سچے مومن کی شان اور پہچان

11 جولائی 2015

رمضان المبارک کو خدا نے ایسی خصوصیت عطا فرمائی جو کسی دوسرے مہینے کے حصہ میں نہیں آئی۔ رسول اکرمؐ نے فرمایا ’’جس نے حالت ایمان اور طلب ثواب کی خاطر رمضان کے روزے رکھے اس کے پہلے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے‘‘۔
اسی طرح اس بابرکت ماہ میں جنت و رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ ماہ رمضان المبارک کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ جنت ماہ شوال سے لے کر رمضان تک مزین کی جاتی اور سنواری جاتی ہے اور جو لوگ روزے رکھتے ہیں انہیں وہ جنت عطا کردی جاتی ہے۔ رمضان ہی میں ہر رات گناہ گاروں کو بخشش کے لئے اور پرہیزگاروں کو عبادت و ریاضت میں مزید رغبت کے لئے خدا کی طرف سے صدا ندا دی جاتی ہے ،سیدنا ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا،( ترجمہ ) ’’جب ماہ رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو قید کردیا جاتا ہے۔ اور آگ (جہنم) کے درو ازے بند کردئیے جاتے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور ایک آواز دینے والا کہتا ہے کہ اے بھلائی چاہنے والے جلدی آجا اور اے برائی کے طالب رک جا اور اللہ کے لئے کچھ لوگ آگ سے آزاد کئے جاتے ہیں اور رمضان المبارک کی ہر رات اسی طرح ہوتا رہتا ہے۔ (بلاشبہ اس ماہ کی برکتوں، سعادتوں، رحمتوں اور بخششوں سے محروم رہنے والے بڑے بدقسمت اور حرماں نصیب ہوتے ہیں۔اس ماہ مبارک میں بھی ہماری پاک افواج شمالی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب کے ذریعے دہشت گردوں کے خاتمہ کے لئے کارروائیاں کر رہی ہے اور امن دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچا رہی ہے۔
دنیا کے تمام مذاہب میں اسلام ایک ایسا منفرد اور حقیقت سے قریب تر مذہب ہے جس کے بارے میں کسی بھی قسم کا ابہام نہ تو موجود ہے اور نہ ہی کبھی موجود تھا اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دین اسلام خود اللہ تعالیٰ کا پسند کردہ دین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے انسانوں کے واسطے نجات و فلاح کا ذریعہ فرمایا ہمارے اس دین حق کی افضلیت کا باعث تمام جہانوں کے لئے رحمت رسولاکرم محمدؐ کی ذات اقدس ہے اللہ کریم نے سب سے افضل دین کے احیا کے لئے سب سے افضل انسان کو پسند فرمایا۔ اس دین حقیقت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لئے سب سے افضل کتاب قرآن مجید ضابطہ حیات کے طور پر نازل فرمائی جوکہ خدائے برتر کی واحدانیت اور حاکمیت اعلیٰ کا برملا اعلان کرتی ہے اور انسان اور خدانیز انسان اور انسان کے مابین تعلق کی ایک اجمالی صورت بھی پیش کرتی ہے اس کتاب مبین کا دوسرا پہلو حضورؐ کی ذات مبارکہ سے وابستہ ہے آپ اس کتاب مبارکہ میں موجود تمام احکام اور فرمودات پر اپنی امت کو خود عمل کر کے دکھایا تاکہ کسی بھی معاملے میں کسی بھی قسم کے شک یا ابہام کی گنجائش ہی نہ رہے اور امت کو ایک مناسب معتدل اور محفوظ حیات میسر آجائے حضورؐ نے اپنی تعلیمات میں کسی بھی جگہ پر کسی خاص فرقے یا شخص کا حوالہ نہیں دیا بلکہ اپنی تعلیمات کا دائرہ تمام انسانیت کے لئے وسیع تر فرماتے گئے حضورؐ کا آخری خطبہ حج اس امر کی مسلمہ دلیل ہے جس میں آپؐ نے اس دین کو دنیا تک اس کی تمام جزئیات سمیت پہنچا دینے کی نوید دی اور اس دین پر عمل تمام عالم کے لئے باعث نجات فرمایا۔
