ون ویلنگ : خطرناک شوق

11 جولائی 2015

نمرہ انعم سرور (جناح کالج چونا منڈی، لاہور)
سڑکوں پر برپا طوفان بدتمیزی ہمارے معاشرے کا ایک روگ بنتا جا رہا ہے بلکہ یہ ہمارا مشترکہ دکھ ہے جسے کنٹرول کرنے کے لیے ہمیں مل کر کوشش کرنی ہو گی ہمارے رویوں کی وجہ سے بہت سی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ ہم زندہ قوم ہیں یا بے حس، ہمیں اپنے رویے بدلنے کی ضرورت ہے۔ ون ویلنگ کرنے والے سڑکوں پر موت کا کھیل پوری آزادی کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ کئی بار ایسے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جس کو دیکھ کر خوف سے آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔ ون ویلنگ کرنے کی وجہ سے کئی گھرانے تباہ ہوئے۔ کئی مائوں کی اکلوتی اولادیں حادثوں کا شکار ہو کر اپنی مائوں کو زندگی بھر کا روگ اور اپنے باپ کا سہارا ہمیشہ کے لیے کھو دیتے ہیں۔ اپنی بہنوں کو زندگی بھر کا انتظار دے جاتے ہیں۔
اپنی آغوش میں ماں چھپا لو مجھ کو
مجھ روٹھے کو منانا بہت یاد آتا ہے
ون ویلنگ ایک شوق نہیں ایک ذہنی مرض ہے نوجوانوں میں ون ویلنگ کا رجحان 80 کی دہائی کے بعد شروع ہوا اور دیکھتے دیکھتے اتنا بے قابو ہو گیا کہ ہر روز ان حادثات کی وجہ سے اموات کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ون ویلنگ کے بھرنے کی اہم وجہ غیر قانونی طور پر رینٹ اے بائیک کے کاروبار کا گلی / محلوں میں شروع ہوتا ہے جس کی وجہ سے ون ویلنگ کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا کیونکہ لوگوں بالخصوص نوجوانوںکو کم قیمت پر ایسی سواری میسر آ گئی جس کے ذریعے وہ اپنے شوق کو پورا کر سکیں۔ ون ویلر نوجوان پہلے کھلی سڑکوں پر اپنا شوق پورا کرتے لیکن پھر محلوں اور گلی سڑکوں پر ون ویلنگ کرتے نظر آنے لگے۔ رینٹ اے بائیک کا کاروبار کرنے والوں نے نو عمر بچوں کو وہ آزادی دی جس کی ابھی عمر کے لحاظ سے اجازت نہ تھی۔ ون ویلنگ کرنے والے زیادہ تر بیس سال سے کم عمر کے ہوتے ہیں جن کو ابھی یہ شعور بھی نہیں ہوتا کہ وہ اپنی بے وقت کی آزادی سے والدین کو کتنا دکھ پہنچا رہے ہیں اور اپنے ساتھ ساتھ کئی معصوم شہریوں کی زندگیوںن کو بھی دائو پر لگائے ہوتے ہیں۔ سائیکل اور موٹر سائیکل سے ترقی کرکے کچھ موت کے سوداگر اپنی امارات کا رعب گاڑیوں پر مختلف طرح کے کرتب اور ہنر کرکے جمانے کی کوشش کرتے ہیں اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی برائی جس سے معاشرے کے بہت سے افراد اپنی قیمتی جانوں کو کھو دیتے ہیں اور بعض اوقات تو معذوری کی وجہ سے زندگی بھر کا روگلگا لیتے ہیں اس کی روک تھام کس طرح ممکن ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں والدین، معاشرے اور حکومت کو بالترتیب اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ سب سے پہلے والدین کو اپنے بچوں کے رویے اور ان کے گھر سے باہر میل جول پر نظر رکھنی چاہیے۔ اگر والدین بروقت بچوں کو ون ویلنگ سے روکیں کیونکہ سخت نگرانی کسی سخت سے سخت قانون سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ون ویلنگ کو روکنے کی دوسری ذمہ داری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہے۔ ون ویلنگ کا مسئلے سے نمٹنے کیلئے عملی پلاننگ کرے اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے اور باحیثیت ایک معاشرہ بن کر اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہم ایسی برائیوں کو جڑ سے پکڑنے سے روکیں، جو کہ معاشرے کے لیے ناسور ثابت ہوں۔