کے آرٹیکل 19-A کو مدنظر رکھتے ہوئے۔۔۔۔ اسمبلی قواعد کے قواعد 28 اور 283‘ منجملہ طور پر کسی بھی طرح اطلاق پذیر نہیں ہوتے۔وفاقی محتسب نے پلڈاٹ کے موقف کو درست قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی کو ہدایت کی کہ پلڈاٹ کو ارکان قومی اسمبلی کی حاضری کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔قومی اسمبلی نے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف صدر پاکستان کے پاس اپیل دائر کر دی۔صدر پاکستان نے قومی اسمبلی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اسے ہدایت کی کہ ارکان اسمبلی کی حاضری کا ریکارڈ 15 یوم میں فراہم کیا جائے۔