چوبیسواں پارہ/ تلخیص

11 جولائی 2015

مولانا امیر حمزہ
چوبیس ویں پارے کے آغاز میں ہی اللہ تعالیٰ مشرکین مکہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان لوگوں سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو خالص سچائی کو جھٹلا رہے ہیں۔ پھر اپنے پیارے نبیؐ کی تعریف کی جو سچائی لے کر آئے اور ساتھ ان لوگوں کو بھی خراج تحسین پیس کیا جو اس سچائی یعنی اسلام کی تصدیق کر رہے ہیں۔ یہ صحابہ ہیں ان کو خوشخبری دے دی گئی کہ وہ اپنے اس کردار کی وجہ سے اپنے رب کریم سے جو چاہیں گے حاصل کریں گے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبیؐ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ ذرا ان جھٹلانے والوں سے پوچھو تو سہی کہ اس ساری کائنات کو کس نے پیدا فرمایا۔ کہیںگے یہی کہ اللہ ہی نے پیدا فرمایا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سورۃ زُمر کی آیت نمبر 45 میں بتلاتے ہیں کہ اس حقیقت کے تسلیم کرنے کے باوجود طرز عمل ان کا یہ ہے کہ جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے ان لوگوں کے دلوں میں تنگی اور نفرت پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے اور جب اللہ کے سوا دوسرے (معبودوں اور دیوی دیوتائوں) کا ذکر ہوتا ہے تب بڑے خوش ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے اس مکروہ قابل نفرین رویے کے باوجد اللہ تعالیٰ جو رحمان اور رحیم ہیں آیت نمبر 53 میں اپنے پیارے نبیؐ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں۔ میرے پیارے رسولؐ! میرے ان بندوں کو جنہوں نے (ایسے رویے اور نظریات اختیار کرکے) اپنے آپ پر زیادتی کی ہے ان کو بتلا دو وہ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہوں۔ (تجھ کو نبی مان لیں، مجھ پر خالص ایمان لے آئیں) اللہ ان لوگوں کے سارے گناہ معاف فرما دے گا۔ وہ اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔
اس کے بعد آیت نمبر 67 سے لیکر آخر تک اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے کردار پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فرمایا۔ ان لوگوں نے اللہ کی قدر بھی نہیں کی جس طرح قدر کرنے کا حق ہے حالانکہ (وہ اس قدر عظیم ذات ہے) کہ قیامت کے دن ساری زمین اس کی مٹھی میں ہو گی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ اب یہ جن لوگوں کو اللہ کا شریک بنائے پھرتے ہیں ایسی قوت والی عظیم ذات اس شرک سے انتہائی پاک اور بلند ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت کے اس دن جب صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین کی تمام مخلوق مر کر گر جائے گی پھر صور میں دوسری بار پھونکا جائے گا تو یہ سارے کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں گے۔ (نئی زمین) اپنے رب کی روشنی کے ساتھ چمک اٹھے گی۔ خصوصی کتاب رکھ دی جائے گی۔ نبیوں اور گواہوں کو یہاں لایا جائے گا۔ (یہ جھوٹ بولیں گے تو نبیوں اور دعوت دینے والے گواہوں کی موجودگی میں ان کے جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا جائے گا)۔ ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا۔ انکار کرنے والوں کو ’زمراً‘‘ یعنی گروہ در گروہ جہنم کی طرف ہنکادیا جائے گا اس کے برعکس جب ایمان والوں کو گروہ در گروہ جنت کی طرف لایا جائے گا۔ جنت کے پاس پہنچتے ہی دروازے کھل جائیں گے۔ جنت کے نگران فرشتے سلام پیش کریں گے مبارکباد دیں گے۔ اہل جنت اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کریں گے اور کہیں گے اللہ نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا سچ کر دیا۔ ہمیں جنت کی زمین کا وارث بنا دیا۔ میرے پیارے نبی آپ فرشتوں کو دیکھیں گے کہ وہ عرش کے گرد گھیرا ڈالے ہوئے اپنے رب کی حمد کے ساتھ پاکیزگی بیان کر رہے ہوں گے۔
