ون ڈے سیریز کا امتحان آج سے شروع

11 جولائی 2015
ون ڈے سیریز کا امتحان آج سے شروع

پاکستان کرکٹ ٹیم کا شمار دنیا کی ان چند ٹیموں میں ہوتا ہے جو اچھی اور بری کارکردگی کی انتہا کو چھونے والی ہیں۔ پاکستانی ٹیم نے حالیہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے ایک روزہ میچوں میں ناقص ترین کارکردگی دکھائی تو شائقین کرکٹ کو قومی ہیروز سے سخت مایوسی ہوئی۔ ہر زبان پر ایک ہی جملہ تھا کہ پی سی بی میں ہونے والی سیاست کے اثرات ٹیم پر نمایاں نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پاکستان واحد کرکٹ بورڈ ہو گا جس کو ایک وقت میں دو چیئرمین چلا رہے ہیں۔ چیئرمین شہریار خان کی مفاہمتی پالیسی کی وجہ سے ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی ان سے زیادہ با اختیار ہیں تاہم میڈیا کے سامنے دونوں افراد جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ جب کسی ادارے کا سربراہ جھوٹ بولے گا تو اس کے زیر سایہ کام کرنے والے افراد کو جھوٹ بولنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔ بہرکیف یہ کرکٹ بورڈ کی اندرونی معاملہ ہے۔ جب تک حکومت برسر اقتدار ہے، پی سی بی کے عہدیداران کا ہر کام جائز ہو گا۔ یہ ہاکی تھوڑی ہے کہ فیڈریشن پیسے کے لئے روتی رہے تو اس کی کوئی سنتا نہیں، ٹیم ہارتی ہے تو فوری طور پر حکمرانوں کو ہوش آ جاتا ہے کہ ہماری بے عزتی ہو گئی ہے لہذا کمیٹی بنا کر ذمہ داران کا تعین کیا جائے پاکستان میں عام تاثر یہی ہے کہ کسی معاملے پر پردہ ڈالنا ہو تو اس کے لئے کمیٹی بنا دی جاتی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے بنگلہ دیش کے ہاتھوں ون ڈے سیریز میں تاریخ کی بدترین شکست کھائی تو اس پر نہ تو کوئی تحقیقاتی کمیٹی بنی اور نہ ہی بورڈ کے کسی آفیشل نے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر حکومت نے فوری تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ہے۔ قوی امکان ہے کہ شاید کسی ایک آدھ عہدیدار کی چھٹی کا پروانہ تھما دیا جائے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کے خلاف 9 سال بعد اس کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیتی ہے جس کا تمام کریڈٹ صوابی سے تعلق رکھنے والے نوجوان سپن بائولر یاسر شاہ کو جاتا ہے۔ جنہوں نے تین میچوں میں 24 سری لنکن کھلاڑیوں کا شکار کیا۔ یاسر شاہ نے اپنی شاندار کارکردگی سے سعید اجمل کا خلا پُر کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے جس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہیں اس سیریز میں یہ بھی اعزاز حاصل ہوا ہے کہ وہ 9 ٹیسٹ میچوں میں وکٹوں کی نصف سنچری کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ جبکہ وقار یونس نے یہ اعزاز 10 ٹیسٹ میچوں میں حاصل کر رکھا تھا۔ نوجوان سپن بائولر کو نظر نہ لگے جس طرح وہ کارکردگی دکھا رہے ہیں شین وارن اور مرلی دھرن کے ریکارڈ توڑ سکتے ہیں۔ ٹیسٹ سیریز میں کامیابی پر یونس خان کے کردار کو بھی کسی طریقے سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے بیٹ کے ذریعے کئی ریکارڈ اپنے نام کر لئے ہیں۔ سری لنکا کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی 5 اننگز میں انہوں نے ایک سنچری کی ساتھ سب سے زیادہ 267 رنز سکور کئے ان کے علاوہ شان مسعود، اسد شفیق اور اظہر علی نے سنچریاں سکور کر کے بیٹنگ میں قدرے کارکردگی دکھانے کی کوشش کی ہے۔ شان مسعود کو ایم حفیظ کی جگہ تیسرے ٹیسٹ میں موقع دیا گیا تھا۔ انہوں نے یونس خان کے ساتھ مل کر تیسری وکٹ کی شراکٹ میں پارٹنرشپ کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ شان مسعود نے اپنی کارکردگی سے احمد شہزاد کی ٹیسٹ ٹیم میں شمولیت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سلیکشن کمیٹی کو چاہئے کہ شان مسعود کو ایم حفیظ کے ساتھ مستقل بنیادوں پر ٹیسٹ میچوں میں بطور اوپنر شامل کر کے اعتماد بحال کیا جائے۔ ایم حفیظ نے رپورٹ ہونے والے بائولنگ ایکشن کا ٹیسٹ دے دیا ہے۔ حفیظ پرامید ہیں کہ وہ یہ ٹیسٹ پاس کر لیں گے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ حفیظ اپنا ٹیسٹ پاس کر لیں اور وہ مستقل بنیادوں پر قومی ٹیم کا حصہ ہوں۔ شعیب ملک ان کی جگہ لینے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں سری لنکا کے خلاف سیریز ان کا امتحان ہو گا اگر ملک اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو کرکٹ بورڈ اور سلیکشن کمیٹی ان پرمزید وقت ضائع کرنے کی بجائے کسی نوجوان کھلاڑی پر محنت کریں تو انہیں جلد رزلٹ ملنا شروع ہو جائے گا۔ چلے ہوئے کارتوسوں پر اکتفا نہ کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ ٹیسٹ سیریز میں وکٹ کیپر سرفراز احمد کی کارکردگی کی تعریف نہ کی جائے تو زیادتی ہو گی۔ انہوں نے 2 نصف سنچریاں سکور کیں اور پاکستان ٹیم کے لئے 204 قیمتی رنز سکور کئے۔ جیسے جیسے ان کو کھلایا جا رہا ہے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وکٹوں کے پیچھے انہوں نے کچھ غلطیاں ضرور کی ہیں۔ امید ہے کہ وہ محنت کے ذریعے ان پر قابو پانے کی کوشش کریں گے۔ اظہر علی نے ایک سنچری اور نصف سنچری کی مدد سے 208 رنز سکور کئے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔ ٹیسٹ سیریز میں جس طرح یونس خان مرد بحران ثابت ہوئے ہیں سلیکشن کمیٹی کو انہیں سری لنکا کے خلاف اہم ون ڈے سیریز میں بھی شامل کیا جانا چاہئے تھا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے ان کا ون ڈے کیرئر ختم کر دیا ہے۔ یونس خان کو جاوید میانداد کا 8 ہزار 832 رنز کا ریکارڈ توڑنے کے لئے مزید 18 رنز کی ضرورت ہے۔ اگلی سیریز میں وہ اس سنگ میل کو عبور کر لیں گے۔ 22 سال بعد وہ پاکستان کے دوسرے کھلاڑی ہو گے جو یہ کارنامہ انجام دیں گے۔ نو سال بعد پاکستان ٹیم نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کامیابی حاصل کی جس پر کپتان مصباح الحق سمیت تمام کھلاڑی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کے سنٹرل کنٹریکٹ میں یہ بات واضح کر رکھی ہے کہ انہیں میچز نہیں سیریز جیتنے پر بونس ملا کرئے گا۔ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کامیاب کپتان مصباح الحق ویسٹ انڈیز میں جاری کریبین لیگ کھیلنے کے لئے چلے گئے ہیں جبکہ جنید خان انگلینڈ میں کاونٹی کرکٹ کھیلنے کے لیے چلے گئے ہیں۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پانچ ایک روزہ میچوں کی یریز کا آغازکل سے دمبولا میں ہونے جا رہا ہے۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ تک رسائی کے لئے پاکستان ٹیم کو سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز اچھے مارجن سے جیتنی ہو گی اس کیلئے پوری ٹیم کو کھیل کے تینوں شعبوں میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ قومی ٹیم کے کپتان اظہر علی کا یہ امتحان ہے کیونکہ اس سے قبل بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں وہ بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 143 ایک روزہ انٹرنیشنل میچز کھیلے جا چکے ہیں۔ جن میں سے 81 میں پاکستان اور 56 میں سری لنکن ٹیم کامیاب ہو چکی ہے۔ ایک میچ ٹائی جبکہ چار میچ بے نتیجہ رہے ہیں۔