درگاہ حضرت بابا بلھے شاہ ؒ پر افطاری

11 جولائی 2015

اولیاء اللہ کے مزارات عالم اسلام کیلئے عقیدت اور محبت کی آماجگاہ ہوتے ہیں موسم سرد ہو یا گرم عوام اس صورتحال سے بے نیاز ان عقیدت کے مراکز میں اپنی حاضری کو یقینی بنانا اپنے لئے خوش قسمتی تصور کرتے ہیں اور اس جستجو کے حصول کیلئے مسلمان ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہیں بعض تو ایک شہر سے دوسرے شہر جبکہ کئی ایک تو ایک سے دوسرے ممالک میں جانے کو سے بھی گریز نہیں کرتے، برصغیر میں اسلام کے فروغ میں اللہ کے نیک بزرگوں کا بہت تعلق ہے یہاں انکی تبلیغ اور محنت کا نتیجہ ہے کہ یہاں اسلام آج گھر گھر میں موجود ہے حضرت بابا بلھے شاہ قصوری بھی اللہ کے ان نیک بندوں میں شامل ہیں جنہوں نے مخلوق خدا کو درست راستہ دکھایا اور اپنی لازوال تبلیغ اور شاعری سے قیامت تک کیلئے مسلمانوں کے دلوں میں امر ہو گئے‘ قصور شہر میں حضرت بابا بلھے شاہ کا مزار پرانوار لاکھوں زائرین کیلئے عقیدت اور روحانیت کا باعث بن رہا ہے للیانی اڈا سے ریلوے اسٹیشن والی سڑک پر واقع فرنٹ گیٹ پر آنیوالے تمام زائرین، عقیدت مندوں کو پولیس کی فول پروف سکیورٹی انتظامات میں مکمل سکریننگ کے عمل کے بعد واک تھروگیٹ سے اندر بھجوایا جاتا ہے جہاں قصور‘ بیرون شہروں اور ممالک سے روزانہ ہزاروں عقیدت مند اور زائرین حاضری دیکر عقیدت کا ناصرف اظہار کرتے ہیں بلکہ روحانیت کے حصول کیلئے عبادات اور قران مجید کی تلاوت انکے کلام سے بہت سی نوازشات سمیٹ لیتے ہیں حضرت بابا بلھے شاہ کا تعلق ملکوال سے ہے آپ کے والد حضرت سخی محمد شاہ دین اسلام کی تبلیغ کیلئے لاہور میں واقع نواحی پنڈ پانڈوکی میں آباد ہوئے آپ نے آبائی تعلیم ان سے حاصل کی جبکہ اعلی تعلیم کیلئے قصور کے عظیم روحانی شخصیت حضرت حافظ غلام مرتضی قصوری کے پاس آئے جو حضرت خواجہ غلام محی الدین قصوری کے قبرستان میں مدفون ہیں جہاں پر ہیر وارث شاہ کے مصنف حضرت وارث شاہ جیسے عظیم ولی اللہ آپکے کلاس فیلو کے طور پر آپ سرکار کو میسر آئے حضرت بابا بلھے شاہ قصوری نے تعلیم مکمل کرنے کے بعد لاہور کے معروف آرائیں بزرگ حضرت شاہ عنایت قادری کی بیعت کی جس پر آپ کے عزیز رشتہ دار خوش نہ تھے کیونکہ حضرت شاہ عنایت قادری آرائیں اور حضرت بابا بلھے شاہ سید تھے جن کا اظہار آپ کے کلام میںآج بھی موجود ہے کہ
بلھے نوں سمجھاون آئیاں بھیناں تے بھرجائیاں
آل نبی اولاد علی نوں توں کیوں لیکاں لائیاں
من لے کہناں ساڈہ چھڈ دے توں پلہ آرائیاں
جسکے جواب میں حضرت بابا بلھے شاہ فرماتے ہیں
جہڑا سانوں سیدآکھے دوزخ ملن سزائیاں
جہڑا سانوں آرائیں آکھے بہشتی پینگاں پایاں
آپ نے پوری زندگی دین اسلام کی ترقی کیلئے کام کیا اور اپنے آفاقی کلام کے ذریعے وقت کے حکمرانوں اور وڈیروں کو للکارا اور انہیں بتایا کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ہر چیز ختم ہونے والی ہے مگر خدا کی واحدانیت، آقاء کریمؐ کی محبت اور اسلام سے لازاول عقیدت کرکے دنیا اور آخرت میں کامیابی ممکن ہے ان کے مزار پر دن رات عقیدت مندوں اور زائرین کی عقیدت کا سلسلہ آج کئی سو سال بعد بھی جاری ہے، ضلعی انتظامیہ، محکمہ اوقاف کے تحت، امور مذہبیہ کمیٹی، چیئرمین سیٹھ محمد اکرم انصاری کی زیر نگرانی سالانہ عرس مبارک ہر سال اگست کے آخری ہفتہ میںجبکہ بھادروں کی دس، گیارہ، بارہ تاریخ کو انتہائی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے۔
یوں تو سارا سال ہی حضرت بابا بلھے شاہ کے مزار پر زائرین کی آمدورفت صبح شام جاری رہتی ہے لیکن رمضان شریف میں یہ روحانی رونق قابل دید ہوتی ہے۔ عقیدتمند سحری اور افطاری کا بھرپور اہتمام کرتے ہیں اور شام سے قبل مسجد اور درگاہ شریف کے احاطہ میں دستر خوان بچھ جاتے ہیں آجکل آخری عشرہ کے سبب زائرین کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے اور سکیورٹی کے انتظامات بھی نہایت سخت کر دیئے گئے ہیں۔ چیکنگ کے بعد ہی درگاہ شریف میں داخلہ کی اجازت ملتی ہے۔
ڈی سی او قصور عدنان ارشد پولکھ‘ ڈی پی او قصور رائے بابر سعید اور ڈی ایس پی سٹی حسن فاروق سکیورٹی انتظامات کی روز و شب نگرانی کر رہے ہیں۔ درگاہ میں رمضان دستر خوان کا اہتمام کرنے والوں میں مفتی عبداللہ قادری کے صاحبزادے مفتی علی قادری‘ مفتی ارشاد علی قادری‘ سردار فاخر‘ مہر محمد لطیف‘ اکرام اعجاز‘ کاشف علی‘ حاجی ذوالفقار اور دیگر صاحب ثروت اور عقیدتمند شامل ہیں۔ افطاری میں تمام پھل‘ بریانی‘ نان‘ دال‘ سموسے‘ کھجوریں‘ شربت اور دیگر لوازمات شامل ہوتے ہیں اولیاء کرام کی درگاہیں ہمیشہ سے رشد و ہدایت کا ذریعہ رہی ہیں اور یہ سلسلہ تاقیامت جاری و ساری رہے گا۔