قارئین کرام! اللہ کا عرش جسے اللہ اور اس کے رسولؐ نے عظیم بھی کہا اور کریم بھی قرار دیا۔ وہ اس قدر عظیم ہے کہ اس کے مقابلے میں سات آسمان اور سات زمینیں اسی طرح معلوم ہوتی ہیں جیسے سات سمندروں میں پانی کے سات قطرے ہوں۔ ہم نے یہ بات اس لیے کی ہے کہ ابودائود میں اللہ کے رسولؐ کی ایک حدیث ہے جیسے شیخ البانی نے صحیح کہا ہے کہ عرش کو اٹھانے والے ایک فرشتے کی جسامت کا یہ حال ہے کہ اس کے کان کی لَو سے گردن تک کا فاصلہ سات سو سال کی مسافت ہے۔ یعنی اگر ایک انسان 20سال کی جوان عمر میں چلنا شروع کر دے اور سات سو سال تک پیدل چلتا رہے تو تب وہ گردن تک پہنچے گا۔ اگر گھوڑے پر سوار ہو کر چلے تو سات سو سال تک پہنچے گا۔ اگر بلٹ ٹرین پر چلے تو سات سو سال میں پہنچے گا۔ یہ تو ہو گئی انسان کے حوالے سے مسافت…ہاں! اگر انسان نوری سال کی مسافت سے چلے تو یہ بھی مادی مسافت ہے۔ اس مسافت کے اعتبار سے فرشتے کی جسامت محض کان کی لَو سے گردن تک لاکھوں کروڑوں زمینوں کے برابر ببن جاتی ہے…لیکن اگر یہ مسافت فرشتوں کی رفتار سے ہو تو نہ جانے اتنا سا فاصلہ اربوں کھربوں زمینوں کے برابر ہو جائے گا… اور پھر فرشتے کی باقی جسامت کس قدر ہو گی؟ اللہ بھی بہتر جانتا ہے۔ الغرض! عرش اٹھانے والے ایسے فرشتے اور دیگر اربوں کھربوں اور لاتعداد فرشتے اللہ کے عرش کے گرد موجود ہیں تو وہ پھر بھی قرآن کی دی ہوئی خبر کے مطابق عرش کی معمولی جگہ ہی کو گھیر پاتے ہیں… سبحان اللہ! یہ عرش میرے خالق اور رب رحمان کی مخلوق ہے۔ اس عظیم اور کریم عرش کا خالق کس قدر عظیم ہو گا کس قدر کریم ہو گا کس قدر طاقت والا ہے کس قدر قوت والا ہو گا۔ بس ہم تو سبحان اللہ ہی کہتے ہیں۔ 24 ویں پارے کی اگلی سورۃ ’’المومن‘‘ ہے اس کی آیت نمبر 7 میں عرش اٹھانے والے اور عرش کے گرد فرشتوں کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کریم کی تعریف کے ساتھ پاکیزگی بیان کرتے ہیں اور مومنوں کے لیے اللہ سے بخشش بھی مانگتے ہیں اور ساتھ درخواست بھی کرتے ہیں کہ اے اللہ! ان مومنوں کو جنت میں داخل کر دے وہ جنت کہ جس کا آپ نے ان سے وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے نیک آبائو اجداد، ان کی بیویاں اور ان کی اولادوں کو بھی جنت عطا فرمائے۔
قارئین کرام! اللہ تعالیٰ نے اگلے جہاں کے حقائق کا انکشاف فرمایا اور جنب کا تذکرہ فرمایا… اس کے بعد آیت نمبر 81 میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دنیا میں بھی اپنی نعمتوں سے آگاہ فرمایا کہ ’’وہ اللہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے چار ٹانگوں والے جانور بنائے ان میں سے ایک وہ ہیں جن پر تم سواری کرتے ہو اور وہ بھی ہیں جن کو کھاتے ہو پھر ان جانوروں میں تمہارے لیے فائدے بھی بہت سارے ہیں کہ (ان کی کھالیں، اون اور دانت وغیرہ کام آتے ہیں)، ان پر سوار ہو کر اس ضرورت تک بھی رسائی حاصل کرو جو سینوں میں ہے۔ہاں! ان پر اور کشتیوں پر تم سوار کیے جاتے ہو۔