آج جب ہم بحیثیت مسلمان اورخصوصاً پاکستانی مسلمان اپنے اردگرد نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں اسلام کی بنیاد تعلیم اخوت و بھائی چارہ ایک جنس نا پید نظر آتی ہے اس صورت حال کو پیدا کرنے میں فرقہ واریت کے عفریت کا بہت بڑا عمل دخل ہے ۔ پاکستان کم تعلیم یافتہ لوگوں کا ملک ہے اور کم تعلیم یافتہ لوگ بے وقوف تو ہرگز نہیں ہوتے مگر معصوم بہت ہوتے ہیں چنانچہ ان لوگوں کی معصومیت کو اذیت پسند اور منتشر ذہن کے مکار لوگ بہت آسانی سے استعمال کر لیتے ہیں اور جب تک ان معصوم لوگوں کو صورت حال مکمل طور سمجھ آتی ہے اس وقت تک حالات کا پھندہ ان کے گلے پر اپنی گرفت مضبوط کر چکا ہوتا ہے اور اس سے نجات کی صورت ممکن نہیں رہتی۔
آج کل ہمارے ملک پاکستان کے عوام کچھ ایسی ہی صورت حال کا شکار ہیں فرقہ واریت کا ناگ اپنا پورا پھن پھلائے لہرا رہا ہے۔ اور اس کا سر کچلنے کی کوئی تدبیر کار گر ہوتی نظر نہیں آتی فرقہ پرستی کی اس آگ میں مکان سے لے کر مسجد تک کا تقدس جل کر خاک ہو رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تمام صورت کے ذمہ داران حالت سے کس قسم کا مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ ہم سب مسلمان بھائی ہیں ہماری بنیادی تعلیم عقائد اور ضوابط کا سرچشمہ بھی ایک یعنی قرآن پاک ہے۔ ذات باری کی یکتانیت اور واحدانیت کے ہم سب مسلمان بھائی بلا تفریق ذات رنگ و فرقہ نہ صرف داعی ہیں بلکہ دیوانے اور شیدائی بھی ہیں اسی طرح نبی آخرؐ کی ذات اعلیٰ وارفع ہر مسلمان کے لئے ایک مشعل راہ ہے ہم تمام مسلمان ہر وقت اپنے جان و مال اولاد اس ذات مبارک پر قربان کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں کہ یہی ایک سچے اور مومن مسلمان کی شان اور پہچان ہے اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ کوئی بھی مسلمان خواہ وہ عالم ہو جاہل ان بنیادی باتوں سے نعوذ باللہ منکر تو کیا منکر ہونے کا سوچ بھی سکے ،بے شک خدا رسولؐ اور قرآن کے بارے میں تمام مسلمان متفقہ طور یہی ایک رائے رکھتے ہیں یہ حقیقتاً خوش قسمتی اور فلاح کا پہلو ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اپنے مسائل کے حل کے لئے ان متذکرہ بالا ہستیوں کے احکامات اور فرمودات سے استفادہ کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے بلکہ اس معاملے میں ہم نے اپنی باگ دوڑ غیر متعلقہ افراد جن کا ہمارے معاملات کے الجھائو سے کوئی تعلق ہی نہیں ان کے ہاتھ میں دے رکھی ہے۔ ہمارے ملک کے جید علماء اور اکابرین کو قرآن و سنت رسولؐ مشعل راہ بناتے ہوئے ان مسائل کا حل تلاش کرنا چاہئے بحیثیت مسلمان میرا یہ ایمان ہے کہ دنیا کا کوئی ایسا مسئلہ ہو نہیں سکتا جس کا حل قرآن و سنت کے وسیع و عریض دامن میں موجود نہ ہو شرط صرف اور صرف یہ ہیکہ اس کام کو نیت اور ایمانداری سے انسانیت اور انسانی فلاح کے خیال سے کیا جائے۔ حضورؐ نے اپنے آخری خطبہ میں خصوصاً عالم اسلام کو ایک مکمل ضابطہ حیات عطا فرما دیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہم اس ہستی کے چاہنے والے ہو کر بھی فیض دو عالم سے محروم ہوتے جا رہے ہیں یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اس پر ہمیں بحیثیت فرد بھی غور کرنا ہوگا اور بحوالہ قوم بھی سوچنا ہوگا۔ حکومت اور مذہبی راہنمائوں کا یہ فرض ہے کہ وہ فرقہ واریت کے ناسور جس نے پاکستان اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ انسانیت کے نام پر ظلم کرنے والوں نے اسلام کے چہرے کو مسخ کرکے دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ دشمن قوتیں مختلف انداز میں تخریب کاری کر کے وطن عزیز کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتی ہیں اور ہمیں اتحاد کا عملی مظاہرہ کرکے فرقہ واریت سے دور رہتے ہوئے اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہوگا اور اس میں حکومت، مذہبی، رہنمائوں کے سامنے ہم سب کو افہام و تفہیم کی فضا میں رہتے ہوئے اسکا حل تلاش کرنا ہو گا تاکہ وطن عزیز ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