حافظ آباد میں رمضان

11 جولائی 2015

جس ملک میں ارکان پارلیمنٹ تک جعلی ڈگریاں بنوا لیتے ہوں، زندگی بچانے والی ادویات جعلی ہونے کی وجہ سے لوگ موت کی وادی میں اتر جاتے ہوں، ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش بے دھڑک بازاروں میںسرعام فروخت ہوتی ہوں اور غربت کے باعث مائیں بچوں سمیت اجتماعی خودکشیاں کر لیتی ہوں وہاں آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبہ میں مہنگائی کے مارے غریب عوام کو رمضان المبارک کے دوران ریلیف فراہم کرنے کے لئے ’’سستے رمضان بازار‘‘ اور’’ ماڈل بازار‘‘ قائم کرنا بلا شبہ قابل ستائش اقدامات ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 36اضلاع میں 331سستے رمضان بازاروں اور ماڈل بازاروں میں سستی اور معیاری روزمرہ کے استعمال کی اشیاء پر اربوں روپے کے تاریخٰی رمضان پیکج دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ رمضان بازاروں میں 10کلو آٹے کا تھیلا310روپے ، چینی فی کلو 52روپے میں دستیاب ہوگی،معیاری سبزیاں، دالیں، گھی، پھل اور دیگر اشیائے ضروریہ مارکیٹ سے سستے داموں یہاں فراہم کیئے جائیںگے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ حکومت رمضان بازاروں کے ساتھ عام بازاروں اور مارکیٹوں میں بھی اشیائے ضروریہ کے معیار اور سستے داموں کو یقینی بنائے گی ۔
وزیراعلیٰ کی ہدایت پر دیگر شہروں کی طرح ضلع حافظ آباد میں بھی ضلعی انتظامیہ نے سستا رمضان بازار قائم کرتے ہوئے ایک ہی سائبان تلے عوام کو سستی اور معیاری اشیاء فراہم کرنے کے لئے اقدامات کیئے اور عوام کو سبسڈی کے تحت سستی اشیاء کی فراہمی کے لئے گرین چینل، فئیر پرائس شاپ قائم کی ۔ پھلوں، سبزیوں ، مشروبات ،آٹے ‘کریانہ اور گوشت کے سٹالز لگوائے۔یہاں فی کلو چینی 52روپے میں ہی فراہم کی جارہی ہے۔ تاہم ہرخریدار کو صرف ایک کلو کا پیکٹ ہی دیا جا رہا ہے۔لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے کے بعد شہریوں کو صرف ایک کلو چینی کی فراہمی کو غریب عوام سے مذاق ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
رمضان بازار میں دالیں، سبزیاں، گوشت، آٹا اور دیگر اشیاء کی وافر مقدار میں دستیابی کے ساتھ معیاری ہونے کا دعویٰ بھی کیا جا رہاہے۔ بعض ذرائع کے مطابق رمضان بازار میں لگائے گئے متعدد پرائیویٹ سٹالز پر دالیں ، مرچ اور بعض دیگر اشیاء غیر معیاری ہیں۔اور دوسری طرف اوپن بازار میں دکاندار اشیاء کی مقررہ نرخوں سے کئی گنا زائد قیمت وصول کر رہے ہیں۔
صورتحال کچھ یوں ہے کہ یکم رمضان المبارک کو اوپن مارکیٹ میںفی کلو چینی 60روپے، دال چنا 85روپے، چنے سیاہ82روپے ، بیسن 88 روپے میں فروخت ہو رہے تھے لیکن 16رمضان المبارک کو مذکورہ اشیاء کی قیمتوں کو آگ لگ گئی اور چینی 64روپے، دال چنا 96، چنے سیاہ 92 اوربیسن 104روپے فی کلو تک پہنچ گیا۔حالانکہ وزیراعلیٰ پنجاب نے دعویٰ کیا تھا کہ رمضان بازار کے ساتھ اوپن مارکیٹ میں بھی اشیاء کی قیمتیں کنٹرول میں رکھی جائیں گی۔ مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ شوگر مافیا نے رمضان بازاروں میں 52روپے فی کلو کے حساب سے چند ٹرک چینی فراہم کر کے دوسری طرف اوپن مارکیٹ میں مہنگائی کا طوفان بپا کر دیا۔چکن، ٹماٹر بھی اس دوران 20سے 50فیصد تک مہنگے ہوئے۔اوپن مارکیٹ میں چینی کی بے لگام قیمت کے باعث شہری جب سستے بازار کا رخ کرتے ہیں تو وہاں کا احوال اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔
ٹی ایم اے حافظ آباد کی جانب سے رمضان بازار کے لئے تعینات فوکل پرسن اکرام اللہ سندھو نے رابطہ کرنے پرنوائے وقت کو بتایا کہ رمضان بازار میں اشیاء کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔ ابتداء میں کچھ ’’مسائل ‘‘ درپیش تھے اور عوامی شکایات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ذمہ داران کو جرمانے کئے گئے۔لیکن اب معاملات ٹھیک ہیں۔چیک اینڈ بیلنس اور دیگر امور کے سلسلہ میں 4مجسٹریٹس روزانہ کی بنیاد پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ اوپن مارکیٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ قیمتوں کے معاملہ پر متعدد دکانداروں کو ہزاروں روپے جرمانہ کرنے کے ساتھ 4ملزمان کو حوالات بھی بھجوایا گیا۔
عوام کی سہولت کے لئے رمضان بازار میں سستی اشیاء کی فراہمی اور شدید گرمی کے دوران جدید فرشی پنکھے، سامان اٹھانے کے لئے کیرئیر اور صاف ستھرا ماحول اطمینان بخش اقدامات ہیں تاہم ضلعی انتظامیہ کو اوپن مارکیٹ میں ہونیوالی لوٹ مار پر بھی قابو پانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرنا ہوگی۔رمضان بازار میں مرچ اور مختلف دالوں کا معیار بہتر بنانا ہوگا۔وزیر اعلیٰ پنجاب بھی گرانفروشی کا نوٹس لے کر غریب عوام کی عیدالفطرکی خوشیاں بے رونق ہونے سے بچائیں۔ ورنہ گڈ گوررننس کا دعویٰ محض بیانات تک ہی محدود تصور کیا جائیگا۔