یاد رہے ! سینوں میں ایک ضرودرت تو وہ ہے کہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں مسافر چلا گیا اس کا مفسرین نے تذکرہ کیا ہے یہ بھی ٹھیک ہے لیکن میں نے اللہ سے مدد مانگ کر اس آیت پر بہت غور کیا تو قرآن کی آیت زبان حاگل سے بدل بدل کر مجھے بتلا رہی تھی کہ سینے کی ضرورت ہوائی جہاز اور خلائی شٹل بھی ہے۔ انسان نے جب سے پرندے کو فضا میں اڑتے دیکھا ہے اس کے دل میں خواہش مچلی ہے کہ میں بھی فضا میں پرواز کروں۔ گھوڑے پر سوار جب وہ لمبے سفر کرتا ہے تو اس کے دل میں ضرورت کا احساس ہوتا ہے کہ اگر اس کی سواری ایسی ہو جو ہوا میں اڑان بھرے تو سفر کتنا ہی کم اور باسہولت ہو جائے۔ یہ سینے میں مچلنے والی ضرورت ہے اور اللہ نے اسی کو ’’حاجۃً فی صدورکم‘‘ کہا ہے۔ میں نے مزید غور کیا تو اللہ نے جب چوپائوں پر سواری کا تذکرہ کیا تو ’’مِنْھا‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا کہ ان میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو۔ ان کے گوشت کھانے کا تذکرہ کیا تو پھر بھی ’’مِنْھا‘‘ کا لفظ استعمال کیا کہ ان میں سے بعض کا گوشت کھاتے ہو اور جب چوپائوں میں فائدے کی بات کی ہے تو ’’فِیْھا‘‘ کا لفظ استعمال فرمایا یعنی چوپائیوں میں دانت، ہڈیاں اور دیگر بہت ساری چیزیں قابل استعمال ہیں اور فائدہ مند ہیں پھر جب سینے کی ضرورت کا ذکر فرمایا تو ’’عَلَیْھَا‘‘ کا لفظ استعمال کیا یعنی گھوڑے وغیرہ پر سوار ہو کر سینے کی ضرورت تک پہنچو یعنی رسائی حاصل کرو تحقیق اور محنت کرو، سائنسی ترقی حاصل کرو اور ایسی سواری بنائو جو تمہارے سینے میں مچل رہی ہے اور یہ ہوائی جہاز ہے… پھر فرمایا ’’وَعَلَیْھَا‘‘ اس پر بھی اور کشتی پر بھر تم سوار کیے جاتے ہو۔ ’’تَحْمَلُوْنَ‘‘ کا لفظ ’’مضارع‘‘ ہے۔ اس میں حال اور مستقبل کے معانی ہوتے ہیں۔ سوار کیے جاتے ہو۔ یہ تو ہو گیا زمانہ حال جبکہ مستقبل بھی مراد ہے کہ تم سوار کیے جائو گے۔ چنانچہ آج اللہ نے ہوائی جہاز اودر بحری جہاروں پر بھی سوار کر دیا تو اس آیت میں اللہ نے زمینی سواری، فضائی سوائری اور سمندری سواری سب کا ذکر فرمادیا… قربان جائوں قرآن کے اعجاز پر کہ اگلی ہی آیت میں مزید فرمایا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نشانیاں دکھلاتا ہے۔ تم کس کس اللہ کی نشانی کا انکار کرو گے؟ جی ہاں! اللہ اپنے بندے کو باخبر کرتے ہیں کہ تجھے سوار کرایا جاتا ہے یعنی تو اس قابل کہاں کہ گھوڑے اونٹ یا بلٹ ٹرین پر سواری کرے۔ ہوائی جہاز یا خلائی گاڑی میں سوار ہو جائے۔ کشتی یا سمندری جہاز پر سوار ہو جائے۔ یہ تو اللہ کے طبعی قوانین ہیں کہ جن کی بنیاد پر سب سواریاں بحرو بر اور خشکی میں چلتی، تیرتی اور اڑتی ہیں وگرنہ اسے پانی کے قطرے کی بوند… تو اس قابل کہاں؟
اگلی سورۃ ’’حم السجدہ‘‘ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ ان مومنوں کی تعریف کرتے ہیں کہ جنہوں نے عقیدے کی بنیاد پر کہہ دیا کہ بھئی! ہمارا پالنہار تو صرف اللہ ہی ہے۔
اللہ تعالیٰ آیت نمبر 30 میں ایسے لوگوںکی شان بیان کرتے ہیں کہ مشکلات میں ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں، جوان کے دلوں میں یہ بات ڈال دیتے ہیں کہ ڈرنا نہیں اور نہ ہی غمگین ہونا ہے تم لوگ جنت کے ساتھ خوش ہو جائو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم دنیا اور آخرت کی زندگی میں تمہارے دوست ہیں جنت میں تم لوگوں کو ہر وہ چیز ملے گی جس کی خواہش تمہارا دل کرے گا اور جو مانگو گے ملے گا۔ (ذرات صور تو کرو) انتہائی بخشنے والے بے حد مہربان مولا کریم کی مہمان نوازی ہے۔ (اب خود بھی غور کر لو شہنشاہ کائنات کی مہمان نوازی کیسی لازوال، بے حساب اور لاجواب ہو گی؟)
قارئین کریم! آئیے…دنیا کوہاتھ کی ہتھیلی تک محدود رکھیں اور اپنے اللہ اور اس کے رسول اور جنت کو دل میں رکھیں۔ فرشتوں سے ملاقات کو دل میں رکھیں۔